صحافت کا المیہ اور حُسن یہ ہے کہ یہاں نہ توہم پرستی کی گنجائش ہے اور نہ ہی نام کی مماثلت کے باعث کوئی وزارت یا سرکاری بنگلہ ملتا ہے۔ البتہ اس کے برعکس ایجنسیوں کے شکوک و شبہات، انکوائریوں کے ڈراؤنے سائے اور صحافی ساتھیوں کے پرمزاح طعنوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سامان ضرور مہیا ہو جاتا ہے۔
فوٹو بہ شکریہ: بین سویٹ / اَن سپلیش اور ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ڈاٹ میگنیفک ڈاٹ کام
کہتے ہیں کہ نام میں کیا رکھا ہے؟ شیکسپیئر نے جب گلاب کی خوشبو اور دلکشی کی مثال دیتے ہوئے یہ تاریخی جملہ قلمبند کیا تھا تو یقیناً اُس کا واسطہ جنوبی ایشیا کے پرپیچ اور پراسرار سیاسی گلیاروں، قیاس آرائیوں پر پلنے والے صحافیوں اور ہم نامی کے نتیجے میں جنم لینے والے مضحکہ خیز الجھاؤ سے کبھی نہیں پڑا تھا۔
ورنہ وہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا کہ اس خطہ آب و گل میں نام ہی تو سارا فتنہ ہے، نام ہی میں سارا ہنگامہ پنہاں ہے، اور کبھی کبھار ساری بے وقت، بے محل مبارکباد اور افتاد بھی محض اسی نام کے کھاتے میں درج ہوتی ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے میرے موبائل فون، ای میل ان باکس اور وہاٹس ایپ پر پیغامات اور تہنیتی نوٹیفکیشنز کا جو طوفان امڈ آیا ہے، اُس نے مجھے ایک لمحے کے لیے گہرے تذبذب، حیرت اور فلسفیانہ شش و پنج میں مبتلا کر دیا تھا۔
ماجرا دراصل یہ پیش آیا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیرمیں میرے ہم نام، بیرسٹرسید افتخار گیلانی قانون ساز اسمبلی میں ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے نامزد ہو گئے۔
اب تو و ہ اس سیٹ سے منتخب بھی ہوگئے ہیں۔ اب وہ ایسے کوئی گمنام سیاستدان تو نہیں کہ لوگ ان میں اور کسی گمنام صحافی میں مغالطے کا شکار ہو جائیں۔وہ پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک سنجیدہ، باوقار قانون دان اور سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
انہوں نے ایک دہائی قبل اپنی پیشہ ورانہ قانونی خدمات کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے باضابطہ عملی سیاست کا آغاز کیا۔ انتخابی میدان میں انہوں نے بنیادی طور پر مظفرآباد شہر سے عام انتخابات میں حصہ لیا، جہاں 2016ء کے عام انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
مظفرآباد کی حکومت میں وزیر بھی رہے۔ 2016ء سے 2021ء کے دوران انہوں نے وزیرتعلیم اور وزیر ماحولیات کے قلمدان سنبھالے۔بتایا جاتا ہے کہ ان کے وزارتی دور کا سب سے بڑا کارنامہ تعلیمی شعبے میں اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے میرٹ کلچر کا فروغ تھا، جس کے باعث پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کے نظامِ تعلیم میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ اور شفافیت قائم ہوئی، اور اس اصلاحاتی عمل کو خطے کی سیاسی و انتظامی تاریخ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
حال ہی میں وہ ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشت سے اسمبلی کے لیے منتخب ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی اس سیاسی و قانونی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، اُن کے درجات اور مناصب میں مزید برکت دے اور اُنہیں اور بھی بلند عہدوں سے نوازے۔دعا ہے کہ وہ انسانیت کے لیے سراپا راحت اور مظلوموں و بے سہاروں کا سہارا بنیں۔
مگر ستم ظریفی، کم فہمی اور المیہ دیکھیے کہ بیرسٹر صاحب کی اس نئی سیاسی پیش رفت اور نامزدگی کی خبر عام ہوتے ہی، میرے اپنے واقف کار، دہلی و کشمیر کے صحافتی احباب، پرانے دوست اور سرحد پار کے قلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد مجھے دھڑا دھڑ مبارکبادیں روانہ کرنے لگے۔
ہر شخص یہ گمان کر بیٹھا کہ شاید میں راتوں رات صحافت کے کانٹے دار اور کٹھن راستوں کو خیرباد کہہ کر خط کشمیر کی لائن آف کنٹرول پار کرکے ایوانِ اقتدار کی نشست اور اب و زارت کے منصب پر جلوہ افروز ہو نے والا ہوں۔
شروع شروع میں تو میں نے اِن تہنیتی پیغامات کو احباب کی روایتی لاپروائی، سرسری نظر اور سماجی رابطوں کی بے دھیانی کا نتیجہ جان کر محض ہنسی میں ٹالنا چاہا اور نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ لیکن پانی سر سے اُس وقت گزرا جب مجھے نئی دہلی کے ایک انتہائی بااثر، بڑے اور معروف انگریزی روزنامے کی ایک خاتون رپورٹر کی باقاعدہ فون کال موصول ہوئی۔
موصوفہ کی آواز میں ایک تہلکہ خیز اور سنسنی خیز ’اسکوپ‘ بریک کرنے کا والہانہ جوش و خروش بالکل عیاں تھا۔ وہ مجھ سے بے حد رازدارانہ، سنجیدہ اور کھوجی لہجے میں یہ تصدیق کرنا چاہ رہی تھیں کہ کیا میں اب باقاعدہ طور پر پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیرمنتقل ہو چکا ہوں اور وہاں کی اسمبلی میں ایم ایل اے بن کر وزیر بننے کی تیاری کر رہا ہوں؟
جب میں نے قدرے چونک کر اور کریدتے ہوئے پوچھا کہ بی بی، آخر آپ کو اس غیر معمولی ’بریکنگ نیوز‘ کی نوید کس ذریعے سے موصول ہوئی ہے؟ تو موصوفہ نے انکشاف کیا کہ دہلی کے میڈیا حلقوں میں سرگرم ایک کشمیری پنڈت صحافی دوست نے یہ گرما گرم خبر اُن کے کان میں باقاعدہ ’فیڈ‘ کی تھی۔
میں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ اس خبر کر خود کیوں بریک نہیں کررہا ہے، تو وہ بغلیں جھانکنے لگیں۔ اس لمحے مجھ پر یہ سحر انگیز سچائی عیاں ہوئی کہ ہمارے یہاں کا صحافتی اور سیاسی ماحول کس درجہ سراب کے پیچھے دوڑتا ہے، جہاں بغیر کسی بنیادی چھان بین یا تصدیق کے کسی کی زندگی کو اجیرن بنایا جاسکتا ہے۔
اس کے بعد میں نے باضابطہ احباب کو میسیج کیے کہ قبل اس کے کہ آپ میں سے کوئی مجھے مبارکباد کے ساتھ کسی وزارت کی پیشکش کا خط بھیج دیں، سرکاری کوٹھی کا پتہ مانگیں یا جھنڈے والی گاڑی کا روٹ دریافت کریں، براہِ مہربانی اپنی فون ڈائرکٹری اور کانٹیکٹ لسٹ کو غور سے دیکھ لیجیے۔ میں واضح کر دوں کہ میں وہ بیرسٹر افتخار گیلانی ہرگز نہیں ہوں۔
میرا نام بھی بلاشبہ افتخار گیلانی ہی ہے، لیکن میں اقتدار کے محلات میں بسنے والا کوئی خوش بخت سیاست دان نہیں بلکہ قلم کی مشقت کاٹنے والا ایک نادار، بے نوا اور بے خانماں صحافی ہوں، جو آجکل بے گھر ہے۔ میرے اور سیاست دانوں کے جہاں میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہے۔
سیاست دان کے پاس پرشکوہ، بلند بانگ اور خواب ناک وعدے کرنے کی آسائش ہوتی ہے، جب کہ بطور رپورٹر میرا کام اُن بکھرے ہوئے، ٹوٹے ہوئے اور ادھورے وعدوں کا تعاقب اور رپورٹنگ کرنا ہے۔ میرے پاس خواب بیچنے کی سہولت اور عیاشی قطعاً موجود نہیں ہے۔
سیاست دان جلسوں، جلوسوں اور ووٹروں کے پیچھے دوڑتے ہیں، جب کہ میں روزانہ خبروں کے سراغ، متضاد بیانیوں کے تضادات اور حقائق کی کھوج میں سرگرداں رہتا ہوں۔میری انتخابی حلقہ بندی عوام یا پُرجوش ووٹرز پر مشتمل نہیں ہے؛ میرے حلقے کے باسی تو محض بے رحم ڈیڈ لائنز، خبروں کی نوک پلک سنوارنے والے سخت گیر ایڈیٹرز اور خبروں پر چراغ پا ہو جانے والے غصہ ور قارئین ہیں۔
سیاست کی کرنسی اقتدار، اثر و رسوخ، ذاتی نمود اور بیوروکریسی پر غلبہ ہے، جب کہ صحافی کی کُل کائنات، پونجی اور متاعِ حیات صرف ’معلومات اور سچائی‘ ہے، جس کا معاوضہ افسوس کہ مادی دنیا کے بازار میں کبھی اقتدار کے برابر نہیں مل پاتاہے۔
اس لیے مبارکبادیں سر آنکھوں پر، لیکن وہ پھولوں کے گراں قدر گلدستے، وزارتوں کے قلمدان، سرکاری پروٹوکول اور جھنڈے والی گاڑیاں اصل، حقدار اور بااختیار بیرسٹر افتخار گیلانی صاحب کے پتے پر روانہ کیجیے اور مجھے اپنی روایتی صحافتی خاک چھاننے پر ہی مامور رہنے دیجیے۔
اسی دوران یاد آیا کہ ہم نام ہونے کے سبب پیدا ہونے والے یہ مغالطے اور چونکا دینے والے واقعات جنوبی ایشیا کی سیاسی اور سفارتی تاریخ میں کوئی انوکھا تماشا نہیں ہیں۔ برصغیر کی سیاسی تاریخ ایسے حیرت انگیز اور پرمزاح واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں محض ایک جیسے ناموں نے لوگوں کے کیریئر کے رخ بدل دیے، عظیم الشان مضحکے پیدا کیے، اور بعض اوقات تو اقتدار کا ہما کسی غیر متعلقہ شخص کے سر پر لا بٹھایا۔
اس سلسلے میں ایک انتہائی لاجواب اور ناقابلِ یقین واقعہ ہندوستان کے موجودہ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن سے وابستہ ہے۔وہ دو بار 1998اور پھر 1999کے عام انتخابات میں تامل ناڈو کے کوئمبٹور حلقہ سے بی جے پی کی ٹکٹ پر ممبر پارلیامنٹ منتخب ہو گئے تھے۔ 2000میں کابینہ کی توسیع کے وقت وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ان کو دوبار منتخب ہونے پر انعام دینے کی ٹھانی اور ان کو وزارتی کونسل میں شامل کرنے کا ارادہ کیا۔
مگر بیوروکریسی اور پارٹی کے تنظیمی رابطوں کی افراتفری میں سی پی رادھا کرشنن کے بجائے پون رادھا کرشنن، جو پہلی بار منتخب ہو گئے تھے، کو فون کھڑکا دیا گیا اور اُنہیں راشٹرپتی بھون پہنچنے کی ہدایت کر دی گئی۔
پون رادھا کرشنن بھی دل ہی دل میں اپنی اچانک چمکنے والی قسمت پر حیران ہوئے ہوں گے۔جب راشٹرپتی بھون کے تاریخی دربار ہال میں تقریبِ حلف برداری پوری آب و تاب سے جاری تھی اور وزراء یکے بعد دیگرے مائیک پر آ کر حلف اٹھا رہے تھے، تو وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے چونک کر پاس بیٹھے ہوئے اپنے سینئر رفیق ایل کے اڈوانی کی طرف جھکتے ہوئے دھیمی آواز میں پوچھا، ”وہ داڑھی والے رادھا کرشنن کہاں ہیں جنہیں ہم نے وزیر بنانا تھا؟“ اڈوانی جی نے ادھر ادھر دیکھا مگر تب تک تیر کمان سے نکل چکا تھا اور پون رادھا کرشنن باقاعدہ طور پر وزیرِ مملکت کے منصب کا حلف اٹھا رہے تھے۔
وہ بن بلائے اور غیر ارادی طور پر بننے والے وزیر نے اپنی پوری وزارتی مدت سکون سے گزاری، جبکہ سی پی رادھا کرشنن منہ دیکھتے رہ گئے اور حکومت سے باہر ہی رہے۔ بعد ازاں اُن کے سیاسی سفر نے ایک بالکل مختلف اور صبر آزما راستہ اختیار کیا اور طویل سیاسی جدوجہد کے بعد وہ کئی دہائیوں بعد ملک کے نائب صدر کے آئینی منصب پر پچھلے سال فائز ہوئے۔
اسی قبیل کا اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور دور رس نتائج کا حامل مغالطہ 1985ء میں ارجن سنگھ کے ساتھ پیش آیا۔ پنجاب اُس وقت عسکریت پسندی کی شدید لپیٹ میں تھا، آپریشن بلیو اسٹار کے بعد کی صورتحال بے حد کشیدہ تھی اور ریاست کو ایک سخت گیر اور تجربہ کار عسکری و انتظامی قیادت کی اشد ضرورت تھی۔ یہ ریاست اس وقت آرمی کے حوالے کی گئی تھی۔
اس نازک گھڑی میں وزیر اعظم راجیو گاندھی چاہتے تھے کہ ہندوستانی فضائیہ کے سابق ایئر چیف اور ممتاز عسکری شخصیت مارشل آف دی ایئر فورس ارجن سنگھ کو پنجاب کا گورنر بنا کر بھیجا جائے تاکہ وہ ریاست کے حالات کو سنبھال سکیں۔ لیکن اعلیٰ بیوروکریسی کے ایوانوں میں مارشل ارجن سنگھ کا نام مدھیہ پردیش کے زیرک کانگریسی سیاست دان اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ ارجن سنگھ کے نام کے ساتھ خلط ملط ہو گیا۔
سیاست دان ارجن سنگھ نے اسی روز صبح مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ لیکن کابینہ سکریٹری نے اُنہیں فوراً استعفیٰ دے کر ہنگامی بنیادوں پر پنجاب کی گورنری سنبھالنے کا پروانہ تھما دیا۔
ارجن سنگھ نے حکم کی تعمیل کی، وزارتِ اعلیٰ چھوڑی اور چندی گڑھ روانہ ہو گئے۔ ادھر راجیو گاندھی نے جب شام کو ٹیلی ویژن پر ارجن سنگھ کو بحیثیت گورنر پنجاب حلف اٹھاتے دیکھا تو وہ ششدر رہ گئے۔ انہوں نے فوراً اپنے پرائیویٹ سکریٹری کو طلب کیا اور حیرت سے پوچھا، ”یہ مدھیہ پردیش کا وزیر اعلیٰ چنڈی گڑھ میں کیا کر رہا ہے؟“تب جا کر انتظامیہ کے بند دروازوں کے پیچھے یہ راز کھلا کہ اصل انتخاب تو ایئر چیف مارشل ارجن سنگھ تھے، نہ کہ مدھیہ پردیش کے سیاست دان ارجن سنگھ۔
مگر اس مغالطے نے ہندوستانی سیاست اور پنجاب کے سیاسی منظر نامے کا جغرافیہ ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔سیاست دان ارجن سنگھ نے ایسے داؤپیچ کھیلے کہ چند ماہ بعد ہی اکالی دل کے سربراہ لانگوال اور راجیو گاندھی کے درمیان ایک ایکارڈ پر دستخط ہوئے۔
ایک اور مضحکہ خیز اور دلچسپ قصہ 2014ء کا ہے، جب بچوں کے حقوق کے ہندوستانی علمبردار اور سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کو پاکستان کی ملالہ یوسفزئی کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ستیارتھی کی اپنی آبائی ریاست مدھیہ پردیش میں اُس وقت کی ریاستی حکومت کے سینئر اور بااثر وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے ابتدائی خبر سنتے ہی یہ گمان کر لیا کہ یہ عالمی اور تاریخی نوبل انعام اُن ہی کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے! چونکہ کیلاش ستیارتھی اُس وقت تک ہندوستان کےعوامی حلقوں میں کوئی بہت مشہور نام نہیں تھے اور عالمی نوبل کمیٹی نے ملالہ کے نام کے ساتھ برصغیر کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نسبتاً خاموش کارکن کا انتخاب کیا تھا، اس لیے ریاست کے سیاسی حلقوں میں یہ غلط فہمی آگ کی طرح پھیل گئی۔
کیلاش وجے ورگیہ ریاست میں بچوں کی بہبود کی وزارت کے ہی انچارج تھے۔ کارکنان اور مداحوں نے وزیر موصوف کیلاش وجے ورگیہ کو مبارکبادیں دینا شروع کر دیں، اور انہوں نے بھی بغیر کسی جھجھک کے سینہ چوڑا کر کے تمام تہنیتی کلمات، مالائیں اور مبارکبادیں خوش دلی سے قبول کرنا شروع کر دیں۔
نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ وزیر صاحب کی سرکاری رہائش گاہ پر ڈھول کی تھاپ پر باقاعدہ جشن اور لڈو بانٹنے کا انتظام مکمل کر لیا گیا۔ یہ سارا ہنگامہ اُس وقت تھما جب سرکاری طور پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ نوبل کمیٹی بچوں کے حقوق کے لیے پسماندہ گلیوں میں کام کرنے والے کیلاش ستیارتھی کا ذکر کر رہی تھی، اقتدار کی سیاست کرنے والے کیلاش وجے ورگیہ کا نہیں۔
اسی طرح فروری 1973ء میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کی کابینہ کی توسیع کا واقعہ بھی دہلی کے اقتدار کی غلام گردشوں کا ایک لازوال باب ہے، جس نے سیاست کے ایک نوآموز چہرے کو غیر ارادی طور پر ملکی تاریخ کے سب سے طاقتور رہنماؤں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ماجرا کچھ یوں پیش آیا کہ راشٹرپتی بھون کے تاریخی ہال میں وزراء کی نئی کھیپ کی حلف برداری کی تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی تھیں اور تقریب شروع ہونے میں محض گنتی کے چند لمحے باقی تھے۔ عین وقت پر پروٹوکول افسران اور کانگریس پارٹی کے ذمہ داران کے ہوش اڑ گئے جب حتمی فہرست کی جانچ کے دوران یہ معلوم ہوا کہ آج حلف اٹھانے والے وزراء کی کل تعداد ٹھیک 13 بن رہی ہے۔
توہم پرستی اور علم الاعداد کے روایتی خوف کے زیرِ اثر، اندرا گاندھی کے باطن میں بھی عدد 13 کو لے کر گہری نحوست اور بدشگونی کا احساس جاگ اٹھا۔ یہ دو ٹوک فیصلہ ہوا کہ اس مبینہ نحوست کو زائل کرنے اور تقریب کو 13 کے چکر سے نکالنے کے لیے فوراً اور لازمی طور پر فہرست میں 14 واں نام شامل کیا جائے۔اب بحران یہ تھا کہ چند منٹوں کے اندر کسے تلاش کیا جائے اور کسے اچانک وزیر بنا دیا جائے۔
تقریب کے منتظمین اور اندرا گاندھی کے بااعتماد مشیروں نے جب نگاہیں دوڑائیں تو راشٹرپتی بھون کے ہال میں مغربی بنگال سے کانگریس کے ایک نوجوان اور کم گو رکنِ راجیہ سبھا سامعین میں نظر آئے، جن کا نام پرنب مکھرجی تھا۔
پرنب مکھرجی اُس دور میں کانگریس کے پچھلے بنچوں پر بیٹھنے والے ایک عام سے نووارد رکن پارلیامان تھے جن کا کابینہ میں شمولیت کا دور دور تک کوئی امکان یا دعویٰ نہیں تھا۔ اُنہیں فوری طور پر بازو سے پکڑ کر اسٹیج کی طرف لایا گیا، اور 13 کی بدشگونی توڑنے کی غرض سے بطور 14 ویں وزیر کا حلف دلوا دیا گیا۔
اگر اُس دن 13 کی فہرست کو 14 پر نہ لانا ہوتا تو شاید پرنب دادا برسوں راجیہ سبھا کے کسی گوشے میں پارلیامانی نوٹس ہی بناتے رہتے۔ مگر قسمت کے اس انوکھے اتفاق نے اُنہیں حکومت کے مدار میں داخل کر دیا، جہاں سے وہ بعد میں کانگریس حکومت کے طاقتور ترین ٹربل شوٹراور وزیر خزانہ، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور بالآخر اسی راشٹرپتی بھون میں صدرِ جمہوریہ ہند کی حیثیت سے داخل ہوئے۔
سیاست کی دنیا کے یہ تمام سچے واقعات شاہد ہیں کہ اقتدار کے کھیل میں ایسے اتفاقات، توہم پرستی اور ناموں کے مغالطے کسی بھی گمنام چہرے کی قسمت کا ستارہ چمکا سکتے ہیں اور کسی کے گلے میں بن مانگے، بن محنت وزارت کا ہار ڈال سکتے ہیں۔
مگر صحافت کا المیہ اور حُسن یہ ہے کہ یہاں نہ توہم پرستی کی گنجائش ہے اور نہ ہی نام کی مماثلت کے باعث کوئی وزارت یا سرکاری بنگلہ ملتا ہے۔ البتہ اس کے برعکس ایجنسیوں کے شکوک و شبہات، انکوائریوں کے ڈراؤنے سائے اور صحافی ساتھیوں کے پرمزاح طعنوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سامان ضرور مہیا ہو جاتا ہے۔