اکیس ایک سو بائیس: خالد جاوید اپنے ادبی سفر کے آغاز ہی سے شہر آشوب لکھ رہے ہیں

خالد جاوید کا ادب اردو ادب میں بالکل نئے بیانیے، نئے زاویے اور نئی طرزِ تحریر کا موجد ہے۔ وہ اپنے ادبی سفر کے آغاز سے ہی ایک شہر آشوب  لکھ رہے ہیں، اردو ادب میں  ڈسٹوپیا کی حکایت نا تمام لکھ رہے ہیں۔

خالد جاوید کا ادب اردو ادب میں بالکل نئے بیانیے، نئے زاویے اور نئی طرزِ تحریر کا موجد ہے۔ وہ اپنے ادبی سفر کے آغاز سے ہی ایک شہر آشوب  لکھ رہے ہیں، اردو ادب میں  ڈسٹوپیا کی حکایت نا تمام لکھ رہے ہیں۔

خالد جاوید اور ان کے نئے ناول اِکیس ایک سو بائیس کا سرورق

’اکیس ایک سو  بائیس‘کی اشاعت کے بعد  خالد  جاوید ایک بار پھر اسی مقام پہ کھڑے نظر آتے ہیں جہاں وہ آج سےتقریباًپندرہ   سالوں  پہلے ’آخری دعوت‘ اور’موت کی کتاب‘  کی اشاعت کے بعد کے دور میں تھے۔ یعنی   کہ ان کے  ادب کو اس وقت ’بیماری ‘،’آزاری ‘،’حزن ‘،’ ناامیدی‘   وغیرہ ، وغیرہ کا متبادل  قرار د یا  گیا تھا۔

اردو ادبی  دنیا کے ایک دھڑے نے انہیں کم و بیش مسترد کر ڈالا  تھا اور  ’ خالد جاویدی ادب‘کی مخالفت میں  مضامین کے علاوہ،  ایک رسالے نے  خصوصی نمبر  بھی شائع  کرڈالا  تھا۔  دوسری طرف  حزب مخالف کی طرف سے ان کی تعریف و تحسین میں بھی ایک خصوصی شمار ہ نکالا گیا تھا۔

بدقسمتی سے میرا تعلق قارئین کی اس  قبیل سے  تھا، جنہیں خالد جاوید کی تمام تر’یاسیت‘،  اورمبینہ  بیماری، آ زاری اور نامرادی   وغیرہ کے باوجود ان کاادب قریب قریب روز اول یعنی ان کے افسانے’ آخری دعوت‘  کی  قرأت کے بعد سے ہی  حد درجہ  مرغوب تھا۔ بلکہ’ آخری دعوت ‘پڑھنے کے بعد  سب سے پہلے میں نے اپنے’اردو داں‘ دوست   خورشید اکرم سے فون پر دریافت کیا  تھاکہ’یار، یہ خالد  جاوید کیا چیز ہے؟‘  انہوں نے مختصر لیکن جامع جواب دیا تھا کہ’ ہاں ،وہ ایک چیز ہے‘۔

وہ دن  ہے اور آج کا دن کہ ہمیں خالد جاوید کی  تقریباً ہر تخلیق  سوائے’ ایک خنجر پانی میں‘ اتنی ہی دل پذیر ہے  جتنی  کہ پہلی قرأت   کے وقت تھی بلکہ وقت کے ساتھ اس کی قدرو قیمت میں اضافہ ہی ہواہے۔

اگرچہ  ذاتی سطح  پر میری قباحت یہ تھی کہ نظریاتی    طور پر مجھے ان کی تخلیقات کے بعض  معروضات سے اختلاف تھا۔  کیونکہ میری  کچی پکی’ ترقی پسندی‘اور خالد جاوید کی وجودیت پسندی اور   پوسٹ ماڈرنزم  کی پیروی   میں بظاہرایک  بُعد تھا جسے پار کرنا میرے لیے مشکل تھا۔

لیکن  خالد جاوید کے فن کا جادو ایسا تھا  کہ ان تحدیدات کے  باوجو د میں اس کا  قائل ، مداح اور  پرستار  رہا۔

جہان تک دنیائےاردو میں’خالد جاوید ی ادب‘کی ابتدائی  مخالفت کا  سوال ہے  تو ذاتی مناقشات  اور پیشہ ورانہ رقابتوں  سے الگ  اس کا بنیادی سبب یہ بھی  تھا کہ یہ ادب اس قدر نا مانوس   اور   اپنے پیش روؤں سے اس قدر جدا،  اوریجنل اور مختلف تھا  کہ   محض اسی  بنیاد پر  یعنی  اس کی  ندرت ، گھَنَتو (ڈینسٹی)،  اسلوب اور متن  کے سبب اس کی مخالفت ہونی  ہی تھی۔

مجھے یاد ہے کہ پاکستان کے ایک سینئر ادیب نے  خالد جاوید  کے ’ڈارک‘ ادب سے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال بھی  کیا تھا کہ ا تنی کم عمری میں انہوں نےایسا غم بھوگ  لیا کہ اس شدت سے غم و اندوہ کی باتیں  کیاکرتے ہیں۔

ان کے  اس نسبتاً معتدل  رویے کے باوجود عمومی طور پر معترضین کے طرف سےسخت اعتراضات ہوئے اور  مخالفت  کی   شدت کے پیش نظر   یہ بات بہت  پہلے ہی  واضح ہو چکی تھی کہ  فیض کی مانند خالد جاوید نے بھی اپنی   ادبی زندگی میں، خصوصاً ناقدین اردو کی صفوں میں  معاونین  سے زیادہ مخالفین پیدا کیے ہیں اور میں نے اس خیال  کا تحریری اظہار’شب خون ‘میں شائع  اپنے خط میں بھی کیا تھا۔


یہ بھی پڑھیں:اکیس ایک سو بائیس: خالد جاوید اپنی ’پیروڈی‘ کر رہے ہیں؟


اب ایک بار  پھر یعنی ’اکیس  ایک سو بائیس‘   کی اشاعت کے بعد، صور تحال  پرانے دنوں کی یاد تازہ کر  رہی ہے۔  اور وہی سارے اعتراضات جو برسوں  پہلے  لگائے گئے تھے  ایک بار پھرنئےسرےسے  عائد کیے جا رہے  ہیں ۔

اشعر نجمی نے  ’دی وائر‘ میں شائع  اپنے تازہ مضمون میں  خالد جاوید  کے ادب پر   اپنے خیالات کا اظہار   کرتے ہوئے  اسے’  پیروڈی‘،’ڈیجیٹل ریسائکلنگ‘،’تخلیقی بانجھ پن‘،’تعفن،غلاظت، اور سڑاند‘،’گوشت، بد بو  اور لجلجے پن‘،’واحد متکلم کی اکتا دینے والی خود کلامی‘،’فلسفیانہ بھنگ‘، ’وجودی بے زاری‘جیسے القابات سے  نوازا ہے اگرچہ  موصوف نے اپنے تبصرے میں  زیر تبصرہ کتاب  سے اپنے نقطہ ہائے نظر کی صراحت میں کوئی حوالہ پیش کرنے کی ضرورت  نہیں محسوس کی۔


یہ بھی پڑھیں: موت کی پانچویں کتاب کا پیش لفظ


اسی درمیان  مصنف نے  ایک اضافی بد نامی    اپنے سر لیتے ہوئے اپنی ہر کتاب کو   موت کی کتاب قرار  دیا ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان  کےذکر محض  سے ہی موت، موت کی صدائے آفریں بلند ہوتی ہے اور  ہر کس و ناکس کو خالد جاوید کے ادب میں  اور کچھ نظر آئے یا نہ آئے ، کم ازکم موت تو صاف ،صاف اور نتھری ،نتھری شکل میں نظر  آجاتی ہے۔

اس  کارخیر میں  معاونین، و مخالفین ، نو واردان ادب اور   جید  مدیران گرامی  سبھی شامل ہیں۔ کچھ ایسا گمان ہوتا ہے کہ  موت کے سوا   خالد جاوید کے ادب میں  اور کچھ موجود ہی نہیں۔   سہل نگاری  کی اس سے بہتر مثال ڈھونڈنا مشکل ہے ۔

اگرچہ کچھ عجب نہیں  کہ مصنف کی  ابتدائی  نگارشات میں موت کے ذکر پر  جس  قدر  واویلا مچایا گیا تھا اس کے باعث زچ ہو کر  مصنف نے  ضد میں  اپنی ہر تخلیق پر موت کی کتاب کا عنوان دے ڈالا ہو۔کچھ اسی طور  جیساکہ ایک شاعر نے کہا؛

I have heard so much about May first

That I only write about May Second

موت کے ذکر سے یکایک ایک بات یاد آگئی۔ روسی شاعرسرگیئی یسینن نےجوا یساڈورا ڈنکن   کے عاشق اور شوہر   بھی تھے اور اپنی  خوب روئی اور  مخصوص قسم کی شاعری کے لیے بہت مشہور و مقبول تھے ، اپنی خود کشی سے  پہلے یہ  مصرع لکھا تھا  جو   زبان زد خاص و  عام    تھا    جس کا انگریزی ترجمہ کچھ  یوں ہے؛

In this life, there’s nothing new in dying

Nothing new, of course, in living either

   مایا کوسکی کو یہ خیال کافی  خطر ناک  اور  نیہلسٹک لگا اور انہوں نے  اس خیال  کی رد میں ایک نظم لکھی اور یسینن کا  جواب  ان لفظوں میں دیا تھا؛

 In this life, there’s nothing hard in dying

Making life worth living is much harder

لیکن  ادب کا معاملہ کچھ  ایسا ہے کہ موت اور زندگی کے اس ذکر میں خیال کی صحت اور صحیح، غلط کی تفہیم سے پرے شاعری کی سطح پر  سرخروئی    بہر حال  یسینن کو ہی نصیب  ہوئی۔


یہ بھی پڑھیں: اکیس ایک سو بائیس: وقت، موت اور جہنم کا سفر


  میں نے   جہاں تک خالد جاوید کو  پڑھا اور  بزعم خود سمجھا ہے تو عرض کرنے کی اجازت دیجیے کہ  خالد  جاوید اپنے ادبی سفر کے آغاز سے ہی ایک  شہر آشوب  لکھ رہے  ہیں، اردو ادب میں  ڈسٹوپیا کی حکایت نا تمام لکھ رہے ہیں۔ اور یہ ڈسٹوپیا کبھی  ایک پاگل، ہذیان زدہ  شخص  کے گرد  پُرتشدد بیانیہ کا موجب  بنتا ہے ۔

کبھی  کراہیت کی  جما لیات،کبھی  تہذیبی  لا یعنیت ، کبھی سولائزیشنل ڈسپانڈنسی / تہذیبی مایوسی کا باعث اور بے اطمینانی کا مظہر، کبھی  بھوک،  پیشاب  کی جبلت حیوانی  اور ان سے منسلک  انسانی  بحران کا نقیب ، کبھی  وبا زدہ شہر کا نوحہ، کبھی فرد واحد کی  بے وقعتی اور کبھی دنیا کے اس جہنم  کی تجسیم کرتی نظر آتی  ہے    جس  سے جہنم بھی  پناہ مانگتی ہے۔

کبھی انسانوں اور انسانی تہذیب  کی قلاشی اور کبھی انسانوں  کے  منصب اعلیٰ ،  مرجع  کائنات اور  اشرف ا لمخلوقات ہونے  کے دعوؤں کی نفی اور کبھی  انسانی تہذیب و تمدن  کی مدقوقات سے شدید اختلاف  اور اس کے تئیں ایک تحقیر آمیز  رویے اور تنفر  کی شکل میں  جا بہ جا اور بار بار ظاہر ہوتا ہے۔

کچھ عجب نہیں کہ ان کی تما تر  تخلیقات میں موریوں سے بہتے ہوئے پیپ، خون اور فضلے کا ذکر آتا ہے۔ نل سے بہتے ہوئے تعفن آمیز پیلے،بدبو دار پانی کا ذکرآتا ہے۔

ایک دوسرے کو نوچتے ہوئے مرد و زن کا ذکر آتا ہے،ایک  بے یار و مددگار،، بے وقعت انسان ، کم صورت  اور کم حیثیت کسبیاں نظر آتی ہیں، ایک عکس نا آفریدہ نظر آتا ہے ،   مذبح اور قبرستان    اور ان کے اوپر اُڑتے ہوے چیل کوؤں کاذکر ملتا ہے   اور شہر کی سرحد  سے دور ایک مقام سے  نکلتا  ہوا   پُر اسرار،  گندا پانی بہتا ہے  جو پورے شہر کو تباہ کر ڈالتا ہے ۔

یہ پُر اسرار کالا پانی کیا ہے اس کا منبع و مخزن کیا ہے وہ اس کی وضاحت نہیں کرتے لیکن اس کی ہیبت ناکی کے متعلق قاری کو کسی مغالطے میں بھی نہیں  رکھتے۔

ہاں  یہ ضرور ہے کہ اسی درمیان موت، زندگی  اور   شیطان  سے ان کا مکالمہ جاری رہتا ہے۔  لیکن ان کی نگارشات میں  صرف موت، موت اور موت کو دیکھنے کی یہ روش   اس قدر عام  ،  اس قدر سہل اور آسان ہو چکی ہے  کہ ہر شخص  بغیر کسی قباحت اور قیل و قال  کے  نہات تن آسانی سے ایک ہی  نتیجے تک  پہنچتا ہے جس کا نام موت ہے۔

یہ ایسی سہل  نگار ی ہے جس کی مثال  مشکل ہے ، لہذا  معتقدین   و  مخالفین دونوں کو  یکساں سہولت میسر ہے اور ہر شخص  اور اپنی اپنی پسند ترجیحات اور جذباتی عوامل کے تحت  انہیں پسند و   ناپسند اور  رد وقبول  کے عمل میں مصروف ہے  اور بار بار موت، موت کا ورد کیےجاتا ہے۔

لیکن اصل بات جس کی طرف لوگ  توجہ نہیں دیتے کہ  وہ موت ، زندگی،  پیپ،  خون،  وغیرہ وغیرہ کو کہاں  سےلے لاتے ہیں ،کیوں لاتے ہیں ،ان سے کون سا کام لیتے  ہیں اور  اس کے تحت جس  ادب  کی تخلیق کرتے ہیں  وہ  کس  مقام  اور کس درجے کا حامل  ہے۔

ظاہر ہے کہ آپ کسی لکھاری سے یہ  توقع نہیں کر سکتے کہ وہ موت پر نہ لکھے، بیماری ،  یاسیت، نا امیدی  پر نہ  لکھے، پوسٹ ماڈرنسٹ، ایگزیسٹینشلسٹ، سوشلسٹک ادب پر  پر نہ لکھے مثلا آپ ہر گز یہ  توقع نہیں کر سکتے کہ  اقبال  اسلام پر نہ لکھیں ،منٹو رنڈیوں اور  فسادات  پر نہ لکھے،  دانتے عیسائیت  پر  نہ لکھے، بریخت اور پابلو نیرودا   سوشلسٹ ادب پر   نہ لکھے۔

موضوع کے تعین کا یہ حق کسی قاری کو  نہیں پہنچتا  اور مصنف بلا شرکت غیرے  اس استحقاق کا حامل ہے کہ اس کا موضوع کیا ہو،کتنی  دفعہ ہو اور کس تواتر سے ہو۔قاری کو  صرف اور صرف یہ حق حاصل ہے اس بات کی پرکھ کرے کہ مصنف  نے  جو کچھ بھی لکھا ہے کس پایہ اور کس درجے کا ہے، کیا  اس نے اپنے موضوع کی تر سیل  میں فنی  و ادبی   لوازمات کی پاسداری کی یا نہیں۔اسے  اس کے  فنی اور ادبی   معیار تک پہنچا یا یا نہیں۔

انجام کار مجھے یہ  کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ خالد جاوید  کا ادب، اپنے موضوع  اور کسی شخصی  آرا سے قطع نظر،  اس معیار پہ پورا اور کھر ا اترتا ہے بلکہ اردو ادب میں ایک   یکسر   نئےبیا نیے ، نئےزاویے  اور نئی  طرز تحریر کا موجدہے  اور ہم اہل اردو اس پر بجا طور پر  مفتخر ہونے  کا حق رکھتے ہیں۔