وزارت تعلیم کا موجودہ بحران صرف پیپر لیک، نیٹ تنازعہ یا این ٹی اے کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالوں تک محدود نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کے لیے اس کی اہمیت ان فوری مسائل سے کہیں زیادہ ہے۔

سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان۔تصویر: پی آئی بی
آر ایس ایس نے 1967میں جب اپنے سیاسی ونگ بھارتیہ جن سنگھ کے توسط سے پہلی بار اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھا اور شمالی ہندوستان کی بعض ریاستوں میں سوشلسٹ جماعتوں کے ساتھ سنیکت ودھایک دل (سنوید) حکومتوں کا حصہ بنا، اسی وقت سے اس کا اولین مقصد وزارت تعلیم پر کنٹرول حاصل کرنا رہا ہے۔ سنگھ پریوار بخوبی سمجھتا تھا کہ نصابی کتابوں اور تعلیمی نصاب کے ذریعے نظریاتی اثر و رسوخ کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد، جو قومی تحریک کے سرکردہ رہنما، ممتاز دانشور اور کانگریس کے سابق صدر تھے، کا اس منصب پر فائز ہونا آر ایس ایس کے لیے ہمیشہ ایک گہری خلش کا باعث رہا۔
حالاں کہ اندرا گاندھی کی حکومت نے بھی ایمرجنسی کے دوران تعلیم کو ریاستوں کے خصوصی اختیار کے دائرے سے نکال کر اسے زیادہ مرکزی بنانے کی سمت میں اقدامات کیے تھے، لیکن ایسا کرنے کے پس پردہ آر ایس ایس کے نظریاتی محرکات اس سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ واضح تھے۔
یہ نظریاتی اصرار 2002 میں بی جے پی کی قیادت والی پہلی این ڈی اے حکومت کے دوران کھل کر سامنے آیا، جب اسکول کی نصابی کتابوں میں کی گئی تبدیلیوں پر ملک بھر میں شدید تنازعہ کھڑا ہوگیا اور معاملہ آخرکار سپریم کورٹ پہنچا۔ درخواست گزاروں کی دلیل تھی کہ نیشنل کریکولم فریم ورک سیکولرازم کے اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اسے سینٹرل ایجوکیشن ایڈوائزری بورڈ(سی اے بی ای)سے مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ سی اے بی ای کا کردار صلاح کار کا ہے، لیکن روایت کے مطابق اس سے مشورہ کیا جانا چاہیے، تاکہ تعلیم کی ترقی سے متعلق امورمیں مرکز اور ریاستی حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی برقرار رہے۔
اس وقت وزیر تعلیم کون تھے؟ بی جے پی کے سب سے بااثر رہنماؤں میں شمار کیے جانے والے اور پارٹی کے دو مرتبہ قومی صدر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی۔
اب آئیے مودی حکومت کے تیرہویں سال کی طرف۔ اس دور میں آر ایس ایس کے وسیع نظریاتی منصوبے میں دھرمیندر پردھان کا کردار بے حد اہم تھا۔ پارٹی کے اندر انہیں کئی وجوہات کی بنا پر ایک اہم رہنما سمجھا جاتا تھا۔ وہ پارٹی صدر کے عہدے کے لیے ممکنہ او بی سی چہرہ تھے، بہار اور مغربی بنگال کے انچارج تھے، اور اڑیسہ میں، جہاں حال ہی میں بی جے پی کی حکومت بنی ہے، انہیں مستقبل کے ممکنہ وزیر اعلیٰ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا۔ ایسے میں ان کااس طرح اچانک اور ہتک آمیز طریقے سے اقتدار سے باہر ہونا نہ صرف بی جے پی کی مستقبل کی قیادت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے،بلکہ اس سے بھی زیادہ گہرا اثر آر ایس ایس کے طویل مدتی نظریاتی ایجنڈے پر پڑا ہے۔
اسی لیے آر ایس ایس سے وابستہ دھرمیندر پردھان، جن کے والد بھی اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں مرکزی وزیر رہ چکے تھے، مودی حکومت میں سب سے طویل عرصے تک وزیر تعلیم رہے۔ سنگھ کی قیادت کو ان پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ تعلیم کے میدان میں سنگھ کے نظریاتی ایجنڈے کو مکمل وفاداری کے ساتھ نافذ کریں گے۔
مظاہرین کے لیے دھرمیندر پردھان ایک علامت بن گئے تھے، لیکن ان کی تحریک دراصل اس تعلیمی پالیسی کے خلاف تھی جسے بی جے پی نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس تحریک نے بی جے پی کے اس وسیع منصوبے کو اجاگرکر دیا، جس کے تحت وہ ایک ایسا نیا تعلیمی نظام قائم کرنا چاہتی ہے جہاں آئی آئی ٹی جیسے اداروں میں انڈین نالج سسٹم پر زور دیا جائے، طلبہ گلگوٹیا جیسے نجی جامعات میں تعلیم حاصل کریں، ٹکنالوجی کے دلکش نعروں کو دہرائیں اور ٹکنالوجی سے صرف رسمی وابستگی کا اظہار کریں، جبکہ سائنس اور سائنسی طرز فکر کو دانستہ طور پر پس پشت ڈال دیا جائے۔ ایسے نظام میں منطق اور سائنسی سوچ کی بنیاد کو منظم انداز میں نظریاتی ترجیحات سے تبدیل کیا جاتا ہے۔
اس ماڈل میں آزاد طلبہ تنظیموں کو یا تو عملاً حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے یا ان کی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں پیدا ہونے والے خلا پر تقریباً مکمل طور پر آر ایس ایس سے وابستہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کا غلبہ قائم ہو جاتا ہے۔ متنازعہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این ای پی) 2020 پر الزام ہے کہ وہ ریاستوں کے اختیارات کو کمزور کرتی ہے۔ دھرمیندر پردھان کی قیادت میں وزارت تعلیم نے تمل ناڈو اور کیرالہ جیسی ریاستوں پر اپنی پالیسیاں قبول کروانے کے لیے مرکزی مالی امداد کو دباؤ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے علاوہ، ان کے دور میں جامعات کے وائس چانسلروں کی تقرریاں بھی مسلسل ایسے لوگوں میں سے کی گئیں جنہیں آر ایس ایس کے نظریاتی دائرے سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی تقرریاں تنازعات کا سبب بھی بنیں۔
اس نظریاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ حاشیے پر موجود طبقات کے طلبہ اور مجموعی طور پر پبلک ایجوکیشن کے لیے مالی معاونت میں منظم انداز میں کٹوتی کی گئی۔ مودی حکومت کے دور میں اقلیتی اور دلت طلبہ کی اسکالر شپ کے لیے مختص بجٹ میں مسلسل اور منصوبہ بند طریقے سے کمی کا مشاہدہ کیا گیا۔ حال ہی میں مرکزی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ سائنس کے طلبہ کے لیے جاری انسپائر-ایس ایچ ای اسکالرشپ اسکیم کی تجدید نہیں کرےگی۔ اس اسکیم نے اب تک سائنس کے میدان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والے ہزاروں طلبہ کی معاونت کی ہے۔
عوامی تعلیم پر سرکاری اخراجات میں لگاتار گراوٹ کے بارے میں کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔ حال ہی میں ادت مشرا نے تفصیل سے دکھایا کہ اخراجات سے متعلق مرکزی حکومت کی ترجیحات میں تعلیم تقریباً سب سے نچلے پائیدان پر ہے۔ ان کے مطابق، نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے مرکزی بجٹ میں وزارت تعلیم کا حصہ تقریباً نصف رہ گیا ہے۔ یہ حصہ 2013-14 میں 4.6 فیصد تھا، جو کم ہو کر 2025-26 میں صرف 2.5 فیصد رہ گیا۔

بہ شکریہ: انڈین ایکسپریس ایکسپلینڈ
آزادہندوستان میں تعلیم کو ہمیشہ سماجی اور معاشی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ سمجھا گیا۔ لیکن مودی حکومت میں آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اس راستے کو تقریباً مسدود کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال کو کئی ادارہ جاتی ناکامیوں نے مزید سنگین بنا دیا، جن میں لگاتار ہو رہے پیپر لیک، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) جیسے نئے اداروں کی طرف سے حد درجہ سینٹرلائزڈ اگزامینیشن سسٹم کی مسلسل بدانتظامی ، اور برسوں تک سرکاری نوکریوں میں بھرتیوں کا نہ نکلنا، نیز داخلہ اور تقرری کے امتحانات کا باقاعدگی سے منعقد نہ کیا جانا شامل ہے۔
مسلح افواج میں مستقل اور محفوظ نوکری کی جگہ اگنی ویر اسکیم نافذ کیے جانے کے بعد، جسے نوجوان اپنے مستقبل کے لیے ایک قابل اعتماد متبادل سمجھتے تھے، تعلیم کا سوال، جو پہلے ہی تشویش کا باعث تھا، اب وسیع عوامی بے چینی اور احتجاج کا ایک سنگین اور بڑا معاملہ بن گیا۔
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور سڑکوں پر بڑے پیمانے پر عوامی غم و غصے کے بعد آر ایس ایس کے سامنے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ہندوستان میں تعلیم سے متعلق اس کا پورا منصوبہ اور آئندہ نسلوں کو پالیسی سے متعلق تبدیلیوں کے ذریعے اپنے نظریاتی سانچے میں ڈھالنے کی اس کی حکمت عملی پٹری سے اتر سکتی ہے۔ آر ایس ایس کے لیے دھرمیندر پردھان کی اہمیت یہی تھی، اسی لیے ان کے دور اور ان کے فیصلوں کا دفاع کرنے کے لیے آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنما لگاتار ان کے حق میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این ای پی) 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے گھبراہٹ والے بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ اسی کوشش کا حصہ ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تعلیم کے شعبے میں ہندوتوا کے اس منصوبے کو بچایا جا سکے، اس سے پہلے کہ نیٹ پیپرلیک کا معاملہ اور موجودہ عوامی غصہ اس پورے ڈھانچے کو منہدم کر دے۔ سنگھ پریوار کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ جین- زی ہندوتوا کے اس کے نظریاتی منصوبے کو مسترد کر رہی ہے۔ یہ نسل ان کوششوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہی ہے جن کے ذریعے اسے آزاد سوچ اور اپنے خودمختار کردار سے محروم کر کے صرف ماضی کا تابعدار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سڑکوں پر اس وسیع عوامی غم و غصے کے درمیان مودی حکومت کو ناقابل تلافی سیاسی نقصان سے بچانے کے لیے دھرمیندر پردھان کی قربانی دینی پڑی۔ لیکن ان کے عہدے سے ہٹنے کے بعد اب آر ایس ایس کے پورے تعلیمی منصوبے پر ہی بڑے اور مشکل اٹھنے لگے ہیں۔ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ آر ایس ایس کی ان منصوبہ بندیوں کے لیے شاید ایک بڑے جھٹکے کی ابتدا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنما ان کی کارکردگی کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں، جبکہ ان کی تمام ناکامیوں کو محض انتظامی کوتاہی قرار دے کر محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی جس صورتحال سے سب سے زیادہ ڈرتےرہے ہیں، وہ اب مجسم ہوتی نظر آ رہی ہے، نوجوانوں کی ایک ایسی تحریک، جسے ایک مرکزی وزیر کے استعفیٰ نےاور زیادہ حوصلہ دیا ہے۔ ممکن ہے کہ اب یہ تحریک صرف معمولی اصلاحات سے مطمئن نہ ہو، بلکہ ہندوستان کے پورے تعلیمی نظام میں ’مکمل انقلاب‘کا مطالبہ کرنے لگے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔