گزشتہ مہینے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے ایک لیڈر کی شکایت پر گنگا میں افطار کرنے کے معاملے میں گرفتار 14 مسلم نوجوانوں کو وارانسی کی ایک سیشن کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سیشن جج نے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ عمل سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے مقصد سے انجام دیا گیا تھا۔

وارانسی میں گنگا۔ (تصویر: شروتی شرما / دی وائر)
نئی دہلی: وارانسی کی ایک سیشن کورٹ نے گنگا ندی میں افطار کرنے کے معاملے میں گزشتہ ماہ گرفتار کیے گئے 14 مسلم نوجوانوں کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے بدھ (1 اپریل) کو کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان کا مقصد سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنا تھا۔
خبروں کے مطابق، یہ نوجوان 15 مارچ کی شام گنگا ندی میں ایک کشتی پر سوار ہو کر افطار کر رہے تھے۔ اس حوالے سے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے مقامی کارکن رجت جیسوال نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ گوشت کھا رہے تھے اور اس کا بچا ہوا حصہ ندی میں پھینک رہے تھے۔ اس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعدد دفعات عائد کیں، جن میں عبادت گاہ کو ناپاک کرنے، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور بعد میں جبراً وصولی سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، بدھ (1 اپریل) کو وارانسی کی سیشن کورٹ میں ضمانت کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے ٹرائل کورٹ میں گزشتہ ماہ دیے گئے اپنے دلائل کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ کشتی پر سواری کے ویڈیو میں کہیں بھی گوشت کھاتے ہوئے نہیں دکھایا گیا ہے اور پولیس نے بھی ایسا کوئی مواد برآمد نہیں کیا ہے۔
وکیل نے یہ بھی دلیل دی کہ نوجوانوں کو ’سیاسی تعصب‘اور’انتقامی جذبے‘کے تحت، اور برسر اقتدار بی جے پی رہنماؤں کے اشارے پر’جھوٹا پھنسایا‘گیا ہے۔
وہیں، ریاست کی جانب سے پیش وکیل نے دلیل دی کہ یہ ایک منصوبہ بند عمل تھا جس کا مقصد’عوامی امن‘اور’فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘کو نقصان پہنچانا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزمان کے’حامی‘اس معاملے کے شکایت کنندہ کو مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔
لائیو لا کے مطابق، سیشن جج آلوک کمار نے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے مذکورہ ویڈیو کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے مقصد سے انجام دیاگیا تھا۔
جسٹس کمار نے یہ بھی کہا کہ کشتی کی سواری اور کھانے سے متعلق ویڈیو کلپس کا آن لائن پھیلاؤ اس واقعے کواورسنگین بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
اس سے قبل وارانسی کی ایک عدالت نے 23 مارچ کو بھی ان نوجوانوں کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
شنوائی کے دوران ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ امت یادو نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ’ملزمان کی جانب سے کیے گئے جرائم سنگین نوعیت کے اور غیر ضمانتی ہیں‘، اس لیے انہیں ضمانت دینے کے لیے خاطر خواہ بنیاد موجود نہیں ہے۔