
اورنگزیب کے مقبرے کے حوالے سے کشیدگی کے درمیان آر ایس ایس کے سینئر لیڈر سریش بھیا جی جوشی نے کہا کہ یہ مسئلہ غیر ضروری طور پر اٹھایا گیا،اس کی موت یہاں (ہندوستان) ہوئی اس لیے قبر بھی یہیں بنی ہوئی ہے۔ اور جن کو عقیدت ہے وہ وہاں جائیں گے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ بجرنگ دل اور وی ایچ پی نے اس کو لے کر مظاہرہ کیا تھا۔

ہندوتوا گروپوں کی جانب سے سنبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کے مطالبے نے پورے مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: مہاراشٹر میں مغل حکمران اورنگزیب کے مقبرے کو لے کرجاری تنازعہ کے درمیان راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات سامنے آرہے ہیں۔ اسی کڑی میں آر ایس ایس کے سینئر لیڈر سریش ‘بھیا جی’ جوشی نے کہا ہے کہ اورنگزیب کی قبر کا مسئلہ بے وجہ اٹھایا گیا۔
اورنگزیب کے مقبرے کے معاملے پر بدامنی پر مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے کے بیان کو لے کر صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آر ایس ایس کے سینئر لیڈر نے سوموار (31 مارچ) کو کہا، ‘اورنگزیب کا مسئلہ غیر ضروری طور پر اٹھایا گیا ہے۔ اس کی موت یہیں (ہندوستان) ہوئی ہے اس لیے قبر بھی یہیں بنی ہوئی ہے۔ اورجن کو عقیدت ہے وہ اس مقبرے پر جائیں گے۔’
شیواجی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج ہمارے آئیڈیل ہیں، اور انہوں نے یہاں افضل خان کا مقبرہ بنوایا تھا۔ یہ ہندوستان کی سخاوت اور جامعیت کی علامت ہے۔ ‘وہ قبر (اورنگزیب کی) رہے، جس کو وہاں جانا ہے وہ جائے،’ وہ کہتے ہیں۔
STORY | Aurangzeb tomb matter being raised unnecessarily: RSS leader Suresh Joshi
READ: https://t.co/ai37C8OcWP
VIDEO:
(Full video available on PTI Videos – https://t.co/dv5TRAShcC) pic.twitter.com/Jl0GRNJywO
— Press Trust of India (@PTI_News) March 31, 2025
مراٹھواڑہ علاقے میں واقع سنبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کے ہندوتوا گروپوں کےمطالبے نے پورے مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دےدیا ہے۔
گزشتہ ماہ ناگپور میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوگئی تھی جب ریاست بھر میں غیر مصدقہ خبریں پھیل گئیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ انتہا پسند ہندوتوا گروپوں وشوہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کی جانب سے منعقد احتجاج کے دوران ہندوتوا شرپسندوں نے مقدس ‘کلمہ’ لکھے کپڑے کو جلایا ہے۔
بتا دیں کہ ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کہا تھا کہ ‘چھاوا’ فلم دیکھ کر جاگنے والے ہندوؤں سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ شرمناک ہے کہ اس فلم سے پہلے کئی لوگ چھترپتی سنبھاجی مہاراج کی قربانی سے واقف نہیں تھے۔ لوگوں کو کتابیں پڑھنی چاہیے اور تاریخ جاننے کے لیے وہاٹس ایپ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔’
راج ٹھاکرے نے یہ بھی کہا تھا کہ ‘کچھ لوگ اورنگزیب کی قبر کے نام پر صرف سیاست کر رہے ہیں۔’
مرکزی وزیر نے کہا – ‘اورنگزیب کا انتقال 1707 میں ہوا، تو اس کی قبر کو ابھی کیوں ہٹانا؟’
دریں اثنا، این ڈی اے کے اتحادی، ریپبلک پارٹی آف انڈیا (اٹھاوالے) کے سربراہ اور مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔
انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘اورنگزیب کا انتقال 1707 میں ہی ہو گیا تھا، تواس کی قبر کو ابھی کیوں ہٹانا؟’
وہ کہتے ہیں،’اورنگزیب کا انتقال 1707 میں ہوا، گزشتہ 300 سالوں میں ا س کی قبر کو ہٹانے کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا۔ یہ مسئلہ اس وقت اٹھایا جا رہا ہے جب چھترپتی سنبھاجی مہاراج پر فلم بنی۔’
اٹھاولے کہتے ہیں،’میں این ڈی اے اور مودی جی کے ساتھ ہوں… کیونکہ مجھے ان کی پالیسیاں پسند ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اسے نہیں ہٹایا جاناچاہیے۔’
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کو خود کو اس قبر سے دور رکھنا چاہیے اور ہندوؤں کو اسے ہٹانے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے… اس قبر کی حفاظت اے ایس آئی کے ذمے ہے۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی لڑائی ملک کے لیے اچھی نہیں ہے، سب کو ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔
اورنگزیب کی قبر کو ہٹایا نہیں جا سکتا، لیکن اس کی عظمت بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: فڈنویس
دریں اثنا، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے سوموار (31 مارچ) کو کہاتھاکہ چھترپتی سنبھاجی نگر (سابقہ اورنگ آباد) میں مغل بادشاہ اورنگزیب کا مقبرہ ایک محفوظ یادگار ہے اور اسے ہٹایا نہیں جا سکتا، لیکن ریاست میں اس کی عظمت بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔