جھارکھنڈ کے دیوگھر میں واقع ایمس میں 80 بیڈ والا کریٹیکل کیئر یونٹ اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔ جبکہ آئی سی یو بھی اپنی آدھی صلاحیت کے ساتھ ہی فعال ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ادارے کی فیصلہ ساز باڈی نے 2025-26 میں ان امور پر تبادلہ خیال تک نہیں کیا ہے۔
تصویر بہ شکریہ: ایمس دیوگھر
نئی دہلی: آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) دیوگھر میں انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو) اپنی آدھی صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے، وہیں کریٹیکل کیئر یونٹ (سی سی یو) ابھی تک شروع ہی نہیں ہو سکی ہے۔ اس کے باوجود مالی سال 2025-26 کے دوران ادارے کی فیصلہ ساز اعلیٰ باڈی کی میٹنگ میں ان دونوں اہم خدمات کی صورتحال پر کوئی بات تک نہیں کی گئی۔
اس کا انکشاف جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہہ کے آر ٹی آئی کارکن سریندر پانڈے کی جانب سے دائرآر ٹی آئی کی درخواست کے جواب سے ہوا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایمس دیوگھر مرکزی حکومت کی وزارت صحت کے تحت چلنے والا قومی اہمیت کا ادارہ ہے اور اسے سنتھال پرگنہ سمیت جھارکھنڈ کے بڑے حصے کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا، اس لیے آئی سی یو اور سی سی یو جیسی نازک طبی سہولیات کی حالت عوامی اہمیت کا معاملہ بن جاتی ہے۔
ایمس دیوگھر کے قیام کومئی 2018 میں مرکزی کابینہ نے
منظوری دی تھی۔ پردھان منتری سواستھیہ سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی)کے تحت قائم اس ادارے کے لیے اس وقت 1103 کروڑ روپے منظور کیے گئے تھے۔ اس منصوبے کے تحت 750 بستروں والےاسپتال، 20 اسپیشلٹی اور سپر اسپیشلٹی محکمے، 15 آپریشن تھیٹر اور جدید طبی سہولیات کا تصور کیا گیا تھا۔
کیا پوچھا گیا تھا؟
سریندر پانڈے نے اپنی آر ٹی آئی درخواست میں مالی سال 2025-26 کے دوران انسٹی ٹیوٹ باڈی کی ان میٹنگ کی تفصیلات مانگی تھیں، جن میں آئی سی یو اور سی سی یو سے متعلق سہولیات، بیڈ کی دستیابی، توسیعی منصوبوں یا خامیوں پر بات چیت ہوئی ہو۔
انہوں نے میٹنگ کی تاریخ، ایجنڈا، بات چیت کی تفصیل، لیے گئے فیصلوں کی تصدیق شدہ کاپیاں اور کارروائی رپورٹ بھی طلب کی تھی۔ ساتھ ہی یہ بھی پوچھا گیاتھا کہ اگر ان امور پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تو اس کی واضح جانکاری فراہم کی جائے۔
اس درخواست کے جواب میں ایمس دیوگھر کے سینٹرل پبلک انفارمیشن آفیسر (سی پی آئ او) اجئے کمار برنوال نے 13 مئی 2026 کو بتایا کہ 22 جنوری 2026 کو انسٹی ٹیوٹ باڈی کی میٹنگ منعقد ہوئی تھی، لیکن اس کے ایجنڈے میں آئی سی یو یا سی سی یو سے متعلق کوئی موضوع شامل نہیں تھا۔
بات چیت کیوں اہم تھی؟
انسٹی ٹیوٹ باڈی کی میٹنگ میں ان خدمات پر بات چیت اس لیے اہم تھی کیونکہ ادارے میں آئی سی یو اور سی سی یو دونوں کی دستیابی اور آپریشنل صورتحال پر بڑے سوال موجود ہیں۔
سریندر پانڈے کی ایک اور آر ٹی آئی کے جواب میں ایمس دیوگھر نے بتایا کہ ادارے میں مجموعی طور پر 19 آئی سی یو بیڈ منظور شدہ ہیں، جن میں دو آئسولیشن بیڈ بھی شامل ہیں۔ تاہم ان میں سے صرف 10 بیڈ اس وقت فعال ہیں۔
اسی جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ادارے کے لیے 80 سی سی یو بیڈ منظور ہیں، لیکن سی سی یو کی حالت ’نان آپریشنل‘ہے۔ دوسرے لفظوں میں، منظور ہونے کے باوجود سی سی یو سروس ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہے۔
ادارے کے مطابق، آئی سی یو خدمات کے لیے اس وقت دو کنسلٹنٹ، ایک سینئر ریذیڈنٹ، 31 نرسنگ اہلکار، تین سینئر نرسنگ اہلکار اور ایک آئی سی یو اور او ٹی ٹیکنیشن تعینات ہیں۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی سی یو کے لیے 34 وینٹی لیٹرز اور 26 کارڈیک مانیٹر دستیاب ہیں۔
آئی سی یو میں کتنے مریض پہنچے؟
آر ٹی آئی کے توسط سے سال 2023-24 اور 2024-25 کے دوران آئی سی یو اور سی سی یو سے متعلق آڈٹ رپورٹ بھی طلب کی گئی تھی۔
جواب کے مطابق، 2023-24 میں آئی سی یو میں مجموعی طور پر 132 مریض بھرتی ہوئے۔ ان میں سے 97 مریضوں کو ’ٹرانسفر آؤٹ‘ زمرے میں درج کیا گیا، جبکہ صرف 3 مریض ڈسچارج ہوئے۔ اسی مدت میں 8 مریض’لیو اگینسٹ میڈیکل ایڈوائس‘(لاما- یعنی مریض کو ڈاکٹر کے مشورے کے خلاف ہسپتال سے لے جانا)کے زمرے میں درج کیے گئے اور 3 مریضوں کوریفر کیا گیا۔
سال 2024-25 میں آئی سی یو میں مجموعی طور پر 223 مریض داخل ہوئے۔ ان میں سے 138 مریضوں کو ’ٹرانسفر آؤٹ‘ کیا گیا، صرف ایک مریض ڈسچارج ہوا، جبکہ 18 مریض لاما کے زمرے میں درج کیے گئے۔بتا دیں کہ لاما یعنی ڈاکٹر کی مشورے کے خلاف (لیو اگینسٹ میڈیکل ایڈوائس) کے زمرے میں وہ مریض شامل ہوتے ہیں جو ڈاکٹروں کی ہدایت کے برخلاف علاج مکمل ہونے سے پہلے ہی اسپتال چھوڑ دیتے ہیں۔
ان اعداد و شمار میں سب سے بڑی حقیقت ’ٹرانسفر آؤٹ‘مریضوں کی بڑی تعداد ہے۔ تاہم دستیاب دستاویزوں میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ان مریضوں کو اسپتال کے اندر کسی دوسرے وارڈ میں بھیجا گیا تھا یا کسی دوسرے اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دہلی کے ایمس کے ایک سینئر افسر نے دی وائر سے بات چیت میں کہا کہ ایمس جیسے اسٹینڈرڈ کے کسی بھی سرکاری اسپتال میں منظور شدہ سہولیات کا اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کرنا مطلوب ہے۔
انہوں نے کہا،’اگر کسی ادارے میں 80 سی سی یو بیڈ منظور شدہ ہیں اور ان میں سے ایک بھی چالو نہیں ہے، تو اسے معمول کی حالت نہیں کہا جا سکتا۔ جب کوئی سہولت منصوبہ بنا کر منظور کی جاتی ہے تو اس کا مقصد اسے مکمل طور پر فعال کرنا ہوتا ہے۔‘
افسر نے کہا کہ دل کی بیماریاں آج ملک میں صحت کے سنگین مسائل میں شامل ہیں اورسی سی یوجیسی خصوصی سہولت موجود نہ ہونے سے مریضوں کے علاج پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق،’ایسی صورت میں مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں بھیجنا پڑ سکتا ہے یا انہیں نجی اسپتالوں کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔‘
آئی سی یو میں دستیاب انسانی وسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجود نرسنگ اسٹاف کی تعداد تسلی بخش لگتی ہے، لیکن ڈاکٹروں کی تعداد نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔
’ٹرانسفر آؤٹ‘اور لاما پر سوال
سینئر افسر نے آئی سی یو کے مریضوں سے متعلق اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق، دستیاب دستاویزوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ’ٹرانسفر آؤٹ‘سے مراد اسپتال کے اندر کسی جنرل وارڈ میں منتقلی ہے یا کسی دوسرے اسپتال میں منتقلی۔
انہوں نے کہا،’ اگر مریض کو کسی دوسرے اسپتال بھیجا گیا ہے تو اسے ریفرل کے زمرے میں آنا چاہیے۔ لیکن یہاں ریفرل کا ڈیٹا الگ سے دیا گیا ہے۔ اس لیے’ٹرانسفر آؤٹ‘کا حقیقی مطلب واضح نہیں ہو رہا۔‘
افسر نے یہ بھی کہا کہ آئی سی یو میں لاما کے معاملوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ آر ٹی آئی کے مطابق، 2023-24 میں 8 اور 2024-25 میں 18 مریض لاما کے زمرے میں درج کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا،’آئی سی یو میں داخل مریض عموماً انتہائی تشویشناک حالت میں ہوتے ہیں۔ ایسے میں لاماکے معاملوں کا بڑھنا باعث تشویش ہے۔ اس کی وجوہات کی جانچ ہونی چاہیے۔‘
افسر کے مطابق، یہ اعداد و شمار اسپتال کی خدمات یا علاج کے حوالے سے مریضوں یا ان کے اہل خانہ کے عدم اطمینان کی طرف بھی اشارہ ہو سکتے ہیں۔
’صرف بیڈ گننا کافی نہیں‘
سینئر افسر نے کہا کہ کسی بھی آئی سی یو کے معیار کا اندازہ صرف بیڈ، وینٹی لیٹر یا آلات کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ انفیکشن ریٹ، داخلے کے معیار، شرح اموات، مریضوں کو آئی سی یو سے جنرل وارڈ میں منتقل کرنے کا طریقہ کار اور علاج کے نتائج جیسے اشاریوں کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق، یہ جاننا اہم ہوگا کہ ایمس دیوگھر میں کن معیاروں کی بنیاد پر مریضوں کو آئی سی یو میں داخل کیا جاتا ہے اور کن حالات میں انہیں وہاں سے منتقل کیا جاتا ہے۔
ایمس دیوگھر سے مانگا گیاجواب
ان سوالوں کے مدنظر دی وائر نے ایمس دیوگھر کومفصل سوال بھیجے ہیں۔ ادارے سے پوچھا گیا ہے کہ 80 منظور شدہ سی سی یو بیڈ ہونے کے باوجود سی سی یو ابھی تک کیوں شروع نہیں ہو سکا، باقی آئی سی یو بیڈ کب تک فعال ہوں گے، انسٹی ٹیوٹ باڈی کی میٹنگ میں ان معاملات پر بات چیت کیوں نہیں ہوئی، ’ٹرانسفر آؤٹ‘کی تعریف کیا ہے، لامامعاملوں کا جائزہ لیا گیا ہے یا نہیں، اورآئی سی یواورسی سی یو کے لیے ضروری طبی اور تکنیکی اسٹاف کی دستیابی کی موجودہ صورتحال کیا ہے۔
ایمس دیوگھر کی جانب سے جواب موصول ہونے کے بعد اس رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔