اروند کیجریوال نے کہا –دہلی میں انقلاب ہوا، پنجاب میں ہوا اور اب پورے ملک میں پہنچے گا

01:11 PM Mar 12, 2022 | دی وائر اسٹاف

گزشتہ دنوں عام آدمی پارٹی کے سابق رہنما کمار وشواس نے الزام لگایا تھا کہ اروند کیجریوال ریاست کے وزیر اعلیٰ بننے کے لیے پنجاب میں علیحدگی پسندوں کی حمایت لینے کے لیے تیار ہیں۔ اس الزام کا حوالہ دیتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ اس مینڈیٹ سے عوام نے صاف کر دیا ہے کہ کیجریوال ‘دہشت گرد’ نہیں، بلکہ ملک کا سچاسپوت اور محب وطن ہے۔

عآپ لیڈر اروند کیجریوال اور منیش سسودیا دہلی واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

نئی دہلی: پنجاب اسمبلی انتخاب میں ملی زبردست اکثریت سے پرجوش عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جمعرات کو کہا کہ یہ ‘انقلاب’ جو پنجاب میں آیا ہے اب پورے ملک میں پہنچے گا۔

گزشتہ دنوں عآپ کے سابق لیڈر کمار وشواس نے الزام لگایا تھا کہ کیجریوال ریاست کے وزیر اعلیٰ بننے کے لیے پنجاب میں علیحدگی پسند عناصر کی حمایت لینے کے لیے تیار ہیں۔ اس الزام کا حوالہ دیتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ اس مینڈیٹ سے عوام نے واضح کر دیا ہے کہ کیجریوال ‘دہشت گرد’ نہیں ہے، بلکہ ملک کا سچا سپوت  اور محب وطن ہے۔

عآپ نے 117 رکنی اسمبلی میں زبردست اکثریت کے ساتھ 92 سیٹوں پر جیت درج کی  ہے۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ کیجریوال نے پنجاب میں عآپ کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار بھگونت مان کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں اپنا ‘چھوٹا بھائی’ بتایا۔

دہلی واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں عآپ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، پنجاب کے لوگوں نے پارٹی کو بڑا مینڈیٹ دیا ہے، حالانکہ حریفوں کی طرف سے انہیں انتخاب جیتنے سے روکنے کے لیے ‘بڑی سازشیں’ رچی گئیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، کانگریس اور دیگر جماعتوں نے وشواس کے الزام پر دہلی کے وزیر اعلی سے سوال کیا تھا۔ حالاں کہ ،کیجریوال نے اس الزام کو ‘مضحکہ خیز’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھااور کہا تھاکہ انہیں’دنیا کا سب سے پیارا دہشت گرد’ ہونا چاہیےجو اسکول اور ہسپتال بناتا ہے۔

کیجریوال نے کہا، سب نے مل کر کہا کہ کیجریوال دہشت گرد ہے۔ آج ان (انتخابی) نتائج کے ذریعے لوگوں نے کہا ہے کہ کیجریوال دہشت گرد نہیں ہیں، کیجریوال ہندوستان کے سچے فرزند ہیں، ایک سچے محب وطن ہیں۔ عوام نے نتائج کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کیجریوال نہیں بلکہ آپ سب ملک کو لوٹنے والے دہشت گرد ہیں۔

انہوں نے پنجاب کے رائے دہندگان کو اسمبلی انتخابات میں عآپ کی ‘زبردست فتح’ کی قیادت کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ انہوں نے ‘سیاسی قدآوروں’ کودھول چٹادی۔

اپنے قومی عزائم  کا اشارہ دیتے ہوئے کیجریوال نے کہا، پہلے انقلاب دہلی میں ہوا، اب انقلاب پنجاب میں ہوا اور یہ انقلاب پورے ملک میں پہنچے گا۔

انہوں نے کہا، ہم سب کو عہد کرنا ہوگا کہ ہم ایک نیا ہندوستان بنائیں گے، ایسا ہندوستان جہاں سب ایک دوسرے سے محبت کریں گے اور نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی، ایسا ہندوستان جہاں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا، جہاں ہماری ماں اور بہنیں محفوظ ہوں گی۔جہاں امیر اور غریب دونوں کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں گے۔

کیجریوال نے لوگوں سے نئے ہندوستان کی تعمیر کے لیے عآپ میں شامل ہونے کی اپیل کی۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب اسمبلی انتخاب میں عآپ کے لیے صحت اور تعلیم کا ‘دہلی ماڈل’ کلیدی ایشوز میں سے ایک تھا۔ مینڈیٹ آنے کے بعد کیجریوال نے کہا، ‘بھگت سنگھ نے ایک بار کہا تھا کہ اگر ہم آزادی کے بعد نظام نہیں بدلیں گے تو کچھ نہیں ہوگا۔ پچھلے 75 سالوں میں ان جماعتوں اور سیاستدانوں نے انگریزوں کا نظام برقرار رکھا تھا۔ انہوں نے کوئی اسکول یا ہسپتال نہیں بنایا۔ عآپ نے پچھلے سات سالوں میں نظام بدل دیا ہے۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ بھگت سنگھ اور بابا صاحب امبیڈکر کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کام کریں گے۔

کیجریوال نے ان انتخابات میں شکست کا مزہ چکھنے والے سینئر لیڈروں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا ،پنجاب میں بڑی بڑی کرسیاں ہل گئی ہیں۔ سکھبیر سنگھ بادل ہار گئے، کپتان سر ہار گئے، چنی سر ہار گئے، نوجوت سنگھ سدھو ہار گئے۔

دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کہا کہ گوا اور پنجاب کے نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ ‘کیجریوال کا ماڈل آف گورننس’ قومی بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا، پنجاب میں جیت اور گوا میں ملے ردعمل سے یہ واضح ہے کہ کیجریوال کاماڈل آف گورننس قومی بن گیا ہے۔پنجاب کے لوگوں نے عآپ کو ووٹ نہیں دیا، انہوں نے عآپ کو موقع دیا ہے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)