مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام ایس آئی آر کے بعد ہٹا دیے گئے ہیں۔ اس بیچ ریاست کے کئی افسران کے تبادلوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ایسے میں ٹی ایم سی کا ایک وفد بدھ کے روز چیف الیکشن کمشنر سے ملا تھا، جس کے بعد انہوں نے کمیشن پر ان کی بات نہ سننے کے الزام لگائے ہیں۔ وہیں، ٹی ایم سی کو نشانہ بناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر بھی تنقیدکی جا رہی ہے۔

چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات اور ایس آئی آرکو لے کر ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی)اور الیکشن کمیشن کے درمیان جاری کھینچ تان ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ حال ہی میں اس معاملے پر ٹی ایم سی کا ایک وفد چیف الیکشن کمشنر سے ملا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ اور سنگین ہو گیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، بدھ (8 اپریل) کو ٹی ایم سی کے سینئر رہنما ڈیرک او برائن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے بتایاکہ مغربی بنگال میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں ہوئی میٹنگ کے دوران سی ای سی گیانیش کمارنے ٹی ایم سی کے وفد کی بات نہیں سنی اور سات منٹ کی بات چیت کے بعد انہیں وہاں سے جانے کو (گیٹ لاسٹ)کہہ دیا۔
انہوں نے میڈیا سے کہا،’میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میٹنگ شروع ہونے کے سات منٹ کے اندر ہی چیف الیکشن کمشنر نے ہم سے کیا کہا۔’گیٹ لاسٹ ‘۔ اس لیے ہم وہاں سے چلے آئے۔ ہم پارلیامنٹ میں دوسری سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہیں، مگر ہماری بات نہیں سنی گئی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹی ایم سی کا وفد چیف الیکشن کمشنر سے ملنے کے لیے پارٹی سربراہ اور بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے نو خطوط لے کر گیا تھا، جن کا اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفد نے ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد اعلیٰ افسران اور پولیس اہلکاروں کے بڑے پیمانے پر تبادلوں کا مسئلہ بھی اٹھایا۔
ڈیرک او برائن نے مزیدکہا،’ہم نے ان سے کہا کہ اگر آپ اس طرح افسران کا تبادلہ کر رہے ہیں تو آپ آزاد اور منصفانہ انتخابات کیسے کروا پائیں گے؟ اور پھر انہوں نے کہا،’نکل جائیے‘۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو میٹنگ کاآڈیو یا ویڈیو جاری کرنے کا چیلنج بھی دیا۔
VIDEO | Delhi: TMC delegations meets Chief Election Commissioner Gyanesh Kumar on the deletion of nearly 91 lakh voters’ names from the electoral rolls in West Bengal.
TMC MP Derek O’Brien (@derekobrienmp) says, “I want to tell you what the CEC told us within seven minutes of… pic.twitter.com/xdYGJHRRCq
— Press Trust of India (@PTI_News) April 8, 2026
وہیں، ان الزامات پر الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے اخبار کو بتایاکہ میٹنگ کے دوران ڈیرک او برائن چیف الیکشن کمشنر پر چیخ رہے تھے، جس پر سی ای سی نے انہیں کمرے کا وقار برقرار رکھنے کی درخواست کی۔
ادھر، اس واقعہ کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ کرتے ہوئے ٹی ایم سی کو نشانہ بنایا۔ کمیشن نے لکھا، الیکشن کمیشن کی ترنمول کانگریس کو دو ٹوک۔اس بار، مغربی بنگال میں انتخابات خوف سے آزاد، تشدد سے پاک، دھمکی سے آزاد، لالچ سے پاک اور بغیر کسی چھاپے،بوتھ پرقبضے وسائل پر قبضے کے ہو کر رہیں گے۔‘
चुनाव आयोग की तृणमूल कांग्रेस को दो टूक
पश्चिम बंगाल में इस बार चुनाव:
भय रहित,
हिंसा रहित,
धमकी रहित,
प्रलोभन रहित,
छापा रहित,
बूथ एवं सोर्स जामिंग रहित होकर ही रहेंगेECI’s Straight-talk to Trinamool Congress
This time, the Elections in West Bengal would surely be :… pic.twitter.com/p5fM8Uu337
— Election Commission of India (@ECISVEEP) April 8, 2026
الیکشن کمیشن کےاس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ٹی ایم سی لیڈر ساکیت گوکھلے نے اسے جھوٹ قرار دیا اور کمیشن کو میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ جاری کرنے کا چیلنج دیا۔
This is a LIE. I was personally present at the meeting. NOTHING like this was said.
All that CEC Gyanesh Kumar said to us was “GET LOST”.
We challenge the ECI to release a transcript of the meeting.
Else we will do it. https://t.co/LdFSLv2aQn
— Saket Gokhale (@SaketGokhale) April 8, 2026
ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن کے اس ٹویٹ پر سوال اٹھایا کہ کیا کسی غیر جانبدار آئینی ادارے سے ایسے رویے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
Straight-talk to @ECISVEEP:
Is this how a neutral constitutional body is expected to behave?
সোজা কথা সোজাভাবেই বলছি: মুখোশটা এবার খুলে ফেলুন! https://t.co/JkSSYEvq4o
— All India Trinamool Congress (@AITCofficial) April 8, 2026
اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اس الیکشن کمیشن کے اس ٹوئٹ پر سخت ردعمل دیا۔
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے لکھا کہ اب یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ الیکشن کمیشن براہ راست بی جے پی سے ہدایت حاصل کرکےاور بی جے پی کے ماتحت کام کر رہا ہے، جو نہایت افسوسناک ہے۔ کم سے کم ایسی زبان میں ٹوئٹ کرکے اتنے اہم ادارے کی ساکھ کو سرعام مت اچھالیے۔‘
अब ये कहने की भी ज़रूरत नहीं कि चुनाव आयोग सीधे बीजेपी से निर्देश लेकर और बीजेपी के अंडर में काम कर रहा है। ये अब जग ज़ाहिर है और बेहद दुर्भाग्यपूर्ण है। कम से कम ऐसी भाषा के ट्वीट करके इतने अहम संस्थान की इज़्ज़त तो सरेआम मत उछालिये। https://t.co/YOvvyt3cKE
— Arvind Kejriwal (@ArvindKejriwal) April 8, 2026
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں کہا،’ بس ای سی آئی رہت کر دیں، باقی سب اپنے آپ ہو جائے گا‘۔
یادو نے اس کے ساتھ ہی’ایتھیکلی کرپٹ انسٹی ٹیوٹ‘ کا ہیش ٹیگ بھی لگایا ہے۔
बस ECI रहित कर दें, बाक़ी सब अपने आप हो जाएगा।#Ethically_Corrupt_Institution pic.twitter.com/gNWLplUyEa
— Akhilesh Yadav (@yadavakhilesh) April 8, 2026
دریں اثنا،بدھ کو کولکاتہ میں ایک اعلیٰ سطحی انتخابی جائزہ میٹنگ بھی بلائی گئی تھی، جس پر بھی تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ بتایا گیا کہ میٹنگ کے دوران ایک سینئر آبزرور نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمارکے تبصروں پر اعتراض کیا، تو انہیں میٹنگ سے ہٹا دیا گیا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، یہ آبزرور انوراگ یادو تھے، جو اتر پردیش حکومت میں پرنسپل سیکریٹری رینک کے افسر ہیں۔انہیں کوچ بہار میں آبزرور کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا،’آپ ہمارے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں کر سکتے۔ ہم نے اس سروس میں اپنے 25 سال دیے ہیں۔ آپ اس طرح بات نہیں کر سکتے۔ ‘
اس کے بعد الیکشن کمیشن نے انوراگ یادو فوری اثر سے عہدے سے ہٹا دیا ۔اس دوران دونوں کے درمیان تلخ بحث بھی ہوئی، جس کے بعد کچھ دیر کے لیے میٹنگ میں خاموشی چھا گئی، اور پھر دیگر معاملات پر بات چیت شروع ہوئی۔
حالاں کہ، الیکشن کمیشن کے ذرائع نے اخبار سے کہا کہ انوراگ یادو کو ان کے ’باغی رویے‘کی وجہ سے نہیں بلکہ پیشہ ورانہ نااہلی کے باعث ہٹایا گیا ہے۔
ایک افسر نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران انوراگ یادو سے ان کے انتخابی حلقہ میں پولنگ مراکزکی تعداد سے متعلق بنیادی سوالات پوچھے گئے تھے، مگر وہ درست جواب دینے میں ناکام رہے۔اس پر گیانیش کمار نے ان کی تنقید کی ۔
غور طلب ہے کہ مغربی بنگال میں انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ اس دوران ایس آئی آرکے بعد ووٹر لسٹ سے تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں، جو ریاست کے کل ووٹروں کا تقریباً 12 فیصد بنتے ہیں۔