اترپردیش: ایس آئی آر کے دوران کام کے مبینہ دباؤ کی وجہ سے دو دن میں تین بی ایل او کی موت

اتر پردیش  کے گونڈا، فتح پور اور بریلی میں ایس آئی آرکےکام میں مصروف تین بی ایل اوکی مبینہ طور پر کام کے زیادہ بوجھ کی وجہ سے موت کی خبر سامنے آئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ان معاملوں میں کسی بھی طرح کے دباؤ کی تردید کی ہے،وہیں الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اتر پردیش  کے گونڈا، فتح پور اور بریلی میں ایس آئی آرکےکام میں مصروف تین بی ایل اوکی مبینہ طور پر کام کے زیادہ بوجھ کی وجہ سے موت کی خبر سامنے آئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ان معاملوں میں کسی بھی طرح کے دباؤ کی تردید کی ہے،وہیں الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اتر پردیش کے سرکاری ملازم سدھیر کمار اور وپن یادو کی بہن (بائیں) اور بھائی، جنہوں نےایس آئی آر کے دوران خودکشی کر لی۔ پس منظر میں کیرالہ میں ایس آئی آرکے دوران کام کرنے والے بی ایل اوکی علامتی تصویر ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

وارانسی: ‘ایس ڈی ایم، بی ڈی او اور اکاؤنٹنٹ مجھ پر دباؤ ڈال رہے تھے۔’ وپن یادو کا آخری  وقت میں موت سے قبل دیا یہ بیان کیمرے میں قید ہوگیا سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔

اتر پردیش کے گونڈا میں تعینات ایک پرائمری اسکول ٹیچر وپن یادو نے 25 نومبر کو زہر کھا کر خودکشی کر لی۔ خودکشی سے پہلے دیا گیاان  کا بیان کیمرے میں قید ہو گیا ۔ یادو الیکشن کمیشن کی جانب سےووٹر لسٹ کی جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)کے آبزرور تھے۔

یادو کے رشتہ دار پرتیک نے دعویٰ کیا کہ سینئر عہدیدار یادو پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران دیگر پسماندہ طبقے (او بی سی) ووٹرز کے ناموں کو فہرست سے ہٹادیں۔

پرتک نے کہا،’ایس ڈی ایم، لیکھ پال اور بی ڈی او (بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر) ان پر او بی سی ووٹوں کو ہٹانے اور دوسرے نام شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ وہ انہیں معطل کرنے اور پولیس کارروائی کی دھمکی بھی دے رہے تھے۔’

قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش میں ایک ‘لیکھ پال’ ریاستی حکومت کا ایک ریونیو افسر ہوتاہے جس کا کام زمین کے ریکارڈ کو رکھنا ہے۔

اس سلسلے میں گونڈا کی ڈی ایم پرینکا نرنجن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ‘اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ کسی بھی بی ایل او کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی برادری یا کاسٹ گروپ کے ووٹروں کے نام شامل نہ کریں۔’

ڈی ایم نرنجن نے کہا کہ یادو کی موت کی تحقیقات کے لیے تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

کئی ریاستوں سے بی ایل او کی موت اور خودکشی کی خبریں سامنے آئی ہیں

واضح ہو کہ وپن ان متعدد بی ایل او میں سے ایک ہیں، جنہوں نے کئی ریاستوں میں 4 نومبر سے شروع ہوئے ایس آئی آر کے دوران اپنی جان گنوائی یا خودکشی کی۔

اسی طرح ایک اور معاملے میں اسی دن یعنی 25 نومبر کو ریاست کے فتح پور ضلع میں گونڈہ سے تقریباً 220 کلومیٹر دور، ایک بی ایل او نے اپنی شادی سے ایک دن پہلے خودکشی کر لی ۔

اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف سدھیر کمار نے مبینہ طور پر 22 نومبر کو تحصیل احاطے میں منعقد ایس آئی آر میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا اور ایک سینئر اہلکار نے سرزنش بھی کی تھی۔

کمار کی بہن روشنی نے دعویٰ کیا کہ ایک افسر کا اس سلسلے میں ان کے گھر آنا انتہائی توہین آمیز تھا۔

روشنی نے گونڈا میں مقامی صحافیوں کو بتایا،’شادی سے ایک دن پہلے ایک افسر ہمارے گھر آئے اور سدھیر کو کام پر نہ آنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی۔ اس کے بعدسدھیر اندر گئے اور اپنے کمرے کو بند کر لیا۔’

معلوم ہو کہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات اور کیرالہ سمیت کئی ریاستوں سے  بی ایل او کے کام کے دباؤ، معطلی اور پولیس کارروائی کی دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے متعدد معاملے سامنے آئے ہیں۔

خبروں میں اتر پردیش میں ایس آئی آر کارکنوں کی چار، مدھیہ پردیش میں آٹھ اور راجستھان میں چار کی موت درج کی گئی ہے۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے ان اموات کو ایس آئی آر کا نتیجہ نہیں مانا ہے۔

وہیں، بریلی ضلع کے 47 سالہ پرائمری اسکول ٹیچر یوگیش گنگوار، جو ایس آئی آر ڈیوٹی پر بی ایل او کے طور پر تعینات تھے، 26 نومبر کو بے ہوش ہوگئے اور بعد میں ان کی موت ہوگئی۔

یوگیش کی بیوی کا اس سال ستمبر میں انتقال ہو گیا تھا۔ گنگوار کے بھائی سرویش نے بتایا،’وہ رات گئے تک کام کرتے تھے اور پھر صبح جلدی شروع کر دیتے تھے۔ انہیں اچھی طرح نیند نہیں آرہی تھی۔ ان کی بیوی کا حال ہی میں انتقال ہو گیا تھا، اور وہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے اکیلے رہ گئے تھے۔ سینئر افسران کی طرف سے ان کی مسلسل سرزنش کی جا رہی تھی۔’

کام کے دباؤ کے دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے بریلی صدر کے ایس ڈی ایم پرمود کمار نے کہا،’ان کا کام بخوبی چل رہا تھا اور ان کی مدد کے لیے اضافی اساتذہ کو تعینات کیا گیا تھا۔ کوئی بھی ان پر دباؤ نہیں ڈال رہا تھا۔’

متاثرہ خاندانوں کے مطابق، بی ایل او کے خودکشی کا انتہائی قدم اٹھانے کے تقریباً تمام واقعات میں ‘کام کا دباؤ’، ‘معطل کی دھمکی اور پولیس کارروائی’ عام عوامل تھے۔

یہ دباؤ کیوں؟

پنچایت سکریٹری، تحصیلدار، اسسٹنٹ ٹیچرز، اور آنگن واڑی کارکنان جیسے سب سے کم تنخواہ پانے والے سرکاری اہلکار،انتخابی موسم میں بی ایل او کے طور پر تعینات کیے جانے والوں میں شامل ہیں۔ تاہم، بہت سے لوگوں نے موجودہ ایس آئی آر کے عمل میں انتہائی دباؤ کی شکایت کی ہے۔

اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں فی الحال ایک پرائمری اسکول ٹیچر نے جو بی ایل او کے طور پر کام کر رہے ہیں، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی وائر سے بات کی۔

بی ایل او نے بتایا، ‘اس پورے عمل کے لیے تکنیکی مہارت کی ضرورت ہے، اور بی ایل اونے کوئی تربیت حاصل نہیں کی ہے۔ کچھ اساتذہ اور آنگن واڑی کارکنان اب بھی کی پیڈ موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور اب انہیں سینکڑوں ووٹروں کا ڈیٹا موبائل ایپ پر اپ لوڈ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔’

انہوں نے مزید کہا،’ہر بی ایل اوکو فارم تقسیم کرنے، انہیں بھروانے، انہیں جمع کرنے، اور ایپ پر ڈیٹا کو ڈیجیٹائز کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ ان تمام مسائل کے ساتھ، ہمارے سپروائزر ہم پر ناقابل عمل ڈیڈ لائن کو پورا کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔’

جہاں الیکشن کمیشن نے بہار میں ایس آئی آر کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر سراہا ہے، وہیں ملک بھر میں اگلے مرحلے کی پولنگ میں ہنگامہ خیز آغاز دیکھنے میں آیا ہے، کچھ ناقدین نے اسے تباہی قرار دے  رہے ہیں۔

بلندشہر کے استاد نے مزید کہا،’کسی بھی بی ایل اوکے لیے چھٹی لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہاں تک کہ کسی میڈیکل ایمرجنسی یا خاندان میں موت کی صورت میں بھی۔ یہ صورتحال کووڈ19 کے دوران ہونے والے گرام پنچایت انتخابات کی طرح ہے، جس میں کئی سرکاری افسران کی بے وقت موت ہو گئی تھی۔ موجودہ عمل میں  بی ایل او پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔’

غور طلب ہے کہ الیکشن کمیشن نے بی ایل او کی ہلاکت پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رِنوا کو ریاست میں چار بی ایل اوز کی موت پر تبصرہ کرنے کے لیے کیے گئے کال کا جواب نہیں ملا۔ ان کا بیان ملنے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

اس دوران سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے مرنے والے بی ایل او کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔

یادو نے ایس پر ایک پوسٹ میں کہا،’یہ الیکشن کمیشن سے براہ راست اپیل ہے کہ اتر پردیش میں ایس آئی آر کے دوران جان گنوانے والوں کو 1 کروڑ روپے کا معاوضہ فراہم کیا جائے۔ ہم ہر مرنے والے کے زیر کفالت افراد کو مالی مدد فراہم کرنے کا بھی وعدہ کرتے ہیں۔’

اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں—دوست یا رشتہ دار—جو ذہنی طور پر پریشان ہیں اور خودکشی کا خطرہ ہے، تو براہ کرم ان سے رابطہ کریں۔ سوسائیڈ پریوینشن انڈیا فاؤنڈیشن کے پاس ان  فون نمبروں کی ایک فہرست ہے  جن پر کال کر کے وہ رازداری سے بات کرسکتے ہیں ۔ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے ذریعے چلائی جانے والی ایک مشاورتی خدمت ، آئی کال نےملک بھر کے ڈاکٹروں / تھراپسٹ کی ایک کراؤڈ سورسڈ فہرست تیار کی ہے۔ آپ انہیں نزدیکی ہسپتال بھی لے جا  سکتے ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔