ایکس  نے آن لائن مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے اکاؤنٹ کو ہندوستان میں بلاک کیا

06:46 PM May 21, 2026 | دی وائر اسٹاف

طنزیہ اور تنقیدی سوشل میڈیا مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا ایکس اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب چند ہی دنوں میں اس نے سوشل میڈیا پر زبردست مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اکاؤنٹ پر پابندی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’جیسا کہ امید تھی، کاکروچ جنتا پارٹی کا اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔‘

’کاکروچ جنتا پارٹی‘کا اسکرین گریب اور اس کا نیا ایکس پیج۔تصویر بہ شکریہ: ایکس / کاکروچ از بیک

نئی دہلی: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے جمعرات (21 مئی) کو طنزیہ سیاسی تنظیم’کاکروچ جنتا پارٹی‘(سی جے پی)کے اکاؤنٹ کو ہندوستان میں بلاک کر دیا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب انسٹاگرام پر سی جے پی کے فالوورز کی تعداد 13 ملین (1.3 کروڑ) تک پہنچ گئی اور اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 8.7 ملین فالوورز کو پیچھے چھوڑ دیا۔

اس خبر کے لکھے جانے تک انسٹاگرام پر بی جے پی کے 8.8 ملین فالوورز ہیں، جبکہ سی جے پی کے 13.4 ملین فالوورز ہیں۔

اس حوالے سے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر بتایا کہ 16 مئی کو شروع کیا گیا پارٹی کا اکاؤنٹ، 2 لاکھ  سے زیادہ فالوورز ہونے کے بعد ایکس پر بلاک کر دیا گیا ہے۔ بعد میں انہوں نے اعلان کیا کہ تنظیم نے ایک اور اکاؤنٹ کاکروچ از بیک شروع کیا ہے۔

بوسٹن (امریکہ) میں رہنے والے 30 سالہ دیپکے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا،’جیسا کہ امید تھی،’کاکروچ جنتا پارٹی‘کا اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔‘

ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا،’اپنے ہی پالے میں گول۔‘ تیسری پوسٹ میں انہوں نے کہا،’کاکروچ جنتا پارٹی کا اکاؤنٹ 16 مئی کو شروع کیا گیا تھا۔ 4 دن کے اندر ہی یہ اکاؤنٹ بین ہو گیا کیونکہ اس کے 2 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو گئے تھے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی، جس نے اکتوبر 2010 میں ایکس پر اپنا اکاؤنٹ شروع کیا تھا، اس کے 23 ملین فالوورز ہیں؛ جبکہ کانگریس، جس کا اکاؤنٹ فروری 2013 سے اس پلیٹ فارم پر ہے، اس کے 11.5 ملین فالوورز ہیں۔

دیپکے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پارٹی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

معلوم ہو کہ اس سوشل میڈیا مہم کی شروعات 15 مئی کو اُس وقت ہوئی جب مبینہ طور پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس سوریہ کانت نے بے روزگار نوجوانوں کو’کاکروچ‘اور’پیرا سائٹ‘کہا تھا۔

گزشتہ جمعہ چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ سماج میں کچھ پیرا سائٹ ہیں جو سسٹم پر حملہ کرتے ہیں۔ انہیں روزگار نہیں ملتا اور نہ ہی پیشہ ورانہ زندگی میں جگہ ملتی ہے۔ ان میں سے کچھ میڈیا بن جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہو جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں اور پھر سب پر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کچھ بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ’کاکروچ‘ جیسے ہیں جو بعد میں میڈیا، سوشل میڈیا اور آر ٹی آئی کارکن بن کر سسٹم پر سوال اٹھاتے ہیں۔

چیف جسٹس کے اس تبصرے پر آل انڈیا ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا تھاکہ یہ بیان انتہائی قابل اعتراض، ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایسا بیان عدلیہ کے سربراہ کی طرف سے آیا۔ یہ انتہائی غیر جمہوری ہے اور ان نوجوان کارکنوں کی توہین ہے جو جمہوریت کی ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اس بیان پر کئی وکلا اور سیاسی جماعتوں نے بھی اعتراض کیا تھا۔

تاہم، بعد میں شدید تنقید کے بعد چیف جسٹس نے 16 مئی کو اس پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ایک حصے نے ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا ہر نوجوان انہیں متاثر کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ان کی بات ان لوگوں کے بارے میں تھی جو جعلی اور فرضی ڈگریوں کے ذریعے وکالت جیسے پیشوں میں داخل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر معزز پیشوں میں بھی داخل ہو چکے ہیں اور اس لحاظ سے وہ پیرا سائٹ جیسے ہیں۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح طور پر کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کی توہین کی ہے۔