جھوٹے انتخابی حلف نامہ معاملے پر سپریم کورٹ نے دیویندر فڈنویس کی عرضی خارج کی

مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس پر 2014 کے انتخابی حلف نامے میں مبینہ طور پر اپنے خلاف زیر التوا دو مجرمانہ معاملوں کی جانکاری نہیں دینے کا الزام ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں 2019 میں فڈنویس کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔

مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ  دیویندر فڈنویس پر 2014 کے انتخابی  حلف نامے میں مبینہ طور پر اپنے خلاف زیر التوا دو مجرمانہ  معاملوں کی جانکاری نہیں دینے کا الزام  ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں 2019 میں فڈنویس کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم  دیا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کو انتخابی حلف نامے سے جڑے معاملے میں جھٹکا دیتے ہوئے 2019 کے اپنے فیصلے کا تجزیہ  کرنے سے انکار کر دیا۔

فڈنویس  پر 2014 کے انتخابی حلف نامے میں مبینہ طور پر اپنے خلاف  زیر التوا دو مجرمانہ  معاملوں کی جانکاری نہیں دینے کا الزام  ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں 2019 میں فڈنویس کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم  دیا تھا۔، جس کے تجزیے کے لیے فڈنویس  نے عرضی دائر کی تھی۔

جسٹس ارون مشرا کی صدارت  والی تین ججوں کی بنچ  نے کہا کہ پچھلے سال سنائے گئے حکم  کے تجزیے کی کوئی بنیاد  نہیں ہے۔بنچ  نے کہا، ‘عرضیوں  کے تجزیے کی کوئی بنیاد  نہیں ہے۔ انہیں خارج کیا جاتا ہے۔’حکم  18 فروری کو پاس کیا گیا تھا اور منگل کو اسے سپریم کورٹ  کی ویب سائٹ پر ڈالا گیا۔

بتا دیں کہ، اکتوبر 2019 میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں دیویندر فڈنویس کے ذریعے دو زیر التوا مجرمانہ  معاملوں کی جانکاری مہیا نہیں کرانے کے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ کا حکم رد کر دیا تھا۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ فڈ نویس کو ان مبینہ جرائم  کے لیے ری پریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ کے تحت مقدمے کا سامنا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ دونوں مجرمانہ  معاملے مبینہ  جھوٹ  اور جعل سازی کے ہیں جو فڈنویس  کے خلاف 1996 اور 1998 میں دائر ہوئے تھے لیکن ان میں  ابھی تک الزام طے  نہیں کئے گئے تھے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)