حکومت نے کہا شیروں کی تعداد بڑھی، رپورٹ کا دعویٰ ہر سات میں سے ایک شیر کاغذی

انڈین ایکسپریس کی ایک خصوصی رپورٹ میں شیروں کی گنتی کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حکومت کے ذریعے بتائی گئی شیروں کی تعداد اصل شیروں سے زیادہ ہے۔

انڈین ایکسپریس کی ایک خصوصی رپورٹ میں شیروں کی گنتی کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حکومت کے ذریعے بتائی گئی شیروں کی تعداد اصل شیروں سے زیادہ ہے۔

فوٹو: رائٹرس

فوٹو: رائٹرس

نئی دہلی: دنیا بھر میں تیزی سے گھٹ رہی شیروں کی تعداد کو لےکر ان کے تحفظ کے تئیں بیداری پھیلانے کے مقصدسے ہرسال 29 جولائی کو عالمی یوم شیر منایا جاتا ہے۔ اس سال اس دن وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر‌کے شیروں کے تعداد کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 2014 کی مقابلے میں 2018 میں شیروں کی تعداد بڑھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2018 میں شیروں کی تعداد بڑھ‌کر 2967 ہو گئی ہے جو 2014 میں 2226 تھی۔ یعنی تقریباً 33 فیصد فیصدی کا اضافہ۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان 2967 کے تقریباً 83 فیصد کے فوٹوگراف بھی موجود ہیں۔ پچھلی بار کے 2226 شیروں میں 1635 یعنی تقریباً73 فیصدی کے فوٹو ہونے کی بات کہی گئی تھی۔

ملک میں شیروں کے تحفظ کے تئیں بیداری بڑھی ہے اور یقیناً ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، لیکن انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں شیروں کی گنتی کے عمل پر سوال اٹھایا گیا ہے۔2015 میں ہوئے سروے کی 1635 فوٹو اور اس کے علاوہ لی گئی 61 اور تصویروں-یعنی کل 1696 کو جانچنے کے بعد اس رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ فوٹو میں دکھائے جا رہے سات شیروں نے سے کم سے کم ایک کاغذی ہے کیونکہ کئی معاملوں میں ایک ہی شیر کی تصویروں کو دو یا تین بار گن لیا گیا ہے۔ کئی جگہ الگ الگ شیروں کی سیٹ میں ایک ہی شیر کی تصویر کی تکرار بھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جنگلی جانور کی آبادی کے اندازے کے قائم معیاروں  کے مطابق ان میں سے 221 شیروں کا حساب نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں اس تعداد کو 16 فیصدزیادہ بتایا گیا یعنی کہ اعداد و شمار میں بتائے گئے ہر سات شیروں میں سے ایک اصل میں وجود میں ہی نہیں ہے۔2006-07 سے یہ سروے وائلڈلائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور قومی شیر تحفظ اتھارٹی، جو ماحولیات وزارت کے تحت آتے ہیں، ذریعے کیا جاتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق اس بار جاری شیروں کے اعداد و شمار سے متعلق تصویروں کو عوامی نہیں کیا گیا ہے لیکن پچھلے سروے کی فوٹو کو نشان زد کرتے ہوئے افسروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کھینچی شیروں کی تصویروں میں گڑبڑی ہونے کا امکان بہت کم ہے۔انڈین ایکسپریس کی جانچ‌کے نتائج میں شیروں پر کام کرنے والے ملک کےٹاپ ماہر حیاتیات کے سروے اور مختلف معیارات پر شیروں کی تصویروں کا تجزیہ بھی شامل ہے۔ ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ڈپلی کیٹ: رپورٹ کے مطابق تقریباً51 فوٹو ڈپلی کیٹ پائے گئے-یعنی یہ تصویریں ایک ہی شیر کی تھیں۔ شیروں کی تعداد بڑھی ہے لیکن سرکاری تصویریں دکھاتی ہیں کہ فوٹو میں دکھائے جا رہے سات شیروں میں  سے کم سے کم ایک کاغذی ہے، جس کی تصویر دو بار لی گئی ہے یا کبھی تین بار بھی۔کئی معاملوں میں تصویروں میں تکرار ہے، فوٹو ایک ہی ہے لیکن الگ الگ شیروں کی سیٹ میں دکھائی گئی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: انڈین ایکسپریس

فوٹو بہ شکریہ: انڈین ایکسپریس

شیروں کے بچے: آبادی کے سروے میں عموماً شیر کے بہت چھوٹے بچوں کو شامل نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ ان کی اموات شرح زیادہ ہوتی ہے۔ ہندوستان میں شیروں کی گنتی کے لئے سرکاری رپورٹس میں 12-18 مہینے کی عمر دی گئی ہے۔ اگر اسی پیمانے کو مانیں، تو انڈین ایکسپریس کو ملے فوٹو میں ایسے 46 شیر ایسے بھی ہیں، جن کی عمر 12 مہینے سے کم ہے۔شیروں کی غلط گنتی: ایک شیر کے فلینک کے داہنےاور بائیں طرف کی دھاریاں  الگ الگ ہوتی ہیں۔ ایسے میں شیروں کی گنتی کے لئے ٹو فیسنگ کیمرہ لگایا جاتا ہے، جس سے جب کوئی شیر گزر رہا ہو تب ایک ہی بار میں اس کے دونوں طرف کے فلینک کی تصویر لی جا سکے۔

کسی ایک مخصوص شیر کی پہچان ان دو الگ الگ فلینک سے کی جاتی ہے۔ کئی بار کیمرہ کی کسی گڑبڑی کی وجہ سے صرف ایک فلینک کی تصویر کھنچ پاتی ہے۔ ایسے معاملوں میں کسی تصویر کو دو بار گننے کے امکان سے بچنے کے لئے سنگل فلینک والی تصویروں کا موازنہ ڈیٹا سیٹ میں موجود باقی فلینک والی فوٹو سے کی جاتی ہے۔اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مان لیجئے کہ کسی جنگل میں 10 مخصوص شیروں کو ان کے دونوں طرف کے فلینک کی پوری تصویر کی بنیاد پر گنا گیا ہے۔ ان دس کے علاوہ مان لیجئے کہ کیمرہ نے 8 ایسی تصویریں لی ہیں، جن میں ایک ہی فلینک دکھ رہا ہے-پانچ میں دایاں، تین میں بایاں۔

Express Investigation: Over… by Express Web on Scribd

چونکہ یہ پانچ الگ دائیں اور تین الگ بائیں حصہ غالباً ایک شیر کے بھی ہو سکتے ہیں، تو ایسے میں سنگل فلینک کے چھوٹی سیٹ کو گنا نہیں جائے‌گا۔ یعنی اس حساب سے گنتی ہوئی دس پلس پانچ یعنی پندرہ۔ لیکن سرکاری سروے میں ایسی حالت میں گنتی 18 ہے، یعنی سنگل فلینک کے سب سے چھوٹی سیٹ کو بھی گن لیا گیا ہے۔اس تعداد کے حساب سے 136 فوٹو ایسی ہیں، جن کو گنا نہیں جانا چاہیے تھا۔پہچانی نہ جا سکنے والی : کم سے کم 49 فوٹو ایسی ہیں جہاں بہ مشکل دکھ رہی دھاری یا ادھوری جانکاری-جیسے مونچھ یا دم سے شیروں کی پہچان کی گئی ہے۔ عام طور پر ایکسٹریکٹ کیمپیئر نام کے ایک سافٹ ویئر کی مدد سے شیروں کی دھاری کے پیٹرن کو ملایا جاتا ہے۔

اس سافٹ ویئر میں ملانے کے لئے واضح ریفرنس پوائنٹ جیسے سر / کندھا / کولہا کا جوائنٹ / دم وغیرہ کی مدد سے 3-ڈی ماڈل تیار کیا جاتا ہے جس کی ملان ڈیٹا سیٹ میں موجود ممکنہ تصویر سے کی جاتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی تصویر میں جس میں سر یا پچھلا حصہ ہی دکھ رہا ہے کسی واقعہ کی ریکارڈنگ کے لئے تو مؤثر ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس سے کسی مخصوص شیر کی گنتی نہیں کی جا سکتی۔مثال کے لئے کسی ایسی تصویر میں جس میں صرف شیر کا سر ہو، اس کو کسی مخصوص شیر کی گنتی کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا بھلےہی ڈیٹا سیٹ میں کسی شیر کی تصویر کے فریم میں اس کا سر نہ آیا ہو۔

ان تمام معیارات کو مانیں، تو انڈین ایکسپریس کے مطابق کل ملاکر 282 ایسی تصویریں  ہیں، جن کو نہیں گنا جانا چاہیے تھا۔ یعنی کل 1 696 میں سے صرف 1414 شیر اصل میں ہیں-جو کہ حکومت کے دعوے سے 221 کم ہے۔