الکٹرانک ڈیوائس کی ضبطی سے متعلق عرضی کا جواب نہ دینے پر عدالت نے سرکار پر جرمانہ لگایا

ایک عرضی میں ماہرین تعلیم کے ایک گروپ نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعے الکٹرانک ڈیوائس کی ضبطی ، جانچ اوراس کے تحفظ کے لیے رہنما خطوط وضع کرنے کی مانگ کی تھی۔ اس کا جواب نہ دینے پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت پر 25000 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

ایک عرضی میں ماہرین تعلیم کے ایک گروپ نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعے الکٹرانک ڈیوائس  کی ضبطی ، جانچ اوراس کے تحفظ کے لیے رہنما خطوط وضع کرنے کی مانگ کی تھی۔ اس کا جواب نہ دینے پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت پر  25000  روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

سپریم کورٹ / فوٹو: پی ٹی آئی

سپریم کورٹ / فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ماہرین تعلیم کے ایک گروپ کی عرضی پر جواب داخل نہ کرنے پر مرکزی حکومت پر 25000 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

دی ہندو کے مطابق، ان ماہرین تعلیم نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعے الکٹرانک ڈیوائس  کو ضبط کرنے، تفتیش اور تحفظ کے لیے رہنما خطوط وضع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بار اینڈ بنچ کے مطابق، سپریم کورٹ نے اگست میں کہا تھا کہ وہ مرکزی حکومت کے حلف نامہ سے مطمئن نہیں ہے۔عرضی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر رام راما سوامی، ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی کی پروفیسر سجاتا پٹیل، انگریزی اور غیر ملکی زبانوں کی یونیورسٹی کے پروفیسر مادھو پرساد، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر مکل کیشوان اور ماہر اقتصادیات دیپک ملگھن نے دائر کی تھی۔

درخواست گزاروں نے نشاندہی کی تھی کہ لوگوں کا زندگی بھر کا کام ان کے شخصی ڈیوائس میں محفوظ ہوتا ہے اور اگر ضبطی کو منظم نہیں کیا جاتا تو یہ ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ایم ایم سندریش نے بھی اس بات کو مانا کہ الکٹرانک ڈیوائس میں شخصی  معلومات اور مواد ہوتا ہے، جس کی حفاظت کی ضرورت ہے۔

بنچ نے زبانی طور پر کہا، آج کل لوگ اسی پر جیتے  ہیں۔بنچ نے مرکزی حکومت سے یہ یقینی بنانے کے لیے بھی کہا کہ اس معاملے پر بین  الاقوامی چلن کی پیروی کے علاوہ مناسب مواد کو ریکارڈ میں رکھا جائے۔

مرکزی حکومت کی طرف سے پیش  ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایس وی راجو نےبنچ کو بتایا کہ مرکزی حکومت ایک تفصیلی حلف نامہ داخل کرے گی اور اس کے لیے چھ ہفتے کا وقت مانگاہے۔

دی ہندو نے بتایا کہ اسی معاملے پر فاؤنڈیشن فار میڈیا پروفیشنلز کی طرف سے دائر کی گئی ایک اور درخواست کو پہلی عرضی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اس عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ نجی ڈیجیٹل ڈیوائسزکو دیکھنے اور ان کو قبضے میں لینے کے پولیس کے اختیارات کو منظم کرنے کے لیے موجودہ قواعد ناکافی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 31 اکتوبر کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بی جے پی لیڈر امت مالویہ کی شکایت پر درج ایف آئی آر کے سلسلے میں دفعہ 91 کے نوٹس کے تحت دہلی میں دی وائر کے دفتر سمیت اس کے بانی مدیرر سدھارتھ وردراجن، ایم کے وینو، ڈپٹی ایڈیٹر جہانوی سین اورممبئی میں سدھارتھ بھاٹیہ اور پروڈکٹ کم بزنس ہیڈ متھن کدامبی کے گھر کی تلاشی کے دوران مختلف آلات ضبط کیےتھے۔ اس کے علاوہ دفتر کے اکاونٹ اسٹاف کے زیر استعمال دو کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسک بھی ضبط لی گئی تھیں۔

اس کے بعد دی وائر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ضبط کی گئی ڈیوائسز– فون، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ وغیرہ کی ہیش ویلیوز (کسی بھی فائل کے فنگر پرنٹس یعنی خصوصی شناخت) نہیں دی گئی ہیں۔

دی ہندو کی  رپورٹ میں اپنی پہچان  ظاہر نہ کرنے والے دہلی پولیس کے ایک اہلکار کے حوالہ سے کہا گیاہے کہ ضبطی کے وقت ڈیجیٹل دستاویز کی ہیش ویلیو ملزم کو نہیں دی جاتی  اور’ثبوت کی صداقت کی تصدیق کرنے کے لیے اسے بعد میں عدالت میں  دیا جا تا ہے۔