جے این یو کی پروفیسر ایمیریٹا زویا حسن کو دہلی کے سردار پٹیل ودیالیہ میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران تکثیریت کے موضوع پر خطاب کرنا تھا۔ وی ایچ پی کی مخالفت کے بعد سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا خطاب رد کر دیا گیا۔

اسکرین گریب: دی وائر/یوٹیوب
نئی دہلی:جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی پروفیسر ایمیریٹا زویا حسن کو دہلی کے ایک اسکول میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرنا تھا۔ ان کا خطاب جمعہ، 14 اگست کو آخری وقت میں رد کر دیا گیا۔ اس کے لیے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیا گیا۔
انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے کچھ ارکان اسکول کے باہر احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
زویا حسن کو سردار پٹیل ودیالیہ کی یوم آزادی اور اسکالرشپ ایوارڈ تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ انہیں طلبہ سے خطاب کرنا تھا۔ اسکول کی جانب سے جاری دعوت نامے کے مطابق، تقریب صبح 10 بجے لودھی اسٹیٹ میں واقع اسکول کے کیمپس میں شروع ہونی تھی۔
معاملے کی جانکاری رکھنے والوں کے مطابق، تقریباً 10 سے 15 وی ایچ پی ارکان اسکول کے باہر جمع ہوئے، جس کے بعد وہاں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔
اسکول نے اخبار سے تصدیق کی کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر حسن کا خطاب اور اسکول میں ان کی آمد کو ردکرنا پڑا۔
اس معاملے سے واقف اسکول کی ایک معلمہ نے کہا،’ بدقسمتی سے، کچھ شرپسند عناصر صبح سویرے اسکول کے باہر جمع ہو گئے، جس کے بعد صورتحال خراب ہو گئی۔‘
اسکول انتظامیہ نے باضابطہ طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ حسن کی شرکت منسوخ کرنے کا فیصلہ پولیس کی ہدایت پر کیا گیا یا اسکول نے خود یہ فیصلہ کیا۔
تاہم، تقریب میں کوئی خلل نہیں پڑا اور اسے اسکول کے آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا۔ اسکول انتظامیہ نے اخبار کو بتایا کہ گجرات ایجوکیشن سوسائٹی (جی ای ایس) کی صدر اور اسکول کی سابق طالبہ شویتا کلیان والا نے حسن کی جگہ تقریب میں شرکت کی۔ جی ای ایس وہ ادارہ ہے جس کے تحت یہ اسکول چلتا ہے۔
دہلی پولیس نے کہا کہ اسکول نے اسے سکیورٹی سے متعلق خطرے سے آگاہ کیا تھا اور حسن کی شرکت منسوخ کرنے کا فیصلہ اسکول نے ہی لیا ہوگا۔ پولیس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے حسن کو تقریب میں شرکت سے روکا۔ پولیس کے مطابق، اس کے اہلکاروں کی تعیناتی صرف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے کی گئی تھی۔
زویا حسن کو طلبہ سے تکثیریت کے موضوع پر بات کرنی تھی۔ انہوں نے تاحال اس معاملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
ماہرین تعلیم نے فیصلے پر احتجاج کیا
کئی ماہرین تعلیم نے حسن کو تقریب میں خطاب کرنے سے روکے جانے پر احتجاج کیا۔
ماہر معاشیات جیتی گھوش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ پولیس نے حسن کو تقریب میں خطاب کرنے سے روک دیا اور اسکول انتظامیہ کو سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے تقریب کو رد کرنے پر مجبور کیا گیا۔
انہوں نے لکھا،’حکومت کتنی ڈری ہوئی ہے؟ ممتاز اسکالر پروفیسر زویا حسن کو سردار پٹیل ودیالیہ کی یوم آزادی تقریب میں ’تکثیریت‘ پر خطاب کرنے سے دہلی پولیس نے روک دیا۔‘
How scared is this government? Eminent scholar Prof. Zoya Hasan has just been prevented from speaking on “Pluralism” at the Independence Day function of Sardar Patel Vidyalaya – by Delhi Police! 1/3
— Jayati Ghosh (@Jayati1609) August 14, 2026
دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند نے بھی پولیس کے کردار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا،’ دہلی پولیس کو وی ایچ پی کے شرپسندوں کو روکنا چاہیے تھا، لیکن اس نے اسکول کو پروفیسر زویا حسن کی بات چیت رد کرنے کے لیے مجبور کر دیا۔ پھر بھی وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک پیشہ ور فورس کے طور پر عزت دی جائے۔ بچوں کو خود پتہ چل جاتا کہ پروفیسر حسن کون ہیں، لیکن انہیں ان سے ملنے سے روک دیا گیا۔‘