آسام اسمبلی انتخاب کے بیچ این آر سی کے موضوع پر اتنی خاموشی کیوں ہے…

ایسےصوبے میں جہاں این آرسی کی وجہ سےتقریباً20 لاکھ آبادی‘اسٹیٹ لیس’ ہونے کے خطرے کا سامنا کر رہی ہو، وہاں کے سب سے اہم انتخاب میں اس بارے میں تفصیلی بحث کی عدم موجودگی سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں ۔

ایسےصوبے میں جہاں این آرسی کی وجہ سےتقریباً20 لاکھ آبادی‘اسٹیٹ لیس’ ہونے کے خطرے کا سامنا کر رہی ہو، وہاں کے سب سے اہم انتخاب میں اس بارے میں تفصیلی بحث کی عدم موجودگی  سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں ۔

اگست 2019 میں گوہاٹی کے ایک این آرسی مرکز پر اپنے دستاویز دکھاتے مقامی لوگ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اگست 2019 میں گوہاٹی کے ایک این آرسی مرکز پر اپنے دستاویز دکھاتے مقامی لوگ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

آسام میں بدھ کو دوسرے مرحلےکی ووٹنگ ہو چکی ہے اور اب صرف آخری مرحلےکی ووٹنگ باقی ہے جو چھ تاریخ کو ہوگی۔ اس سے ایک دن پہلے کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی  اور ریاستی صدررپن بورا نے اعلان کیا کہ پارٹی اگر اقتدارمیں آئی تو بی جے پی کی جانب سے‘غلط بتائی’جا رہی این آرسی کی حتمی فہرست کو منظوری  دی جائےگی اور لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کیے جائیں گے۔

شہریت اور اس میں بھی این آرسی یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن گزشتہ کئی سالوں سے آسام کے لیے ایک بڑا موضوع رہا ہے۔ سن2019 میں حتمی فہرست جاری ہونے اور پھرسرکار کے شہریت قانون (سی اےاے)لانے کے بعد سے اسے لےکر ریاست کاسیاسی  پارہ  خاصا بڑھ چکا ہے۔

حالانکہ اب گزشتہ کچھ مہینوں سےاسمبلی انتخاب کے مد نظر جاری سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم سمیت این آرسی کا یہ موضوع میڈیا میں بھی ندارد ہے۔

ایسےصوبے میں جہاں 20 لاکھ کےقریب آبادی‘اسٹیٹ لیس’ ہونے کے خطرے کا سامنا کر رہی ہو، وہاں کے سب سے اہم انتخاب میں اس بارے میں چرچہ نہ ہونا سوال کھڑے کرتا ہے۔ مقامی صحافی اور ریاست کے جان کار اس کو‘میڈیا مینجمنٹ’ کہہ رہے ہیں، ساتھ ہی ان کی مانیں تو این آرسی کے عمل کا آگے نہ بڑھنا بھی اس پر چرچہ نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

کیا تھا این آرسی کا عمل

سپریم کورٹ میں دائرکئی عرضیوں  کے بعد عدالت کےحکم پر آسام میں1951 میں ہوئےاین آر سی  کو اپ ڈیٹ کیا گیا۔ کئی سالوں تک چلی اس کی قواعد کے بعد آخر کاراس کی حتمی فہرست31 اگست 2019 کو جاری ہوئی۔

اس میں کل 33027661 لوگوں نے درخواست دی، جس میں سے حتمی فہرست میں 3 کروڑ 11 لاکھ لوگوں کا نام آیا اور 19 لاکھ سے زیادہ  لوگ اس سے باہر رہ گئے۔ ریاستی حکومت  کے مطابق، فہرست میں ان 19 لاکھ سے زیادہ  لوگوں میں 5.56 لاکھ ہندو اور 11 لاکھ مسلم تھے۔

عمل کے مطابق، جن لوگوں کے نام فہرست میں نہیں آئے ہیں وہ  ریاست میں بنے غیر ملکی عدالت (فارنرس ٹریبونل) یعنی ایف ٹی  میں60 دنوں کے اندر اپیل داخل کر سکتے ہیں، جہاں فارنرس ایکٹ 1946 اور فارنرس ٹریبونل آرڈر 1964 کے تحت ان کی شہریت کا فیصلہ ہوگا۔

یہاں ہوئے فیصلے سے بھی اگر ان کو تسلی نہیں ہوتی تو وہ  اوپری عدالتوں میں جا سکتے ہیں۔ ٹربیونل میں آگے اپیل کرنے کے عمل کی شروعات ایک رجیکشن سلپ سے ہوتی ہے، جو فہرست سے باہر رہے لوگوں کو مقامی  این آرسی مراکز کی جانب سےدی جاتی ہے۔

مثالی صورت یہ ہوتی کہ یہ سلپ حتمی فہرست آنے کے بعد جتنا جلدی ہو سکےباہر رہے لوگوں کو دی جاتی اور ان کی اپیل آگے بڑھتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

حتمی فہرست آنے کے 19 مہینے بعداسمبلی انتخاب کے بیچ مارچ کے آخری ہفتے میں وزارت داخلہ کی طرف سےریاستی حکومت کو ‘فوراً’سلپ بانٹنے کی ہدایت  دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی وزارت نے اس سلپ کو لےکر آگے بڑھنے کی میعاد 60 دن سے بڑھاکر 120 دن کر دی ہے۔

اس سے پہلے این آرسی کی حتمی فہرست جاری ہونے کے ایک سال پورے ہونے پر اس بارے میں سوال کیے جانے پر این آرسی ڈائریکٹریٹ کی طرف سے کاغذی کارروائی میں ہوئی گڑبڑیوں،اسٹاف کی کمی اور کورونا وبا/لاک ڈاؤن کو اس کا ذمہ دار بتایا تھا۔

فہرست سے باہر رہے لوگ اور رائے دہندگی کا حق

این آر سی میں نام نہ ہونے کو لےکر سب سے بڑا تذبذب ووٹرلسٹ میں نام نہ ہونے کو لےکر تھا، لیکن وزارت داخلہ نے فہرست آنے کے فوراً بعد اور اس سال جنوری مہینے میں الیکشن کمیشن نے اس بارے میں وضاحت  دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر فہرست سے باہر رہے شخص کا نام ووٹر لسٹ میں ہے، تو وہ ووٹنگ کر سکتے ہیں۔

حالانکہ لوگوں میں اب تک اس بارے میں تذبذب رہا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ بتاتی ہے کہ این آر سی کی فہرست سے باہر رہنا ووٹر ٹرن آؤٹ کو متاثر کر سکتا ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں یہی بھرم بنا ہوا ہے کہ حتمی فہرست میں نام نہ آنے کے بعد وہ ووٹر نہیں رہے ہیں۔

اے ایس تپادار گوہاٹی ہائی کورٹ میں وکیل ہیں، انہوں نے اس اخبار کو بتایا،‘جب تک ایف ٹی باہر رہے لوگوں کی شہریت  کو لےکر کوئی فیصلہ نہیں کرتا، ان کی حق رائے دہندگی محفوظ ہیں، لیکن اب بھی دیہی علاقوں میں یہ ڈر ہے کہ وہ ووٹ نہیں دے سکتے۔ مجھے کم سے کم ایسے سو کال آئے ہیں، جن کا یہی سوال تھا۔’

دی وائر کی نیشنل افیئرس ایڈیٹر سنگیتا بروآطویل عرصے سے آسام میں ہیں اور ان کا کہنا ہے، ‘چونکہ لوگوں کے ووٹ دینے کا حق  اس سے متاثر نہیں ہو رہا ہے اس لیےیہ کسی بڑے معاملے کی طرح ابھر کر نہیں آ رہا ہے۔ ان کا سوچنا ہے کہ بی جے پی سی اےاے لائےگی لیکن ایک عملی بات ہے کہ این آر سی اور سی اےاے دونوں کی کٹ آف تاریخ میں فرق ہے۔ حالانکہ سی اے اےکے خلاف زمین پر احتجاج  ہے، لیکن مختلف وجوہات  سے وہ بہت کھل کر سامنے نہیں آ رہا ہے۔ لیکن این آر سی کو لےکر کسی طرح کی بات ہونے کی وجہ اس کا لوگوں کے ووٹ دینے کے حق  کو متاثر نہ کرنا ہے۔’

اب‘صحیح’این آر سی کا وعدہ

بی جے پی نے اپنے منشور میں شہریت  قانون (سی اے اے)اور ‘صحیح این آر سی’ لانے کا وعدہ کیا ہے اور پارٹی کے قومی صدر سمیت ریاست کے تمام رہنما اس کو دہراتے نظر آ رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف کانگریس کا وعدہ ہے کہ ان کی سرکار بنتے ہی این آر سی مراکز میں کام شروع ہوگا تاکہ حتمی فہرست میں باہر رہ گئے لوگ آگے اپیل کر سکیں۔

این آر سی کی فہرست کی اشاعت کے بعد سے ہی اس پر سوال اٹھتے رہے ہیں اورری ویری فکیشن کی مانگ لگاتار اٹھائی گئی۔ سوال اٹھانے والوں لوگوں میں مقتدرہ بی جے پی سب سے آگے تھی۔

کسی وقت این آر سی سے‘گھس پیٹھیوں’کو ملک سے کھدیڑکرباہر کرنے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی این آر سی کی حتمی فہرست کی اشاعت کاوقت قریب آتے  آتے بدلتی نظر آئی۔ جون 2019 میں این آر سی کی حتمی فہرست جاری ہونے سے پہلے ایک ایکسکلوشن لسٹ جاری ہوئی تھی، جس کے بعد سے بی جے پی کی طرف سے ری ویری فکیشن کی مانگ اٹھائی جانے لگی۔

سربانند سونووال۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/@SarbanandaSonowal)

سربانند سونووال۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/@SarbanandaSonowal)

دبی آواز میں ایسا کہا جا رہا تھا کہ اس میں کافی تعداد میں بنگلہ بھاشی ہندوؤں کے نام دیکھنے کے بعد پارٹی کے رویے میں یہ تبدیلی  ہوئی  تھی۔

اسی سال جولائی میں آسام سرکار اور مرکزی حکومت نے ری ویری فکیشن کے  اس عمل کو لےکر سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی لیکن اس وقت کےاین آر سی کوآرڈنیٹر پرتیک ہجیلا کے ذریعے27 فیصدی ناموں کا پہلے ہی ری ویری فکیشن کرائے جانے کی بات کہنے کے بعد عدالت نے عرضی خارج کر دی۔

اس کے بعد 31 اگست 2019 کو حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد بی جے پی نے اس کی تردیدکرتے ہوئے کہا کہ اسے اس پر بھروسہ نہیں ہے۔ آسام کے ریاستی صدررنجیت کمار داس نے کہا کہ این آر سی کی حتمی فہرست میں سرکاری  طور پر پہلے بتائے گئے اعدادوشمارکے مقابلے باہر کیے گئے لوگوں کی بہت چھوٹی تعداد بتائی گئی ہے۔

اس کے بعد نارتھ ایسٹ  میں پارٹی کے سینئر رہنما اور ریاست کے وزیر خزانہ ہمنتا بسوا شرما نے بھی کہا تھا کہ این آر سی کی حتمی فہرست میں کئی ایسے لوگوں کے نام شامل نہیں ہیں جو 1971 سے پہلے بنگلہ دیش سے ہندوستان  آئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بات جگہ جگہ الگ مواقع پر دہرائی۔

ایک موقع پر ان کا کہنا تھا، ‘بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس پر بھروسہ نہیں ہے کیونکہ جو ہم چاہتے تھے اس کے الٹ  ہوا۔ ہم سپریم کورٹ کو بتائیں گے کہ بی جے پی اس این آر سی کو خارج کرتی ہے۔ یہ آسام کے لوگوں کی پہچان کا دستاویز نہیں ہے۔’

اب ریاست کی بی جے پی سرکار کی مانگ ہے کہ بنگلہ دیش سے متصل اضلاع سے این آر سی فہرست میں شامل 20 فیصدی اور باقی اضلاع سے 10 فیصدی ناموں کا دوبارہ ری ویری فکیشن ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اس نے عدالت میں حلف نامہ بھی داخل کیا ہے۔

اس بیچ گزشتہ دسمبر میں حتمی فہرست آنے کے ڈیڑھ سال بعد این آر سی کنوینر ہتیش شرما نے ہائی کورٹ سے کہا کہ 31 اگست، 2019 کوشائع فہرست ضمنی این آر سی ہے، جس میں 4700 نااہل نام شامل ہیں۔ حتمی فہرست آنی باقی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فہرست کے نقائص کے بارے میں انہوں نے رجسٹرار جنرل آف انڈیا (آرجےآئی)کو مطلع کیا تھا، حالانکہ ان کی جانب  سے اس بارے میں کوئی ردعمل  نہیں دیاگیا تھا۔

بی جے پی اکیلی نہیں ہے جو این آر سی کے موجودہ اعدادوشمار کوقبول نہیں کر رہی ہے۔ این آر سی سے ناخوش لوگوں کی فہرست میں آسام پبلک ورکرس (اےپی ڈبلیو)بھی شامل ہے، جو غیر سرکاری تنظیم  ہے، اورجو سپریم کورٹ کی نگرانی کے تحت آسام میں این آر سی کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے عدالت  میں عرضی گزار تھی۔

حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد اےپی ڈبلیو کا کہنا تھا کہ حتمی  این آر سی فہرست کے عمل کوناقص طریقے سے پورا کیا گیا تھا۔ ان کا مطالبہ فہرست کے سو فیصدی ری ویری فکیشن کا ہے۔

امیداور مایوسی  کے بیچ جھولتے لوگ

بی جے پی نے صحیح این آر سی لانے کا وعدہ کیا تو ہے، لیکن حتمی فہرست سے باہر رہے لوگ اس کو لےکر بہت پرامید نہیں ہیں۔ ان میں ہندو اور مسلم دونوں ہی کمیونٹی کے لوگ شامل ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ‘بے عیب این آر سی’ تیار ہو جس میں کسی بھی ہندوستانی  کی شہریت  سے سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

کام روپ ضلع کے بو کو کے پاس دکھن رنگاپانی کے عبدا لماجد ان کے والد کے نام پر بنے اسمعیل حسین ہائی سکول سے ریٹائر ہوئے ٹیچر ہیں۔ مجاہد آزادی  اسمعیل حسین کے سب سے بڑے بیٹے ماجد کا نام این آر سی کی لسٹ میں نہیں تھا، جبکہ ان کے باقی لواحقین  کو فہرست میں جگہ ملی تھی۔

ٹائمس آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کے وکیل بیٹے عبدالمنان نے کہا، ‘ہمیں وہ پارٹی چاہے جوشہریت سے متعلق مسئلےکو سلجھا سکے۔ نئی سرکار کی پہلی ترجیح  بے عیب این آر سی ہونی چاہیے اور کسی بھی ہندوستانی شہری کو اس کی وجہ سے مشکل نہیں آنی چاہیے۔ میں یہ یقین دلا سکتا ہوں کہ میرے والد ہندوستانی  ہیں اسی لیے ہم اپنی شہریت ثابت کر پائے۔’

ہو جائی ضلع کے ڈیرا پاتھر گاؤں کے 64سالہ سنیل برمن بھی ہیں۔ ان کے چار بچوں کا نام حتمی فہرست میں نہیں آیا۔ انہیں بی جے پی کے وعدے پر بھروسہ نہیں ہے۔

کامروپ ضلع میں این آر سی کی حتمی فہرست کی اشاعت  کے بعد اپنا نام چیک کرتے مقامی لوگ۔ (فوٹو پی ٹی آئی)

کامروپ ضلع میں این آر سی کی حتمی فہرست کی اشاعت  کے بعد اپنا نام چیک کرتے مقامی لوگ۔ (فوٹو پی ٹی آئی)

انڈیا ٹو ڈے سے ہوئی بات چیت میں وہ کہتے ہیں،‘ہمارے پاس سارے صحیح کاغذ ہیں۔ پچھلی کانگریس سرکار کے وقت کےشہریت  والے کاغذ بھی ہیں۔ اگر ان کی بنیاد پر ہم دو بار این آر سی کی لسٹ میں نہیں آئے تو کیا گارنٹی ہے کہ ہمیں سی اے اے کے تحت ‘قانونی’ کر دیا جائےگا؟’

برمن کے نوجوان بیٹے پنکج کا کہنا ہے کہ بی جے پی اس بارے میں سنجیدہ ر نہیں ہے، وہ صرف انتخاب جیتنے کے لیے‘صحیح’این آر سی کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘بی جے پی ہمیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ہمارے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ اگر ہم اپنی شہریت  کا ثبوت نہیں دے پائے تو کیسی زندگی ہوگی۔’

اسی علاقےکے ایک اور بنگلہ  بھاشی ہندو کمد دیب ناتھ نے اس چینل سے بات چیت میں سی اے اے کی ضرورت کو لےکر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا،‘یا تو بنگلہ دیش سے آئے تمام لوگوں کو شہریت  ملنی چاہیےیا کسی کو نہیں۔ سرکار کسی ایک کے ساتھ جانبداری  نہیں کر سکتی۔ ہمیں سی اے اے نہیں چاہیے کیونکہ ہم 1964 سے پہلے آسام میں آئے تھے، لیکن ہماری بھی شہریت ادھر میں ہے۔ سرکار کیسے اتنے سارے بنگلہ دیشی ہندوؤں کو لانے کا سوچ سکتی ہے، جب وہ اپنے ہی لوگوں کی شہریت کی حفاظت  نہیں کر سکتی!’

حالانکہ کچھ کو مقتدرہ بی جے پی کے وعدوں پر بھروسہ بھی ہے۔ ڈیرا پاتھر گاؤں میں دکان چلانے والے کنو دیب ناتھ اور ان کے گھرکے چھہ ممبروں کے نام این آر سی کی حتمی فہرست میں نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں،‘بی جے پی کہہ رہی ہے کہ ہمیں فکرکرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ہمیں سی اے اے کے ذریعے قانونی  کر دےگی اورصحیح این آر سی لائےگی۔ بی جے پی نے آسام کی ترقی کے لیے کام کیا ہے اس لیے مجھے ان پر بھروسہ ہے۔’

اسی علاقے کے رنجن بورا کا بھی کہنا ہے کہ بی جے پی کے علاوہ کسی بھی پارٹی کانگریس یا اےآئی یوڈی ایف نے ایسی(صحیح این آر سی لانےکی ) بات نہیں کہی ہے اس لیے انہیں بی جے پی پر تھوڑا بھروسہ ہے۔

بنگلہ بھاشی ہندوؤں کے علاوہ آسام کے کئی آدی واسی برادریوں  میں بھی این آر سی کی حتمی فہرست میں نام نہ آنے سے ڈٹینشن سینٹر بھیجے جانے کا ڈر ہے اورصحیح این آر سی کاانتخابی  وعدہ ان کے ڈر کو کم نہیں کر سکا ہے۔

ناگاؤں  ضلع میں ہجونگ برادری  سے آنے والی جنمونی ہجونگ  انڈیا ٹو ڈے سے ہوئی بات چیت میں بی جے پی کے ‘صحیح این آر سی’ کے وعدے کو لےکر بھروسہ کا اظہارنہیں کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں،‘میراپورا کنبہ بنا کچھ کھائے پیے بیس گھنٹوں تک قطاروں میں کھڑا ہوا ہے۔ لیکن سب صحیح دستاویز دکھانے کے بعد بھی ہمارا نام لسٹ میں نہیں آیا۔ ہمیں یقین نہیں ہے کہ یہ اگلی این آر سی میں بھی ہوگا۔ تھوڑا سا ڈر بھی لگ رہا ہے کہ پچھلی بار نہیں آیا تو اب کیا ہوگا۔’

اسی گاؤں کے ہیلش ہجونگ کسان ہے اور ان کا، ان کی بیوی اور تین بچوں میں سے کسی کا نام بھی فائنل لسٹ میں نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے، ‘میرے دادا پردادا اسی زمین پر فصل اگاتے تھے، ہمارے پاس سب کاغذ ہیں۔ میرے بچہ ڈرے ہوئے ہیں کہ اگر ہم شہریت ثابت نہیں کر پائے تو ہمیں ڈٹینشن سینٹر بھیج دیا جائےگا۔’