’جمہوریت اُس وقت کمزور ہوتی ہے، جب اقتدار میں بیٹھے لوگ ہنسی سے ڈرتے ہیں اور اُس کے خلاف کارروائی شروع کر تے ہیں‘

دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی 'درخواست' پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔

دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی ‘درخواست’ پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔

گزشتہ11فروری کو ای-میل کے توسط سے دی وائر کو ایک میٹنگ میں شامل  ہونے کے لیے نوٹس بھیجا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ 7 فروری کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیے گئے 52 سیکنڈ کے اینیمیٹڈ کارٹون پر پابندی لگانے کے سرکار کے فیصلے پر ایک بین شعبہ جاتی کمیٹی (آئی ڈی سی)کے سامنے اپنی بات کہنے کا موقع دیا جائے گا۔

نوٹس میں کارٹون پر پابندی کی وجوہات بیان نہیں کی گئی تھیں، لیکن میٹنگ میں شامل ہوئے ‘دی وائر’ کے بانی مدیر، سدھارتھ وردراجن کو ان کا موقف پیش کرنے سے پہلے زبانی طور پر بتایا گیا کہ کارٹون کو بلاک کرنے کی بنیاد یہ تھی کہ اس میں ایسی ‘افواہیں’ یا ‘غیر مصدقہ معلومات’ تھیں جو ملک کے دفاع، سلامتی، وقار اور بیرونی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتی تھیں۔

اس کے بعد دی وائر نے بین شعبہ جاتی کمیٹی کے سامنے اپنی بات رکھی۔ اس کمیٹی میں وزارت داخلہ، اطلاعات و نشریات، خارجہ، آئی ٹی اور وزارت قانون کے ساتھ ساتھ  وزارت دفاع اور فوج کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

‘دی وائر’نے کمیٹی کو ایک تحریری جواب بھی سونپا ہے، جس کا متن درج ذیل ہے؛

♦♦♦

دس فروری 2026 کی شام 6:55 بجے ‘دی وائر’ کو ای-میل کے ذریعے ایک نوٹس موصول ہوا، جس میں بین شعبہ جاتی کمیٹی(آئی ڈی سی) کے سامنے پیش ہو کر اپنا تبصرہ یا وضاحت پیش کرنے کا ‘موقع’ دیے جا نے کی بات کہی گئی تھی۔ یہ نوٹس ہمارے پوسٹ کیے گئے 52 سیکنڈ کے ایک اینیمیٹڈ کارٹون کے کچھ سوشل میڈیا لنک(یو آر ایل) کو بلاک کرنے کی ‘درخواست’ کے حوالے سے تھا۔

ہمیں ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے براہ راست مطلع کیا تھا کہ انہیں موصول ہونے والے بلاکنگ آرڈر میں واضح طور پر انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ کی دفعہ 69اے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

ہمیں یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو دیے گئے نوٹس میں ایسا کوئی ٹھوس جواز پیش نہیں کیا گیا، جس کی بنیاد پر اس پابندی کو جائز قرار دیا جا سکے یا اس پر غور کیا جاسکے۔ حالاں کہ اسے ‘بلاک کرنے کی درخواست’ پر شنوائی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نوٹس میں دیے گئے لنک (یو آر ایل)کو ‘دی وائر’ کومطلع کیے جانے اور یہ ‘موقع’ دینے سے 22 گھنٹے پہلے ہی بلاک کر دیا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں  میں،  یہ نوٹس  کارروائی کیے جانے کے بعددیا گیا۔

گزشتہ 11فروری 2026 کو دوپہر 3 بجے ہوئی شنوائی میں مجھے زبانی طور پر بتایا گیا کہ اس کی وجہ ‘افواہیں’ یا ‘غیر مصدقہ معلومات’ پھیلانا ہے، جس سے قومی دفاع، سلامتی، وقار اور خارجہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ چونکہ یہ بات پہلی مرتبہ سامنے رکھی گئی تھی، اس لیے میں اپنا تحریری جواب ریکارڈ پر رکھ رہا ہوں۔

مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ کارٹون کا کون سا حصہ ‘افواہ’ تھا اور اس نے کسی بھی طرح  کےقومی مفاد کو کیسے متاثر کیا۔ کیا ملک کے کچھ لوگوں کا وزیر اعظم کے تئیں تنقیدی اپروچ رکھنا قومی مفاد کے خلاف ہو سکتا ہے؟ کسی رہنما یا حکومت پر طنزیہ کارٹون کو اس زاویے سے کب دیکھا گیا ہے؟ کوئی خوفزدہ انتظامیہ ہی ایسا سمجھ سکتی ہے۔

بلاک کیا گیا مواد 52 سیکنڈ کا ایک کارٹون کلپ ہے، جس میں وزیراعظم پر طنز کیا گیا ہے،ان کے پارلیامنٹ سے غیر حاضر رہنے کے فیصلے پر—کیوں کہ خاتون اپوزیشن اراکین پارلیامنٹ نے انہیں  مبینہ طور پر خطرہ ہونے کی بات کہی، (یہ بھی کہا گیا کہ وہ انہیں دانتوں سے کاٹ سکتی ہیں!)کے بارے میں کافی خبریں اور تبصرے سامنے آ چکے ہیں۔

وزیر اعظم ایک سیاسی  عہدے پر فائز ہیں اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ وہ اپوزیشن کے سوالوں یا دیگر معاملات سے جس طرح نمٹتے ہیں، وہ  میڈیا اور عوام کے لیے بحث، تنقید اور حتیٰ کہ طنز ومزاح کا موضوع ہے۔ یہ کہنا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم کو 52 سیکنڈ کے ایک مزاحیہ ویڈیو سے بچانے کی ضرورت ہے، یا قوم کو اس سے بچانے کی ضرورت ہے، ہندوستانی جمہوریہ کی توہین ہے۔

جمہوریت میں کسی منتخب رہنما کو تنقید یا مذاق سے بچانا قانون کا کام نہیں ہے، آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69اے، جس کے تحت ہمارے کارٹون کو بلاک کرنے کا حکم دیا گیا، میں بھی ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے بار بار آزادانہ عوامی مباحثے کی اہمیت پر زور دیا ہے، حتیٰ کہ ایسے مباحثے بھی جن میں ‘حکومت اور عوامی نمائندوں پر سخت، طنزیہ اور کبھی کبھار ناگوار تنقید’ شامل ہو (ڈی سی سکسینہ بنام چیف جسٹس آف انڈیا، 1996)۔

کسی بھی صورت میں ،اس ویڈیو میں ایسا کچھ بھی نہیں  ہے،جس  کی وجہ سے  اس کو دور دور تک ہندوستان کی خودمختاری اورسالمیت، دفاع، قومی سلامتی، بیرونی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات یا عوامی نظم و ضبط کو متاثر کرنے والا کہا جا سکے۔ نہ تو ایگزیکٹو اور نہ ہی آئی ڈی سی ان بنیادوں پر مواد بلاک کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں، جنہیں دفعہ 69اے میں تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ ان یو آر ایل کو بلاک کرنے کا کوئی قانونی اختیار موجود نہیں  ہےاور آپ کا انہیں بلاک کرنے کاحکم اختیارات کا غلط استعمال ہے۔

آئی ٹی ایکٹ کے انٹرمیڈیئری گائیڈلائنز 2021 کے تحت مواد کو بلاک کرنے کے لیے ایگزیکٹو کے پاس  واحد راستہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69 اےہے اور یہ یہیں تک محدود ہے۔ آئی ٹی رول 2021 کا قاعدہ 16 صرف اس اختیار کے استعمال کے طریقہ کار کو نافذ کرتا ہے اور وہ آئی ٹی ایکٹ کی حدود سے باہر نہیں جا سکتا۔

دفعہ 69(1) اے کے مطابق، جب مرکزی حکومت یا اس کی طرف سے مجاز افسر  کویہ لگتا ہے کہ کسی آن لائن معلومات کو روکنا ضروری یا مناسب ہے، تو وہ اسے بلاک کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ یہ حکم اس وقت دیا جا سکتا ہے جب یہ ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت کے مفاد میں، ہندوستان کے دفاع یا قومی سلامتی کے لیے، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے، عوامی نظم و نسق  کوبرقرار رکھنے کے لیے، یا مذکورہ باتوں سے متعلق کسی بھی سنگین جرم کو اکسانے سے روکنے کے لیے ہو۔

ایسی صورت میں حکومت (ذیلی دفعہ 2 کے تحت بنائے گئے قواعد کے تحت) تحریری وجوہات بیان کرتے ہوئے کسی بھی سرکاری ایجنسی یا ثالث (جیسے سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ کمپنی) کو یہ ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ کسی بھی کمپیوٹر وسیلے پر موجود معلومات کو عوام کی رسائی سے روک دے۔

یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ شریا سنگھل بنام یونین آف انڈیا (2015) معاملے میں سپریم کورٹ نے دفعہ 69اےکو صرف دو شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا تھا۔ پہلی شرط یہ تھی کہ کسی بھی مواد کو بلاک کرنے کے لیے ٹھوس وجوہات بیان کرنا لازمی ہوگا، جو دفعہ 69اے میں درج بنیادوں سے براہ راست متعلق ہوں۔ دوسری شرط یہ تھی کہ اگر مواد تیار کرنے والے کی پہچان معلوم ہو تو کارروائی سے پہلے اسے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا ہوگا۔ تاہم، اس معاملے میں ان میں سے کسی بھی بات پر عمل نہیں کیا گیا۔

آپ کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرادوں کہ یہ کارٹون صرف ان مسئلوں کی بات کرتا ہے جو پہلے سے  ہی عوامی بحث کا حصہ ہیں۔ یہ انہی الفاظ اور مسائل کی ہلکی پھلکی عکاسی ہے، جن سےہندوستان کا نیوز میڈیا بھرا پڑا ہے۔ پارلیامنٹ سے سرکار کے رہنماؤں کی عدم موجودگی ہمیشہ سے بحث اور تشویش کا موضوع رہی ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں بھی سوشل میڈیا پر بے شمار خبروں، ویڈیو اور ٹی وی مباحثوں میں یہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ لہٰذا اس کارٹون کلپ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو پہلے سے عوامی منظرنامے کا حصہ نہ ہو۔

چونکہ اب آپ کا یہ کہنا ہے کہ ہمارے کارٹون کو ‘افواہیں’ اور ‘غیر مصدقہ معلومات’ پھیلانے کےلیے بلاک کیا گیا ہے ،جس سے قومی سلامتی پر منفی اثر پڑتا،  تو میں یہاں متعدد ایسی رپورٹ کی فہرست ضمیمہ میں شامل کر رہا ہوں۔ ان میں ایک رپورٹ دسمبر 2023 کی بھی ہے، جس میں جنرل نرونے کی کتاب کے وہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جو مجھے لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے لیے سب سے زیادہ تشویش یا خجالت کا باعث سمجھے جا رہے ہیں۔ ان الفاظ کی نہ تو حکومت نے اور نہ ہی جنرل نے کبھی تردید کی۔ آج بھی درجنوں ایسی خبریں چل رہی ہیں جن میں یہی الفاظ—یا آئی ڈی سی کے لفظوں میں کہیں تو ’افواہیں‘ موجود ہیں، مگر بلاک صرف ’دی وائر‘ کے 52 سیکنڈ کے کارٹون کو کیا گیا ہے۔

ماضی میں ملک کے رہنماؤں نے اپنے اوپر کیے گئے طنز کا خیرمقدم کیا اور اس سے لطف اندوز ہوئے؛ ایک پراعتماد لیڈر کی پہچان یہی ہوتی ہے۔ اس طرح بلاک کرنا اقتدار، میڈیا گھرانوں اور اظہار رائے کی آزادی کی بنیادی روح کے ساتھ ناانصافی ہے۔

شاید آپ کو یاد ہو کہ میں اس سے پہلے بھی ایک ’پوسٹ فیکٹو‘ سماعت کے لیے آئی ڈی سی کے سامنے پیش ہواتھا—پہلی بار کارواں میگزین سے لیے گئے ایک اقتباس کوجبراً ہٹانے کے معاملے میں، اور پھر دی وائر کی ویب سائٹ کو بلاک کرنے اور ہندوستانی رافیل طیارہ گرائے جانے سےمتعلق سی این این کی رپورٹ پر مبنی خبر ہٹانے کے معاملے میں- نہ  توان کارروائیوں کی تفصیلات اور نہ ہی سماعت کے بعد اخذ کیے گئے نتائج (چاہے وہ معقول ہوں یا غیر معقول) کبھی مجھے بتائے گئے۔ یہ آئی ٹی ایکٹ اور قواعد کے تحت حکومت کو دیے گئے اختیارات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اسی ضمن میں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ دی وائر کا پورا انسٹاگرام اکاؤنٹ کچھ وقت کے لیے بلاک کر دیا گیا تھا۔ جب میں نے 9 فروری کو وزارت اطلاعات و نشریات کے جوائنٹ سیکریٹری سے اس بارے میں پوچھا، تو مجھے بتایا گیا کہ ’ہم نے آپ کا اکاؤنٹ بلاک نہیں کیا۔‘ چونکہ مواد کو بلاک کرنے کا حکم وزارت ہی کی جانب سے جاری ہوا تھا، جس کے نتیجے میں پورا اکاؤنٹ کچھ وقت کے لیے بند ہو گیا، ایسے میں ایک سرکاری افسر کو زیادہ شفاف اور واضح جواب دینا چاہیے تھا۔

چونکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس مواد کو بلاک کیا گیا ہے، اس کا آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69اےمیں درج مقاصد سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا اس بلاک کیے جانے کے حکم کو فوراً ردکیا جانا چاہیے۔ انصاف کے تقاضے کے تحت یہ بھی مناسب ہوگا کہ ان کارروائیوں سے متعلق جو بھی فیصلہ لیا جائے، اس کی جانکاری بغیر کسی تاخیر کےدی وائر کو دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی، دفعہ 69اےکے تحت جاری کیے گئے اس حکم کی کاپی بھی  ہمیں فراہم کی جائے، جس کی بنیاد پر آپ کے نوٹس میں مذکور یو آر ایل  کوبلاک کیا گیا۔

لال کرشن اڈوانی ایمرجنسی کے دوران ایک ڈائری لکھا کرتے تھے، جسے بعد میں انہوں نے ’اے پرزنرز اسکریپ بک‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس میں 31 اگست 1975 کو انہوں نے ہندوستان کےمؤقر طنزیہ جریدے ’شنکرویکلی‘ کے بند ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ میں وہ حصہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔

قابل ذکر ہے کہ31اگست کے آخری شمارے میں ’فیئر ویل‘ کے عنوان سے ایک اداریہ شائع ہوا، جس کے بارے میں اڈوانی لکھتے ہیں؛ ’اس اداریے میں ’ایمرجنسی‘ کا لفظ کہیں استعمال تک نہیں کیا گیا ہے، لیکن اس مضمون سے بڑھ کر ایمرجنسی کی کوئی اور سخت مخالفت نہیں ہو سکتی۔ شنکر نے اس میں دیگر باتوں کے ساتھ لکھا ہے… ’تاناشاہی کو ہنسی برداشت نہیں ہوتی، کیونکہ لوگ تاناشاہ پر ہنس سکتے ہیں، اور تاناشاہ کو یہ منظور نہیں ہوتا۔‘

آخر میں، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جمہوریت کسی ایک لمحے میں ختم نہیں ہوتی؛ وہ آہستہ آہستہ اور خاموشی سے ختم ہوتی رہتی ہے، جب اقتدار میں بیٹھے لوگ طنزومزاح سے ڈرنے لگتے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی شروع کر دیتے ہیں۔ آپ اپنے فیصلے پر دستخط کرنے سے پہلے بس ایک بار خود سے یہ سوال کیجیے کہ جس آئین پر آپ نے حلف لیا ہے، کیا وہ اقتدار کو طنز سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا، یا شہریوں کو اقتدار کے ناجائز استعمال سے بچانے کے لیے؟

شکریہ

ضمیمہ:

پارلیامنٹ میں حالیہ تنازعے سے متعلق خبریں-

للن ٹاپ

جن ستا

 نیشنل ہیرالڈ

 ہندوستان ٹائمز

 دکن ہیرالڈ

دی فیڈرل

 این ڈی ٹی وی

 آؤٹ لک

 دی لیف لیٹ

 دی آرگنائزر

 انڈیا ٹوڈے (دسمبر 2023 کی رپورٹ میں انہی الفاظ کا ذکر ہے جن کا ذکر پارلیامنٹ میں کیا گیا تھا۔)

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔