ہریانہ انتخاب: عمر خالد پر گولی چلانے والے شخص کو شیو سینا نے دیا ٹکٹ

06:01 PM Oct 09, 2019 | دی وائر اسٹاف

13 اگست 2018 کو اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد پر دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر دو لوگوں نے حملہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک نوین دلال کو شیو سینا نے بہادرگڑھ اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ دیا ہے۔

انتخابی تشہیر کے دوران نوین دلال، فوٹو بہ شکریہ ، فیس بک/نوین دلال

 نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی(جے این یو) کے سابق اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد پر گزشتہ سال حملہ کرنے والے دو ملزمین میں شامل نوین دلال کو شیو سینا نے ہریانہ اسمبلی انتخاب میں ٹکٹ دیا ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق،21 اکتوبر کوہونے والے انتخاب کے لیے شیوسینا نے انہیں بہادر گڑھ سیٹ سے اپناامیدوار بنایا ہے۔خود کو گئو -رکشک بتانے والےدلال کا کہنا ہے کہ ،تقریباً 6 ماہ پہلے ہی وہ شیوسینا میں شامل ہوئے تھےکیوں کہ راشٹر واداورگئو رکشاپر ان کے خیالات پارٹی سے ملتے ہیں ۔

دلال نے کہا ، ہم راشٹرواد ،گئو رکشا اور ہمارے مجاہدآزادی کے احترام کی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔بی جے پی اور کانگریس حکومتوں کوکسانوں ،شہیدوں گایوں اور غریبوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔وہ صرف سیاست کرتے ہیں۔شیوسینا کےہریانہ(جنوب)کے چیف وکرم یادو نے دلال کو پارٹی کا ٹکٹ دئے جانے کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے کہا،’وہ گئو رکشا اور ملک مخالف نعرہ لگانے والوں  کے خلاف آواز اٹھا نے جیسے مدعوں پر کام کرتے رہے ہیں،اس لیے ہم نے انہیں چنا۔

واضح ہوکہ اگست 2018 میں نوین دلال اور درویش شاہ پور  نامی ملزمین نے عمر خالد پر اس وقت حملہ کیا تھا،جب وہ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک پروگرام میں حصہ لینے کے لیے جارہے تھے۔اس حملے میں خالد بال بال بچ گئے تھے کیوں کہ بندوق جام ہوگئی تھی۔دلال اور شاہ پور موقع سے فرار ہوگئے  تھے لیکن بعد میں انہوں نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ حملہ ملک کے لیے یوم آزادی کا تحفہ ہے۔اس ویڈیو کے جاری ہونے کے بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس معاملے میں نوین دلا ل فی الحال  ضمانت پر باہرہے اور معاملہ سیشن کورٹ میں زیر التوا ہے۔اس حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر دلال نے کہا،’ابھی میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا ۔یہ صرف عمر خالد کے بارے میں نہیں ہے، بہت کچھ ہے۔میں کسی دن اس پر بات کروں گا۔’شیوسینا کے وکرم یادو نے دلال کا بچاؤ کرتے  ہوئے کہا کہ،یہ اس کے دیش بھکتی دکھانے کا طریقہ تھا۔اس  کا عمر خالد سے کوئی ذاتی تنازعہ نہیں ہے۔وہ پریشان تھا کیوں کہ ان لوگوں نے ملک کی راجدھانی میں یونیورسٹی میں ملک مخالف نعرے لگائے تھے۔اس لیے نوین کے ذریعے سے یہ اس کی دیش بھکتی دکھانے کا طریقہ تھا۔

اپنے انتخابی منشور میں دلال  نے کہا ہے کہ ان کے خلاف تین مجرمانہ معاملے زیر التوا ہیں۔جس میں  خالد پر حملے سے متعلق دہلی پولیس کی اسپیشل سیل میں ایف آئی آر بھی شامل ہے۔ دو اور معاملے 2014 کے ہیں ،جس میں آئی پی سی کی دفعہ149/147 کے تحت بہادر گڑھ میں ایف آئی آر درج ہیں جبکہ بی جے پی ہیڈ آفس کی طرف  گائے کا کٹا ہوا سر لے کرمارچ کرنے کے معاملے میں آئی پی سی کی کئی دفعات کےتحت دہلی کے پارلیامنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج ہے۔

نوین دلا ل کے  انتخابی پوسٹر میں ان کے  نام کے آگے  گئو رکشک لکھاہواہےاور وہ وکاس کا وعدہ کر رہے ہیں ۔ہریانہ مانڈولی گاؤں کے رہنے والے دلال کو ان کی کشتی کے جنون کے لیے بھی پہچانا جاتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ2010 میں ایک چوٹ کی وجہ سے ان کا کرئیر ختم ہو گیا،اس سے پہلے وہ ریاستی سطح کے مقابلے  میں بھی شرکت کر چکے تھے۔دلال کے مطابق وہ پونے -احمدنگر میں ہوئی فوجی بھرتی کے لیے بھی کئی بار کوشش کر چکے ہیں لیکن ہر بار فیزیکل ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد وہ امتحان میں فیل ہو گئے۔