مودی حکومت نے 54,282.32 کروڑ روپے کہاں خرچ کیے، معلوم نہیں: کیگ رپورٹ

کیگ کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی حکومت کی 15 وزارتوں اور محکموں کے 54,282.32 کروڑ روپے کے کل 33,973 یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ زیر التوا ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ زیر التوا رقم وزارت ہاؤسنگ و شہری امور اور محکمہ اعلیٰ تعلیم سے متعلق ہے۔ یہ عوامی مالیات سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی ہے اور اس سے یہ بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ رقم مطلوبہ مقاصد کے لیے استعمال کی بھی گئی یا نہیں۔

کیگ کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی حکومت کی 15 وزارتوں اور محکموں کے 54,282.32 کروڑ روپے کے کل 33,973 یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ زیر التوا ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ زیر التوا رقم وزارت ہاؤسنگ و شہری امور اور محکمہ اعلیٰ تعلیم سے متعلق ہے۔ یہ عوامی مالیات سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی ہے اور اس سے یہ بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ رقم مطلوبہ مقاصد کے لیے استعمال کی بھی گئی یا نہیں۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی:  ہندوستان کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی 15 وزارتوں اور محکموں کی جانب سے 54,282.32 کروڑ روپے سے متعلق 33,973 یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ (یو سی) اب تک جمع نہیں کرائے گئے ہیں۔ یہ عوامی مالیات سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے یہ بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ رقم کا استعمال مطلوبہ مقاصد کے لیے ہوا بھی ہے یا نہیں۔

اپریل میں پارلیامنٹ میں پیش کی گئی وزارت خزانہ کے مالیاتی آڈٹ پر مبنی کیگ رپورٹ ’سال 2024-25 کے لیے حکومت ہند کے کھاتوں پر ہندوستان کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ‘میں کہا گیا ہے کہ 15 وزارتوں اور محکموں سے موصولہ جانکاری کے مطابق 31 مارچ 2025 تک 54,282.32 کروڑ روپے کی رقم سے متعلق 33,973 یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ زیر التوا تھے۔

رپورٹ کے مطابق، ان میں سے 38,287.52 کروڑ روپے سے متعلق 13,926 یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ گزشتہ تین مالی سالوں (2021-22 سے 2023-24) کے ہیں۔ جبکہ جن گرانٹس کے یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ اب تک موصول نہیں ہوئے، ان میں سب سے پرانے معاملے مالی سال 1985-86  کے ہیں۔

کیگ کی رپورٹ میں وزارتوں کےلحاظ سے ان اخراجات کی تفصیلات دی گئی ہیں، جن کے یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ ابھی تک زیرالتوا ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جنرل فنانشل رولز(جی ایف آر)، 2017 کے قواعد 238(1) اور 238(2) کی خلاف ورزی ہے۔

جی ایف آر، 2017 کے قواعد 238(1) اور 238(2) کے مطابق، جب کسی ادارے یا تنظیم کو ایک مشت (نان ریکرنگ گرانٹس) گرانٹ دی جاتی ہے تو یہ یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ رقم اسی مقصد کے لیے استعمال ہوئی ہے ،جس کے لیے اسے منظور کیا گیا تھا۔ اس کے لیے متعلقہ ادارے کو یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ جمع کرانا لازمی ہے۔

قواعد کے مطابق، یہ سرٹیفکیٹ متعلقہ مالی سال کے اختتام کے 12 ماہ کے اندر جمع کیاجانا چاہیے۔ اگر مقررہ مدت میں یو سی جمع نہ کیا جائے تو متعلقہ وزارت یا محکمہ اس ادارے یا تنظیم کو مستقبل میں حکومت سے گرانٹ، سبسڈی یا دیگر مالی امداد حاصل کرنے سے محروم (بلیک لسٹ) کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن 33,973 یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس کا انتظار ہے، ان میں سے 13,926 گزشتہ تین سالوں (2021-22 سے 2023-24) کے ہیں۔ تاہم، سب سے پرانے زیر التوا یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس 1985-86 میں دی گئی گرانٹس سے متعلق ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے،’اس سے واضح ہوتا ہے کہ وزارتیں اور محکمے زیر التوا یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس کے مسئلے کے حل کے لیے خاطر خواہ کوشش نہیں کر رہے ہیں۔‘

کیگ نے کہا کہ یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ ہی یہ یقینی بنانے کا واحد ذریعہ ہے کہ سرکاری رقم اسی مقصد کے لیے استعمال کی گئی ہے جس کے لیے اسے جاری کیا گیا تھا۔ اس لیے وزارتوں اور محکموں کو ایسا مضبوط نظام تیار کرنا چاہیے جس سے گرانٹ حاصل کرنے والے ادارے وقت پر یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ جمع کرائیں۔

رپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ زیر التوا رقم وزارت ہاؤسنگ اور شہری امور سے متعلق ہے، جہاں 18,272.91 کروڑ روپے کے یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرائے گئے۔ اس کے بعد محکمہ اعلیٰ تعلیم کا نمبر ہے، جہاں 14,359.76 کروڑ روپے کے یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ زیر التوا ہیں۔

جن 15 وزارتوں اور محکموں کے یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس زیر التوا ہیں، ان میں محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود، وزارت آیوش، محکمہ فارماسیوٹیکل، وزارت ثقافت، محکمہ اسکولی تعلیم اور خواندگی، محکمہ اعلیٰ تعلیم، محکمہ محصولات، محکمہ صحت اور خاندانی بہبود، وزارت ہاؤسنگ اور شہری منصوبہ بندی، وزارتِ جہاز رانی،بندرگاہوں اور آبی گزرگاہوں کی وزارت،سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت، سماجی انصاف اور تفویض اختیارات، قبائلی امور کی وزارت اور خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان میں سے  سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت، منصوبہ بندی کی وزارت، صحت اور خاندانی بہبود کے محکمے اور جہاز رانی، بندرگاہوں اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نےنے کیگ کو بتایا کہ زیر التوا معاملوں کو کم کرنے کے لیے پروگرام ڈویژنوں اور عملدرآمد کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

وہیں، وزارت تعلیم نے اپنے جواب میں کہا کہ یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس سے متعلق تمام اعداد و شمار کی نگرانی کے لیے ایک آئی ٹی نظام تیار کیا گیا ہے۔

وزارتِ ثقافت، محکمہ ادویات، وزارت آیوش، وزارتِ قبائلی امور اور وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی نے کہا کہ زیرِ التوا یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ کی تعداد کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ باقی وزارتوں اور محکموں کی جانب سے کیگ کو کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔