آسام: این آر سی کی حتمی فہرست میں فوج کے کئی جوانوں کے نام غائب

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مصدقہ ہندوستانی شہریوں کی تازہ فہرست کئی دہائیوں سے ریاست میں مقیم تقریباً بیس لاکھ افراد کو ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار دے دیا گیا ہے

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مصدقہ ہندوستانی شہریوں کی تازہ فہرست سے کئی دہائیوں سے ریاست  میں مقیم تقریباً بیس لاکھ افراد کو ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار دے دیا گیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی : باراپیٹا ضلع میں ایک گاؤں کو فوجی گاؤں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گاؤں میں تقریباً 200 فیملی  رہتی ہے اور یہاں کے 20 سے زیادہ جوان آرمی اور پیرا ملٹری فورس میں ہیں۔ اس گاؤں کے کئی جوانوں کے نام این آرسی حتمی فہرست  میں نہیں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ این آرسی کی فہرست 31 اگست کوجاری کی گئی  ہے۔خبررساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، ایسے ہی جوانوں میں سے  دلبر حسین کی فیملی  کے کچھ ممبروں  کا نام این آرسی میں نہیں ملا۔ دلبر حسین فوج  میں اپنی خدمات  دے رہے ہیں۔ حسین کے چھوٹے بھائی مجنور علی سی آئی ایس ایف  میں ہیں۔ این آرسی لسٹ میں دونوں کا ہی نام نہیں ہے۔ وہیں ان کے بڑے بھائی سعیدالاسلام کا نام لسٹ میں ہے جوفوج میں صوبیدار ہیں اور انہوں نے کارگل کی لڑائی بھی لڑی۔

شہریت  کے مدعے پر حسین نے کہا، ‘ہم دشمنوں سے لڑتے ہیں۔ ہم اپنی آرمی فیملی کو ترجیح  دیتے ہیں لیکن این آرسی لسٹ آنے کے بعد ہم بہت صدمےمیں  ہیں۔ وہاں ہم فوج کے جوان ہیں لیکن یہاں اپنے گھر پر ہم ہندوستانی شہریت  کے لئے لڑ رہے ہیں۔سی آئی ایس ایف  جوان مجنور علی نے بھی این آرسی معاملے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ‘تصدیق کے وقت انہوں نے کہا تھا کہ میں باہر سے یہاں آیا ہوں اور 2003 میں بنگلہ دیش  سے یہاں آیا۔ آخر یہ کیسے ممکن  ہے۔ جب میں نے سی آئی ایس ایف  جوائن کیاتھا، اس وقت  ڈی ایس پی نے میری امیدواری کی تصدیق کی تھی ۔’

کچھ ایسا ہی معاملہ جوان اجیت علی کے ساتھ ہوا ہے۔ ان کا نام پہلی اور دوسری لسٹ میں غائب تھا اور اب فائنل لسٹ میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  ان کی  پوری فیملی  پریشان ہے۔ انہوں نے کہا، ‘فائنل لسٹ کے بعد میرے والد روئے۔ میری  فیملی  کچھ نہیں کہہ رہی ہے لیکن سوچ رہی ہے کہ  انہوں نے ہمیں کیسے غیرملکی قرار دے  دیا۔ اب انہیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہم بارڈر پر دشمنوں سے لڑ پائیں گے اور اس معاملے کو نپٹا کر گھر لوٹ پائیں گے۔’

گاؤں کے سبھی لوگ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا جلد سے جلدحل نکالا جائے۔ سبھی کا ماننا ہے کہ یہ جوان گاؤں کے لیے باعث افتخار ہیں۔مقامی باشندہ  بابل خان نے کہا، ‘یہ فوجیوں کا گاؤں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ان کا نام لسٹ سے کیوں ہٹایا گیا۔ لیکن اب سرکار کو ان کے لئے کچھ کرنا چاہیے۔’

غور طلب ہے کہ آسام کی آخری این آر سی کی حتمی فہرست گزشتہ سنیچر کو صبح 10 بجے شائع کر دی گئی۔ 3.3 کروڑ درخواست گزاروں  میں سے 19 لاکھ سے زیادہ لوگ آخری فہرست سے باہر کر دئے گئے ۔اس سے پہلےجمعہ کو آسام کے وزیراعلیٰ سربانند سونووال نے کہا تھا کہ فہرست سے باہر ہونے والے لوگوں کو اپیل کرنے اور غیر ملکیوں سے متعلق ٹریبیونل میں سماعت کا موقع ملے‌گا۔ باہر کئے جانے والے لوگوں کا پورا خیال رکھا جائے‌گا تاکہ کسی کو بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مصدقہ ہندوستانی شہریوں کی تازہ فہرست  کئی دہائیوں سے ریاست  میں مقیم تقریباً بیس لاکھ افراد کو ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار دے دیا گیا ہے۔

(خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ان پٹ کے ساتھ)