جنسی استحصال معاملے میں فوج کے میجر جنرل برخاست

فوج کی ایک خاتون افسر نے دسمبر 2016 میں ان سروس میجر جنرل کے خلاف تحریری شکایت کی تھی۔ جسوال اس وقت ناگالینڈ میں آسام رائفلس میں بطور انسپکٹر جنرل تعینات تھے۔

فوج کی ایک خاتون افسر نے دسمبر 2016 میں ان سروس میجر جنرل کے خلاف تحریری شکایت کی تھی۔ جسوال اس وقت ناگالینڈ میں آسام رائفلس میں بطور انسپکٹر جنرل تعینات تھے۔

علامتی تصویر(فوٹو : پی ٹی آئی)

علامتی تصویر(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: انڈین آرمی کے  میجر جنرل کو ایک خاتون افسر کے مبینہ جنسی استحصال کے معاملے میں جمعہ کو برخاست کر دیا گیا۔فوجی ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ میجر جنرل آر ایس جسوال کو گزشتہ سال دسمبر میں جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سنائی گئی سزا کو آرمی چیف جنرل بپن راوت نے منظوری دے دی۔

چنڈی مندر کے مغربی فوجی کمان کے تحت آنے والے جنرل کورٹ مارشل (جی سی ایم) نے آئی پی سی کی دفعہ 354 اے (جنسی استحصال) اور فوجی قانون کی دفعہ 45 (ناقابل قبول رویہ) کے تحت جسوال کو قصوروار پانے کے بعد اس کو برخاست کئے جانے کی سفارش کی تھی۔ایک ذرائع نے بتایا، ‘ آرمی چیف جنرل بپن راوت نے جی سی ایم کے ذریعے میجر جنرل کو دی گئی سزا کی تصدیق کر دی ہے۔ ‘

ذرائع نے بتایا کہ جسوال کو انضباطی کارروائی کے تحت امبالا انڈر ٹو کور کے فوجی دستہ کے ساتھ جوڑا گیا تھا اور اس کو سروس سے برخاست کئے جانے کے بارے میں اطلاع دے دی گئی ہے۔جی سی ایم پروسیس کے دوران جسوال نے اپنے خلاف لگے الزامات سے انکار کیا تھا اور الزام لگایا کہ دسمبر 2016 میں آرمی چیف کے طور پر جنرل راوت کی تقرری کے بعد وہ فوجی گروپ کے جھگڑے کا شکار ہوا ہے۔

جی سی ایم کی صدارت لیفٹننٹ جنرل نے کی اور اس میں تقریباً چھ فوجی افسر ممبر تھے۔فوج کے جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ کی خاتون افسر نے دسمبر 2016 میں جسوال کے خلاف تحریری شکایت کی تھی جس کے بعد جی سی ایم کو معاملے کی تفتیش کرنے کے حکم دئے گئے تھے۔جسوال اس وقت ناگالینڈ میں آسام رائفلس میں بطور انسپیکٹر جنرل تعینات تھے جب اس کے خلاف یہ الزام سامنے آئے تھے۔

ہندوستان ٹائمس کے مطابق، آرمی چیف کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے، میجر جنرل کے وکیل آنند کمار نے کہا، ‘ سزا کی تصدیق اور اس کی تشہیر غیر قانونی ہے کیونکہ، اے ایف ٹی دہلی کے ذریعے پاس کیے گئے احکام کے باوجود، میجر جنرل کو آج تک کورٹ-مارشل کی کارروائی کی کاپی نہیں دی گئی ہے تاکہ وہ ایک پہلے سے مصدقہ  عرضی داخل کر سکیں۔ ‘

انہوں نے کہا، ‘ ان کی از سر نو غورکی عرضی بھی زیر التوا ہے اور اس کے باوجود جنرل راوت نے سزا کی تصدیق کی، جن کو ہمارے قانونی نوٹس کے ذریعے اے ایف ٹی کے حکم کے بارے میں بھی مطلع کرایا تھا۔ہم اس تصدیق کے حکم کو چیلنج کریں گے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)