سنیتا ولیمز کی نو ماہ بعد زمین پر واپسی، وہائٹ ہاؤس نے کہا – ٹرمپ حکومت نے اپنا وعدہ نبھایا

سنیتا ولیمز اور دیگر خلابازوں کی زمین پر واپسی میں تاخیر کی بڑی وجہ بوئنگ اسٹار لائنر خلابی جہاز میں آئی خرابی تھی۔ یہ خلائی جہاز ان لوگوں کو زمین پر واپس لانے والا تھا، لیکن تکنیکی خرابی کے باعث ان خلابازوں کو لمبا انتظار کرنا پڑا۔

سنیتا ولیمز اور دیگر خلابازوں کی زمین پر واپسی میں تاخیر کی بڑی وجہ بوئنگ اسٹار لائنر خلابی جہاز میں آئی خرابی تھی۔ یہ خلائی جہاز ان لوگوں کو زمین پر واپس لانے والا تھا، لیکن تکنیکی خرابی کے باعث ان خلابازوں کو لمبا انتظار کرنا پڑا۔

تصویر بہ شکریہ: x/@NASA

تصویر بہ شکریہ: x/@NASA

نئی دہلی: گزشتہ سال جون میں محض آٹھ دنوں کے لیے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن  پر گئیں خلاباز سنیتا ولیمز اور کرو- 9 کے ارکان بچ ولمور، نک ہیگ اور روسی خلاباز الیگزینڈر گوربونوف اسپیس ایس  کے ڈریگن کیپسول کے ذریعے نو ماہ بعد زمین پر واپس  لوٹ آئے ہیں۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق ، ان خلابازوں کو ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ڈریگن کیپسول کے ذریعے بدھ (19 مارچ) کو ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 3:27 بجے فلوریڈا کے ساحل پر بہ حفاظت اتارا گیا۔ انہیں خلائی اسٹیشن سے زمین تک پہنچنے میں 17 گھنٹے کا وقت لگا۔

سمندر کی سطح پر آنے کے بعد کنٹرول سینٹر نے خلابازوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ‘نِک، ایلک، بِچ، سنی… اسپیس ایکس  گھر واپسی  پر آپ کا استقبال کرتا ہے۔’

اس حوالے سے ناسا کے کمرشیل کرو پروگرام کے منیجر اسٹیو اسٹچ نے بتایا کہ خلابازوں کی صحت ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلاباز کچھ وقت تک ری کوری شپ پر رہیں گے اور پھر انہیں ہیوسٹن لے جایا جائے گا۔

انہوں نے اپنی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور کہا’ ناسا کی ضروریات کے مطابق  خود کوڈھالنے’ کے لیے امریکی ٹائیکون ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس  کی تعریف کی۔

ناسا کے خلائی آپریشن مشن ڈائریکٹرز کے ڈپٹی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جوئل مونٹالبانو نے کہا کہ سنیتا اور بچ نےآئی ایس ایس  پر رہتے ہوئے 900 گھنٹے تحقیق  کی اوراس دوران  150 سائنسی تجربات کیے ہیں۔

انہوں نے ان تجربات کو ‘ملک کے لیے مفید’ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اس دہائی کے آخر تک انسانوں کو مریخ پر اتارنے کے ناسا کے ہدف میں مددگار ثابت ہوں گے۔

آٹھ دن کا سفر نو مہینوں میں کیسے بدل گیا؟

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ان خلابازوں کی تاخیر کی بنیادی وجہ بوئنگ اسٹار لائنر خلائی جہاز  میں خرابی تھی۔ یہ خلائی جہاز ان لوگوں کو زمین پر واپس لانے والا تھا، لیکن اس خرابی کی وجہ سے ان خلابازوں کو اتنا لمبا انتظار کرنا پڑا۔

سنیتا ولیمز اور بچ ولمور جس اسٹار لائنر خلائی جہاز کے ذریعے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پہنچے تھے، اسے  بوئنگ نے ہی بنایا تھا۔

بی بی سی کے مطابق، پرواز کے دوران جب یہ خلائی جہاز آئی ایس ایس کے قریب پہنچا تو اس میں مسائل پیدا ہو گئے۔ اسٹار لائنر کے پانچ تھرسٹرز بند ہو گئے۔ خلا میں واکیوم ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں تھرسٹرز خلائی جہاز کو سمت دینے کا کام کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اس خلائی جہاز کا ہیلیم بھی ختم ہو گیا۔ اس سے دونوں خلابازوں کی واپسی مزید مشکل ہو گئی۔ خلائی جہاز میں خرابی کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ اگلے چند ماہ کے دوران خلائی جہاز کی تکنیکی خامیوں میں اضافہ ہوتا رہا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سنیتا ولیمز کی خلا سے واپسی میں تاخیر ہوئی ہو۔ ان کے پہلے سفر کے دوران بھی ان کی واپسی کی تاریخ میں تاخیر ہوئی۔ اس دوران وہ چھ ماہ سے زائد عرصے تک آئی ایس ایس پر رہی تھیں۔ اس وقت ناسا اٹلانٹس نامی خلائی جہاز استعمال کر رہا تھا۔ کینیڈی اسپیس سینٹر سے ٹیک آف کرنے کے بعد اس کی بیرونی حفاظتی ڈھال میں شگاف پڑ گیا تھا۔

اس کے بعد خلائی مرکز کے کمپیوٹر بھی خراب ہو گئے۔ چار بار سولر پینل کی مرمت کی کوشش بھی کی گئی۔ ان تمام مسائل کو دور کرنے کے بعد اٹلانٹس سنیتا ولیمز کو واپس لانے میں کامیاب رہی۔

اس سفر کے دوران انہوں نے ایک خاتون کی جانب سے اب تک کی طویل ترین خلائی چہل قدمی (اسپیس واک ) کا ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔ اس عرصے میں وہ چار مرتبہ اسپیس واک پر گئی تھیں۔

اس سے قبل یہ ریکارڈ خلا باز کیتھرین تھارنٹن کے نام تھا۔ انہوں نے 21 گھنٹے سے زیادہ خلائی چہل قدمی کا ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔

ناسا نے بوئنگ کے بجائے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا خلائی جہاز استعمال کیا

ناسا کے مطابق بوئنگ کے خلائی جہاز میں تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے اس مشن میں تاخیر ہوئی۔ اس خلائی جہاز کو لانچنگ کے دوران مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاتھا۔

اس میں ایسے مسائل تھے جن کی وجہ سےفضا میں داخل ہونا خطرناک ہو سکتا تھا۔ا سٹار لائنر سے لیک ہورہے ہیلیم نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ تمام تر مسائل کے باوجود اسٹار لائنر بنانے والی کمپنی بوئنگ مسلسل یہ کہتی رہی ہے کہ ان  کا طیارہ محفوظ ہے اور خلابازوں کو واپس لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی وجہ سے ناسا نے فیصلہ کیا کہ وہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کو استعمال کرے گا۔

خبروں کے مطابق، اس مشن میں تاخیر نے بوئنگ کے اسٹار لائنر خلائی جہاز کی ناکامیوں کو بھی اجاگر کیا۔

اس مشن کے حوالے سے سیاست بھی اس وقت دیکھی گئی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خلابازوں کی جلد واپسی کا مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ سابق صدر جو بائیڈن نے سیاسی وجوہات کی بنا پر ان لوگوں کو آئی ایس ایس پر ‘چھوڑ دیا’ ہے۔

ان کی واپسی کے بعد وہائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ‘وعدہ کیا، وعدہ پورا کیا… صدر ٹرمپ نے خلا میں نو ماہ تک پھنسے خلابازوں کو بچانے کا وعدہ کیا۔ آج وہ امریکی خلیج میں بحفاظت اتر گئے۔ آپ کا شکریہ، ایلون مسک، اسپیس ایکس اور ناسا۔’