سی اے اے مظاہرہ: صدف جعفر اور دارا پوری سمیت 28 لوگوں کو 63 لاکھ روپے کے ہرجانے کا نوٹس

اتر پردیش انتظامیہ  کا دعویٰ  ہے کہ   19 دسمبر  2019 کو لکھنؤ  کے حضرت گنج میں شہریت  قانون  کے خلاف ہوئے احتجاج اور مظاہرے  کے  دوران  پبلک  پراپرٹی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ حالانکہ اس دن کئی کارکن نظربند تھے۔

سابق آئی پی ایس ایس آر داراپوری اور سماجی کارکن صدف جعفر(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

سابق آئی پی ایس ایس آر داراپوری اور سماجی کارکن صدف جعفر(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

نئی دہلی: اتر پردیش حکومت نے کانگریس رہنما صدف جعفر، ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر ایس آر داراپوری اورسماجی کارکن محمد شعیب سمیت 28 لوگوں کو 63 لاکھ سے زیادہ روپے کے ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے۔انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ 19 دسمبر 2019 کو لکھنؤ کے حضرت گنج میں شہریت قانون (سی اےاے) کے خلاف ہوئے احتجاج اور مظاہرے کے دوران پبلک پراپرٹی  کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق لکھنؤ کے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ(مشرقی)کے پی سنگھ نے گزشتہ جمعہ کو ہدایت جاری کرکے  30 دن کے اندر ہرجانے کی بھرپائی کرنے کو کہا ہے۔حکم  میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ ہرجانہ نہیں بھرتے ہیں تو انتظامیہ قانونی کارروائی شروع کرےگی اور ان کی املاک کو ضبط کرےگی۔متنازعہ شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کے مد نظر 19 دسمبر کو شعیب اور داراپوری کو نظربند کیا گیا تھا۔ انہوں نے نے ہرجانہ نوٹس کو بے بنیاد بتایا ہے۔ اس بیچ صدف جعفر اور دوسرے کارکنوں نے کہا ہے کہ املاک کو نقصان پہنچانےیاتشددکرنے کو لےکر ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔

ریٹائر آئی پی ایس نے کہا، یوگی راج میں یوپی پولیس اور فرقہ پرست ہوگئی ہے

پولیس نے مظاہرے کے دوران تشدد کرنے کے الزام میں داراپوری، شعیب، جعفر اور دیپک کبیر سمیت 46 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ سبھی کو 20 دسمبر کو گرفتار کر جیل میں ڈالا گیا تھا۔ جعفر نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پولیس حراست میں بے رحمی  سے ٹارچر کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا۔جعفر اور داراپوری کے معاملے میں پولیس کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائی جس سے یہ پتہ چلے کہ یہ لوگ تشدد کے لیے ذمہ دار تھے۔

لکھنؤ ضلع انتظامیہ نے کہا ہے کہ انہوں نے پولیس کے ذریعے بھیجی گئی رپورٹ کی بنیاد پر بھرپائی کرنے کا نوٹس بھیجا ہے۔ اے ڈی ایم سنگھ نے انڈین ایکسپریس سے کہا، ‘نئے کمشنری سسٹم کے تحت، پولیس کے پاس مجسٹریٹ کااختیار ہے، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے کہ ملزمین سے وصولی کی جائے۔’شعیب اور داراپوری دونوں نے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تشدد کے دوران نظربند تھے، اس لیے انہیں املاک کو نقصان پہنچانےکے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ وہیں جعفر نے کہا ہے کہ وہ  اس کے خلاف کورٹ جائیں گی۔

امت شاہ کے ہندوستان میں مسلمان ہونا کیا ہوتا ہے سمجھ میں آنے لگا ہے: صدف جعفر

دی  وائر کے ساتھ بات چیت میں کئی قانونی جانکاروں نے کہا ہے کہ اتر پردیش سرکار کے ذریعے املاک کو  ضبط کرنے کی کارروائی غیرقانونی ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ عام طور پر مجرمانہ ٹرائل کے بعدملکیت ضبط کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت  کی طرف سے اٹھایا گیا یہ قدم مشکوک ہے اور اس کو چیلنج  دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘مقدمہ ختم ہونے کے بعد ملکیت ضبط کی جاتی ہے۔’

ایک دوسرے وکیل سی یو سنگھ نے اس پوری کارروائی کو غیرقانونی بتایا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘یہ پوری طرح سے غیرقانونی اور ناجائز ہے کیونکہ یہ قانونی نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کوغیرجانبدارانہ  شنوائی کاموقع دیے، بنا ان کے متعلق  فیصلہ لیا جا رہا ہے۔’انہوں نے آگے کہا، ‘یہ اس معاملے میں خاص طورسے خطرناک ہے کیونکہ ایک سنگین الزام  ہے کہ بہت ساراتشدد تیسرے فریق کے ذریعے اور پولیس کے ذریعے کیا گیا تھا۔ حقیقت میں، یہ بھی الزام  لگایا گیا تھا کہ اس کے لیے خود پولیس نے اکسایا تھا۔’

سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے گئے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو میں پولیس کو ریاست کے کئی حصوں میں کیمرے توڑتے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔