بابری مسجد انہدام معاملہ: سپریم کورٹ نے کہا، 9 مہینے میں سنائیں فیصلہ، جج کی مدت کار بڑھائی جائے

اس معاملے میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 12 لوگ ملزم ہیں۔

اس معاملے میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 12 لوگ ملزم ہیں۔

لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی (فوٹو : پی ٹی آئی)

لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اسپیشل سی بی آئی کورٹ سے کہا ہے کہ بابری مسجد گرائے جانے کے معاملے کی سماعت نو مہینے کے اندر پوری کریں۔ اس معاملے میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 12 لوگ ملزم ہیں۔

لائیو لا ءکے مطابق؛ سپریم کورٹ کے جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس سوریہ کانت نے ہدایت دی کہ معاملے میں ثبوتوں کا جائزہ چھ مہینے کے اندر پورا ہو جانا چاہیے اور آج سے لےکر اگلے نو مہینے میں اس معاملے میں فیصلہ سنایا جائے۔

کورٹ نے اترپردیش ریاستی حکومت کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ ایڈمنسٹریٹو حکم جاری کر لکھنؤ کی سی بی آئی کورٹ کے اسپیشل جج ایس کے یادو کی مدت کار فیصلہ سنانے تک بڑھائیں، جو اس مقدمہ کی سماعت کر رہے ہیں۔ واضح ہو کہ  جج 30 ستمبر کو ریٹائر ہونے والے تھے۔

گزشتہ  سوموار کو کورٹ نے یوپی حکومت کو اسپیشل جج کے ذریعے کی گئی  درخواست پر جواب دینے کی ہدایت دی تھی۔ جج ایس کے یادو نے سپریم کورٹ کو خط لکھ‌کر کہا تھا سماعت ختم کرنے میں ابھی اور وقت لگے‌گا۔

غور طلب ہے کہ ایودھیا میں 6 دسمبر، 1992 کو متنازعہ ڈھانچے کے انہدام  کے معاملے سے متعلق دو مقدمے ہیں۔ پہلے مقدمہ میں نامعلوم ‘ کار سیوکوں ‘ کے نام ہیں جبکہ دوسرے مقدمہ میں بی جے پی رہنماؤں پر رائے بریلی کی عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔19 اپریل، 2017 کو سپریم کورٹ کے جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس آر ایف نریمن کی بنچ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے ملزمین کو بری کئے جانے کے فیصلے کے خلاف سی بی آئی کے ذریعے دائر اپیل کی اجازت دےکر  جوشی، اوما بھارتی سمیت 12 لوگوں کے خلاف سازش کے الزامات کو بحال کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے غیرمعمولی آئینی اختیارات  کا استعمال کرتے ہوئے رائےبریلی اور لکھنؤ کی عدالت میں زیر التوا مقدموں کو ملانے اور لکھنؤ میں ہی اس پر سماعت کا حکم دیا تھا۔کورٹ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ معاملے کی کارروائی روزانہ کی بنیاد پر دو سالوں میں پوری کی جائے۔

بنچ نے کہا کہ راجستھان کے گورنر ہونے کے ناطے معاملے کے ایک ملزم کلیان سنگھ کو آئینی تحفظ یا بچاؤ حاصل ہوگا، لیکن جیسے ہی وہ عہدہ چھوڑتے ہیں ان کے خلاف اضافی الزام دائر کئے جائیں‌گے۔ سنگھ ستمبر میں گورنر کے عہدے سے ہٹیں‌گے۔گزشتہ سال 30 مئی کو اسپیشل سی بی آئی نے بی جے پی کے سینئر ہنما لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 12 لوگوں کے خلاف الزام طے کئے تھے۔