سپریم کورٹ نے ممبئی کی آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی  پر روک لگائی

04:59 PM Oct 07, 2019 | دی وائر اسٹاف

قانون کے طالب علموں کے ذریعے اس بارےمیں  چیف جسٹس رنجن گگوئی کو لکھے گئے خط کے بعد معاملے کی سماعت کے لئے دو ججوں کی بنچ تشکیل کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سوموار کو ممبئی کی آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی پر روک لگا دی اور مہاراشٹر حکومت کو حکم دیا کہ اگلی سماعت تک وہ اس معاملے میں موجودہ حالات کو  بنائے رکھیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس ارون مشرا اور جسٹس بھوشن کی بنچ نے یہ حکم دیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 21 اکتوبر کو فاریسٹ بنچ کے سامنے ہوگی۔

غور طلب ہے  کہ قانون کے طالب علموں کے ایک گروپ کے ذریعے اس بارےمیں چیف جسٹس رنجن گگوئی کو لکھے گئے خط کے بعد یہ دو ججوں کی بنچ تشکیل کی گئی تھی۔ اس سے پہلے آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی پر روک لگانے کی مانگ کو لےکر بامبے ہائی کورٹ پہنچے لوگوں کی عرضی کو کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں اس معاملے میں سینئر وکیل سنجےہیگڑے اور گوپال شنکرنارائنن نے درخواست گزاروں کی پیروی کی۔ انہوں نے کورٹ کو بتایا کہ آرے جنگل ہے یا نہیں، ابھی یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا ہے۔ اس کے علاوہ این جی ٹی اس معاملے پر غور کر رہی ہے کہ آرے علاقہ ایکو-سینسٹو ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس لئے انتظامیہ کو فیصلہ آنے تک آرے کالونی کے درختوں کو نہیں کاٹنا چاہیے تھا۔ اس سے پہلے جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ کے دو ججوں چیف جسٹس پردیپ نندراجوگ اور جسٹس بھارتی ڈانگرے کی بنچ نے درختوں کی کٹائی پر روک لگانے کے بارے میں این جی او اور ماہرِ ماحولیات کے ذریعے دائر کی گئی پانچ عرضیوں  کو خارج کر دیا تھا۔

گزشتہ جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد رات کو نو بجے سے دو گھنٹے کے اندر ایم ایم آر سی ایل نے الیکٹرک مشین سے 450 درختوں کو کاٹ دیا تھا۔ حالانکہ مقامی لوگوں کے ذریعے مخالفت کے بعد کچھ دیر تک اس عمل کو روک دیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں پولیس کی مدد سے سنیچر رات نو بجے تک  آرے کالونی کے تقریباً 2134 درختوں کو کاٹ دیا گیا۔

ممبئی پولیس نے آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی کو لےکر ہوئے  مظاہرہ کے بیچ سنیچر کی صبح کالونی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جس کے بعد 29 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ اس معاملے کو لےکر گرفتار کئے گئے تمام مظاہرین کو رہا کیا جائے۔ اس پر بھروسہ دلاتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا، ‘ اگر کسی کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے تو ان کو فوراً رہا کیا جائے گا۔’