مغربی بنگال: لنگی ٹوپی پہن کر ٹرین پر پتھر پھینک رہے بی جے پی کارکن سمیت پانچ گرفتار

مرشدآبادپولیس نے بتایا کہ رادھامادھبتلاگاؤں کے کچھ لوگوں نےسیالدہ- لال گولالائن پر جا رہے ایک ریل انجن پر لنگی ٹوپی پہنےکچھ لڑکوں کو پتھر پھینکتے دیکھا اور پکڑکرپولیس کے حوالے کر دیا۔ ان میں ایک مقامی بی جے پی کارکن بھی شامل ہے۔

مرشدآبادپولیس نے بتایا کہ رادھامادھبتلاگاؤں کے کچھ لوگوں نےسیالدہ- لال گولالائن پر جا رہے ایک ریل انجن پر لنگی ٹوپی پہنےکچھ لڑکوں کو پتھر پھینکتے دیکھا اور پکڑکرپولیس کے حوالے کر دیا۔ ان میں ایک مقامی بی جے پی کارکن بھی شامل ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی :پولیس نے ایک مقامی بی جے پی کارکن اور ان کے پانچ ساتھیوں کوحراست میں لیاہے، جو لنگی اور ٹوپی پہن کر ٹرین پر پتھر پھینک رہے تھے۔دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے بتایاکہ مقامی لوگوں نے انہیں مبینہ طور پر ٹرین پر پتھر پھینکتے ہوئے پکڑا تھا۔ پولیس کے افسروں نے بتایا کہ رادھامادھبتلا گاؤں کے لوگوں نے سیالدہ- لال گولالائن پر جا رہے ایک ٹرائل انجن پر چھ لڑکوں کو پتھر پھینکتے دیکھا اور انہیں پکڑکر پولیس کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان چھ لوگوں میں ایک مقامی بی جے پی کارکن ابھیشیک سرکار بھی شامل ہیں۔

مرشدآباد کے ضلع پولیس چیف مکیش نے بتایا،‘ان لڑکوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے یوٹیوب چینل کے لیے بنائے جا رہے ویڈیو کے لیےلنگی اور ٹوپی پہن کر شوٹنگ کر رہے تھے۔ لیکن ایسا کوئی یوٹیوب چینل ہے،وہ یہ ثابت نہیں کر پاے۔’رادھامادھبتلا کے لوگوں کے مطابق، ابھیشیک پڑوس کے شریش نگر کا رہنے والا ہے اور بی جے پی کی سبھی مقامی  ریلیوں میں آگے رہتا ہے۔

جمعرات  کو ایک گاؤں والے نے بتایا، ‘ہمیں تب شک ہوا جب ہم نے ریلوے لائن کے کنارے ان لڑکوں کو کپڑےبدلتے دیکھا۔ ہم ابھیشیک کو جانتے تھے کیونکہ وہ یہاں کافی بولڈرہتا ہے۔ تو ہم نے سوچا کہ ان سے آمنے سامنے بات کرتے ہیں۔’ذرائع کے مطابق ،اس گروپ میں ایک ساتواں ممبر بھی تھا، جو گاؤں والوں کے ٹوکنے پر بھاگ گیا۔ جمعرات  کو بہرام پور تھانے میں ان سبھی چھ لوگوں سے پوچھ تاچھ کی گئی۔

مقامی بی جے پی ذرائع نے اس بات کی تصدیق  کی ہے کہ ابھیشیک پارٹی کارکن ہے لیکن بی جے پی  ضلع صدر گوری شنکر گھوش کا کہناہے کی ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ‘وہ ہماری پارٹی کاممبر نہیں ہے۔ رادھامادھبتلا میں جو ہوا، ہم اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔’جمعرات کومغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بنا اس معاملے کا ذکر کیے کہا تھا کہ بی جے پی  اپنے کارکنوں کے لیے ٹوپیاں خرید رہی ہے جس سے وہ اسے پہن کر تشدد کریں اور الزام خاص کمیونٹی پر آئے۔

انہوں نے کہا تھا، ‘بی جے پی کے جال میں مت پھنسنا۔ وہ اسے پوری طرح سے ہندو مسلم کی لڑائی میں بدلنےکی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے… ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ بی جےپی اپنے کارکنوں کے لیے ٹوپی خرید رہی ہے۔ وہ… ایک کمیونٹی کو بدنام کرنے کے لیے… اسے پہن کرپبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچاتے ہوئے تصویریں کھنچوا رہے ہیں، ویڈیو بنوا رہے ہیں۔’رادھامادھبتلا کے رہنے والے ایک مقامی باشندےنے بتایا کہ پچھلے ہفتے گاؤں سے گزر نے والی سیالدہ-لال گولا ریلوے لائن پر کچھ تناؤ ہوا تھا۔نوجوانوں کو حراست میں لیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘اس ہفتےہم نے بہت مشکل سے امن  کی بحالی کی ہے اور اس طرح کے غلط ارادوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔’

واضح  ہو کہ ملک  بھر میں شہریت ترمیم قانون کو لے کر مظاہرے چل رہے ہیں۔ گزشتہ  ہفتے جھارکھنڈ میں ہوئی ایک انتخابی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھاکہ یہ جو آگ لگا رہے ہیں، یہ کون ہے ان کے کپڑوں سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔