امریکہ-اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کا چوتھا دن: ٹرمپ بولے – مہم 4–5 ہفتوں سے آگے بھی جاری رکھ سکتے ہیں

01:58 PM Mar 03, 2026 | دی وائر اسٹاف

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں اترنے کے اپنے انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس سے امریکہ اور بیرون ملک تعینات ہماری افواج کے لیے واضح اور بڑا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ (فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی:مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے بعد بھڑکا تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے فوجی آپریشن کو مقررہ چار سے پانچ ہفتے کی مدت سے بھی ‘کافی زیادہ عرصے تک’ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، سوموار کو وہائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کے لیے ‘سنگین خطرہ’ ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پھر سے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال جون میں امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں سے ‘ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ’ ہو گیا تھا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام تیزی اور ڈرامائی انداز میں بڑھ رہا ہے اور اس سے’امریکہ اور بیرون ملک تعینات ہماری افواج کے لیے واضح اور بڑا خطرہ’ پیدا ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا،’اس حکومت کے پاس پہلے سے ہی ایسی میزائلیں تھیں جو یورپ اور ہمارے مقامی و بیرونی ٹھکانوں تک پہنچ سکتی تھیں، اور جلد ہی ان کے پاس ایسی میزائلیں ہوتیں جو ہمارے خوبصورت امریکہ تک بھی پہنچ سکتی تھیں۔’ یہ دعویٰ ان کی انتظامیہ کی جانب سے بارہا کیا گیا ہے، حالانکہ امریکی حکام نے اس کے حق میں کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔

ٹرمپ کے یہ بیان اس لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں کہ وہ اس دعوے سے کچھ ہٹتے دکھائی دیے کہ ایران اس وقت فوری خطرہ تھا۔ اس کے بجائے انہوں نے ایرانی حکومت کو ممکنہ طور پر طویل مدتی خطرہ قرار دیا۔

ٹرمپ نے کہا،’تیزی سے بڑھتے اس میزائل پروگرام کا مقصد ان کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو ڈھال فراہم کرنا تھا اور کسی کے لیے بھی انہیں- جو ہماری جانب سے سخت پابندیوں کا شکار ہیں -بنانے سے روکنا انتہائی مشکل بنانا تھا۔’

انہوں نے کہا،’طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ایرانی حکومت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ امریکی عوام کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ ہوگا۔’

انہوں نے مزید کہا،’ہمارا ملک بذات خود خطرے میں ہوتا — اور تقریباً ہو ہی چکا تھا۔’

امریکی گھریلو قانون اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی دوسرے ملک پر حملہ صرف فوری خطرے کی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، جبکہ صدر فوری اور سنگین خطرے کی صورت میں یکطرفہ کارروائی کر سکتے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے شروع کرنے کے بعد ٹرمپ دو ویڈیو پیغامات جاری کر چکے ہیں۔ سوموار کو جاری ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران نے ‘تہذیب کے خلاف جنگ’چھیڑ دی تھی۔

انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آگے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت ہو سکتی ہے۔ پینٹاگون نے اتوار کو مشرق وسطیٰ میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے جاری رکھے ہیں۔ تہران اور اس کے اتحادیوں نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف حملے کیے ہیں اور پڑوسی خلیجی ممالک کے بعض ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صرف ایران میں ہی 555 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، اب تک لبنان میں 13، اسرائیل میں 10، متحدہ عرب امارات میں تین اور عراق میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ جبکہ عمان، بحرین اور کویت نے ایرانی جوابی کارروائی کے دوران ایک-ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اس تنازعہ کے ہندوستانی شہریوں پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔