غزل کے کوچے میں ایک اور میر— منور رانا

منور رانا کی شاعری میں ماضی کی آہٹوں کے ساتھ آج کی تاریخ، تہذیب اور تصویر قید ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ذہنی ساخت اور انفرادی احساس کا روز نامچہ ہے جس میں ایک ایک لمحے کا حال درج ہے۔

منور رانا کی شاعری میں ماضی کی آہٹوں کے ساتھ آج کی تاریخ، تہذیب اور تصویر قید ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ذہنی ساخت اور انفرادی احساس کا روز نامچہ ہے جس میں ایک ایک لمحے کا حال درج ہے۔

منور رانا، فوٹو بہ شکریہ فیس بک /Munawwar Rana

منور رانا، فوٹو بہ شکریہ فیس بک /Munawwar Rana

مشہور شاعر منور رانا اتوار (14 جنوری) کو اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس جی پی جی آئی ) میں انتقال کر گئے۔ وہ  71 سال کے تھے۔

وہ طویل عرصے سے گلے کے کینسر میں مبتلا تھے۔

منور رانا 26 نومبر 1952 کو رائے بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اردو کے علاوہ ہندی اور اودھی میں بھی لکھتے تھے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اکتوبر 2015 میں انہوں نے اپنا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کر دیا تھا ۔

انہیں 2014 میں ‘شہدابہ’ کے لیے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا تھا۔

ان کے شعری محاسن کے حوالے سے یہاں اردو کے ممتاز نقاد حقانی القاسمی کا ایک مفصل مضمون پیش کیا جا رہا ہے—(ادارہ)

ہراچھی شاعری میں ڈھائی اکشر ہوتے ہیں۔ منور رانا کی شاعری میں بھی ڈھائی اکشر ہی ہیں۔ ان کے پہلے اور دوسرے حرف کی تفہیم تو آسان ہے مگر اس نصف حرف کے طلسمی اسرار کو سمجھنے کے لیے ذہن کی بہت ساری توانائیاں صرف کرنی پڑیں گی۔

اس نصف حرف کے پراسرار آہنگ کی جستجو ہر اس شخص کو کرنی چاہئے جو منور رانا کے تخلیقی نظام اور طرز احساس کو ایک نئے زاویے اور نئے تناظر میں دیکھنے کا آرزومند ہے۔

روایتی، تنقیدی طریقہ کار سے الگ ہوکر ہی ان کے متن میں مضمر معانی کی تفہیم ecioietucs کی روشنی میں کی جائے تو شاید زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ منور رانا کی شاعری میں بہت کچھ وہ ہے جو دوسروں کی شاعری میں نہیں ہے۔

ان کی ’تخلیقی روح‘ کو تنقید کے میکانکی تصور کے ذریعہ سمجھنا مشکل ہے۔ان کی شاعری کی تفہیم کے لیے صرف ادب ہی نہیں بلکہ سائنس کی نئی شاخوں سے آگہی بھی ناگزیر ہے۔

ان کی شاعری کو آج کے ٹیکنالوجیکل ترقیات کے منفی اثرات کے تناظر میں بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ دراصل یہ پوری شاعری تخلیق اور ٹیکنالوجی کے مابین تناؤ اور کشمکش کی شاعری ہے۔ تخلیق کو ٹیکنالوجی میں تبدیل کردیا جائے تو پھر تخلیق کی نہ صرف معنویت مجروح ہوگی بلکہ اس کا منشور بھی بدل جائے گا۔

منور رانا کی شاعری میں انسانی اقدار واخلاقیات پر ٹیکنالوجی کے پڑنے والے منفی اثرات کے خلاف سخت تخلیقی رد عمل کااظہار ملتا ہے۔ یہ مکمل طورپر انسانی احساس واظہار کی شاعری ہے۔

اربنائزیشن اور انڈسٹریلائزیشن کی تمام جہتوں کو سمجھے بغیر منوررانا کی شاعری کی معنویت روشن نہیں ہوسکتی۔

ان کی شاعری میں انہی چیزوں کے منفی اثرات اور نتائج سے آگہی کے آثار نمایاں ہیں۔ جہاں تک اربنائزیشن کی بات ہے تو یہ ایک منفی فینامنا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف ذرائع کا استحصال ہوتا ہے بلکہ زرعی معیشت کا عدم استحکام، کثافت اور علاقائی توازن کا خاتمہ جیسے گھمبیر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ سماجی اقدار اور ماحولیات کو بھی اس سے سخت خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے سماجی اور اقتصادی تضادات کی شکلیں بھی رونما ہوتی ہیں۔ چونکہ شہر ایک ٹیکنیکی نظام کا پابند ہوتا ہے، اس کا لے آؤٹ پلان بھی اس کی ایک علیحدہ شناخت کا مظہر ہوتا ہے۔ رہائشی زون کی تقسیم سے بھی شہری ذہنیت کی تفہیم ہوسکتی ہے۔

ان کی اپنی زبان اور اپنا کلچر ہوتا ہے جہاں انسانی رشتے اور اقدار کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ بلاک، وارڈ اور کالونی میں تقسیم شدہ یہ شہر ایک نئے کلچر کا اشاریہ ہیں اور اس کی وجہ سے آبادیوں کے آپسی رشتے بھی مجروح ہوتے ہیں اور اب تو لفظ شہر اپنے مفہوم اور معنی کے اعتبار سے بھی تنہائی، اجنبیت سے عبارت ہوکر رہ گیا ہے جس میں انسانی رشتوں کی حرارت یا حدت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور اس کے علاوہ بورزوائیت کو فروغ دینے میں شہروں کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔

نیک ورک سٹی، پوسٹ ماڈرن سٹی کی موجودگی نے لوگوں کے ذہنی، اخلاقی رویے میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کی ترجیحات بھی بدل دی ہیں۔ آج دنیا کے غریب ممالک میں طبقاتی تنازعہ مزدور اور سرمایہ دار کے درمیان نہیں اور نہ ہی ملکی اور غیرملکی مفادات کے درمیان ہے بلکہ اصل تنازعہ شہری اور دیہی طبقات کے درمیان ہے اور یہ خلیج مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے۔

منور رانا شہر اور دیہات کے تضادات کی تصویریں اپنی شاعری میں کھینچی ہیں اور اپنی تہذیبی جڑوں کی جستجو کے چراغ کو روشن رکھا ہے۔

ان کی شاعری میں شہر سفاکیت کا استعارہ اور گاؤں معصومیت کی علامت ہے؛

تمہارے شہر کی یہ رونقیں اچھی نہیں لگتیں

ہمیں جب گاؤں کے کچے گھروں کی یاد آتی ہے

بھیک سے تو بھوک اچھی گاؤں کو واپس چلو

شہر میں رہنے سے یہ بچہ برا ہوجائے گا

تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے

ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں

اتنا روئے تھے لپٹ کر در ودیوار سے ہم

شہر میں آکے بہت دن رہے بیمار سے ہم

تمہارا کام ہے شہروں کو صحرا میں بدل دینا

ہمیں بنجر زمینوں کو حسیں کرنے کی عادت ہے

ان گھروں میں جہاں مٹی کے گھڑے رہتے ہیں

قد میں چھوٹے ہوں مگر لوگ بڑے رہتے ہیں

ابھی موجود ہے اس گاؤں کی مٹی میں خود داری

ابھی بیوہ کی غیرت سے مہاجن ہار جاتا ہے

خدا کے واسطے اے بے ضمیری گاؤں مت آنا

یہاں بھی لوگ مرتے ہیں مگر کردار زندہ ہے

انٹرنیٹ، گلوبلائزیشن نے سماجی، اخلاقی صورت حال کو اور بھی خطرناک بنادیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے جو منفی اثرات سامنے آئے ہیں، اس کی وجہ سے اخلاقی قدریں زوال کا شکار ہوئی ہیں۔

نہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقیات نے روایتی اخلاقی اقدار کو چیلنج کیا ہے بلکہ اس کی وجہ سے انسانی جسموں میں بھی کیمیاوی آلودگی پیدا ہوگئی ہے۔ انسانی رابطے کا خاتمہ، اسٹرکچرل بے روزگاری اور کثافت کے منفی اثرات آج پورے سماج میں نظر آتے ہیں اور جدید دور کی ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسانیت جراثیم کی ایک کالونی میں تبدیل ہوگئی ہے۔

گویا ٹیکنالوجی نے انسان کا رشتہ فطرت سے منقطع کردیا ہے۔ صنعتی انقلاب سے پہلے سماج اور معاشیات کا تعین زمین اور زراعت سے ہوتا تھا اور اب صنعتی انقلاب اس کی وجہ سے زمین سے عوام کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ انڈسٹریلائزیشن کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے خاندانی اکائی کو تباہ وبرباد کردیا۔

منور رانا کی شاعری میں انڈسٹریلائزیشن صارفیت، بورزوائیت اور نودولتیہ طبقہ کے خلاف شدید جذباتی رد عمل کااظہار ملتا ہے۔ انہوں نے کمرشیلائزیشن  کے رویے کی وجہ سے نہ صرف پورے معاشرے کے بازار میں بدلنے کی روش پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے بلکہ بایوٹیکنالوجی ایج میں انسان کے بازار میں تبدیل ہونے کے رویے کو بھی اپنے طنز کا نشانہ بنایا ہے کہ بایو ٹکنالوجی نے انسانی جسم کوقابل فروخت تحقیقی مواد اور طبی پروڈکٹ میں تبدیل کردیا ہے۔

میڈیکل کامرس میں انسانی اعضاء کی ڈیمانڈ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہماری اخلاقیات پر اقتصادیات حاوی ہوچکی ہے اور انسانی جسم بھی ”متاع بازار“ بن کر اپنا تقدس کھوچکا ہے۔کنزیومر کلچر یا مارکیٹ کلچر کی وجہ سے ماحولیات، آب وہوا اور قدرتی ذرائع پر منفی اثرات پڑے ہیں۔

یہ کلچر صرف سماجی نظام کی شکست وریخت کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اس نے فرد کے ذہنی نظام کے ساتھ خاندانی قدریں بھی تبدیل کردی ہیں۔ اتحاد کے بجائے انتشار کو جنم دیا ہے۔ مسابقت، مادیت پرستی اور بیگانگی کے رویہ کو فروغ دیا ہے۔ منور رانا نے اقتصادی مادیت، کنزیومر کیپٹل ازم کے خلاف اپنی شاعری کو ایک مؤثر اور متحرک ذریعہ بنایا ہے۔

بدن کا کوئی بھی حصہ خرید سکتے ہو

میں اپنے جسم کو بازار کرنے والا ہوں

مرے بچے نامرادی میں جواں بھی ہوگئے

مری خواہش صرف بازاروں کو تکتی رہ گئی

نمائش پر بدن کی یوں کوئی تیار کیوں ہوگا

اگر سب گھر کے ہوجاتے تو یہ بازار کیوں ہوتا

شہرت ملی تو اس نے بھی لہجہ بدل دیا

دولت نے کتنے لوگوں کا شجرہ بدل دیا

وہ تو بیوی ہے جو دکھ سکھ میں بسر کرتی ہے

ورنہ بازار کی عورت تو محل مانگے ہے

ایک خواہش کے لیے کیا کیا بکا مت پوچھئے

مختصر یہ ہے کہ چادر ریشمی مہنگی پڑی

امیرِ شہر کی ہمدردیوں سے بچ کے رہو

یہ سر سے بوجھ نہیں سر اتار لیتا ہے

ہمیشہ ٹوٹتی سانسوں کی لے معلوم ہوتی ہے

امیرِ شہر کی دعوت میں قے معلوم ہوتی ہے

یوں ان سے ملتے ہوئے توہین ہو خود داری کی

ایسے بے فیض امیروں کی طرف کیا دیکھیں

خوش حالی میں سب ہوتے ہیں اونچی ذات

بھوکے ننگے لوگ ہریجن ہوجاتے ہیں

منور رانا کی شاعری اسی بدلتی دنیا کے منفی اثرات کے خلاف ایک تخلیقی رد عمل ہے۔ اربنائزیشن، کمرشیلائزیشن،  گلوبلائزیشن اور انڈسٹریلائیزیشن کا دائرہئ اثر جوں جوں بڑھتا جائے گا منور رانا کی شاعری کی تاثیر وتوانائی بھی بڑھتی جائے گی۔

اربنائزیشن اور دیگر تلازمات کے مکمل پروسیس کو سمجھے بغیر منور رانا کی شاعری کی معنویاتی جہتیں نہ منکشف ہوسکتی ہیں اور نہ ہی ان کے فنی اور فکری اعماق کی تفہیم ممکن ہے۔ انہوں نے جس نظامِ فکر کو اپنا مطاف اور محور بنایا ہے وہ موجودہ دور کے گلوبلائزیشن کے نظام سے بالکل مختلف ہے۔ آج جبکہ ٹیکنالوجی نے انسانی ذہنوں سے اس کے خواب، اس کی یادیں، گم شدہ لمحے اور ماضی کو سلب کرلیا ہے، ایسے میں منور رانا کی شاعری میں گم شدہ لمحوں، چہروں اور اشیاء کو یاد کرنے کا عمل روشن ہے۔

یاد آفرینی کے اس عمل نے ان کی شاعری کو ایک نئی تعبیر عطا کی ہے۔ یاد ہی شاعری کو سانس عطا کرتی ہے اور ذہن کی زندگی اور تابندگی بھی یادداشت پر منحصر ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کی شاعری میں خواب زندہ ہیں اور خوابوں کی گم شدگی کائنات کا ایک بڑا المیہ ہے۔ خوابوں کا کھوجانا شخصیت کو زوال سے آشنا کرتا ہے یا انہدامی مرحلے سے گزارتا ہے۔

ماضی، خواب اور یادیں منور رانا کے تخلیقی محرکات ہیں۔ منور رانا اپنے عنصر سے الگ یا جدا نہیں ہیں اسی لیے ان کی شناخت باقی ہے، پہچان قائم ہے۔ وہ اپنے اقدار سے کبھی انحراف نہیں کرتے۔ ان کے تخلیقی فکری نظام کے ساتھ روایت کی روشنی بھی ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں:

دیکھی ہے منور نے بزرگوں کی نشانی

دستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہیں

روش بزرگوں کی شامل ہے میری گٹھی میں

ضرورتاً بھی سخی کی طرف نہیں دیکھا

بہت حسین سا اک باغ گھر کے نیچے ہے

مگر سکون پرانے شجر کے نیچے ہے

کوزہ گھروں کے گھر مسرت کہاں سے آئے

مٹی کے برتنوں کا زمانہ نہیں رہا

ہم ہیں گزرے وقت کی تہذیب کے روشن چراغ

فخر کر ارض وطن ہم آج تک دنیا میں ہیں

نئے کمروں میں اب چیزیں پرانی کون رکھتا ہے

پرندوں کے لیے صحرا میں پانی کون رکھتا ہے

ہمیں گرتی ہوئی دیوار کو تھامے رہے ورنہ

سلیقے سے بزرگوں کی نشانی کون رکھتا ہے

کہاں کی دوستی کیسی مروت کیا رواداری

نئی قدریں سبھی چیزیں پرانی چھین لیتی ہیں

منور رانا کی شاعری میں ماضی کی آہٹوں کے ساتھ آج کی تاریخ، تہذیب اور تصویر قید ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ذہنی ساخت اور انفرادی احساس کا روز نامچہ ہے جس میں ایک ایک لمحے کا حال درج ہے۔

عصری حسیت سے معمور اس شاعری میں جو پولٹیکل آئرنی ہے وہ ان کے داخلی احساس کی عکاسی ہی نہیں ہے بلکہ موجودہ سماجی وسیاسی سسٹم کے خلاف ایک ری ایکشن بھی ہے۔

فضا میں گھول دی ہیں نفرتیں اہلِ سیاست نے

مگر پانی کنویں سے آج تک میٹھا نکلتا ہے

بڑا گہرا تعلق ہے سیاست سے تباہی کا

کوئی بھی شہر جلتا ہے تو دلّی مسکراتی ہے

طوائف کی طرح اپنی غلط کاری کے چہرے پر

حکومت مندر ومسجد کا پردہ ڈال دیتی ہے

یہ سنسد ہے یہاں آداب تھوڑے مختلف ہوں گے

یہاں جمہوریت جھوٹے کو سچا مان لیتی ہے

دنیا مرے کردار پہ شک کرنے لگے گی

اس خوف سے میں نے کبھی کھدر نہیں پہنا

اب مدرسے بھی ہیں تیرے شر سے ڈرے ہوئے

جائیں کہاں پرندے شجر سے ڈرے ہوئے

کمہلا دیے ہیں پھول سے چہرے فساد نے

معصومیت بھی ان نوکِ سناں تک پہنچ گئی

عدالتوں ہی میں جب لین دین ہونے لگیں

تمہی بتاؤ بے چارے وکیل کیا کریں

ہر اک خوشبو کا جھونکا ہمیں کافور لگتا ہے

کسی بھی شہر سے گزریں وہ بھاگلپور لگتا ہے

جسے بھی دیکھئے وہ خوف کی سولی پہ لٹکا ہے

ہمارے شہر کا ہر آدمی منصور لگتا ہے

یہ دیکھ کر پتنگیں بھی حیران رہ گئیں

اب تو چھتیں بھی ہندو مسلمان ہوگئیں

چلو چلتے ہیں مل جل کر وطن پر جان دیتے ہیں

بہت آسان ہے کمرے میں وندے ماترم کہنا

تمہارے شہر میں تاثیر سے خالی ہے یکجہتی

جہاں ہر روز دنگے ہوں وہاں گالی ہے یکجہتی

سیاست کی دکانوں میں محبت ڈھونڈتے کیوں ہو

یہ کھدر بیچنے والے ہیں کیا ریشم دکھائیں گے

منور رانا کے یہاں حیات وکائنات کے تضاد اور انتشار میں ایک ربط کی جستجو کا عمل روشن ہے۔ اس قوس قزح رنگ کی شاعری میں زندگی، سماج، مذہب اور اساطیر کی متضاد لہروں کا امتزاج ہے۔ منور رانا نے اپنی شاعری میں ان اساطیر، علامات اور تلمیحات کا استعمال کیا ہے جن سے نہ صرف ماضی روشن ہے بلکہ مستقبل کو بھی ان سے توانائی اور تحرک ملتا ہے۔ ماضی سے مستقبل کو مربوط کرنے کا یہ تخلیقی عمل بہت معتبر ہے اور کائنات کو ایک تسلسل میں دیکھنے کی روش بھی اس میں مضمر ہے۔ زمانہ بدل جاتا ہے مگر کردار کسی نہ کسی شکل میں زندہ رہتے ہیں۔ ماضی کے حوالے سے حال اور مستقبل کی علامات اور اساطیر کا یہ تخلیقی استعمال دیکھئے:

گوتم کی طرح گھر سے نکل کر نہیں جاتے

ہم رات میں چھپ کر کہیں باہر نہیں جاتے

دل وہ بستی ہے جہاں کوئی تمنا نہ ملی

میں وہ پنگھٹ ہوں جسے کوئی رادھا نہ ملی

ایک ہی آگ میں تا عمر جلے ہم دونوں

تم کو یوسف نہ ملا ہم کو زلیخا نہ ملی

میرا بن باس پہ جانے کا ارادہ تھا مگر

مجھ کو دنیا میں کہیں بھی کوئی سیتا نہ ملی

اس عہد کا کوفہ ہے میرا شہر بھی شاید

کوئی طرف دارِ منور نہیں نکلا

پھر چلا ہے کوئی وعدہ کو نبھانے کے لیے

یہ ندی پھر آج ایک کچا گھڑا کھا جائے گی

دیا ہے صحرا نوردی کا حکم جب مجھ کو

تو سوہنی کو بھی پنجاب سے نکالا جائے

ہرشخص مرے شہر میں دشمن کی طرح ہے

اب رام کا کردار بھی راون کی طرح ہے

ان کے ہرشعر میں باطنی احساس کا آہنگ ہے۔ احساس کی تمام رگوں میں انہوں نے اترکر دیکھا ہے اس لیے ان کی شاعری میں حزنیہ رنگ آہنگ بھی ہے اور طربیہ لے بھی۔ انسانی وجود کے آہنگ سے آشنائی نے ان کی تخلیقی ٹکنیک اور کینوس کو وسعت عطا کی ہے۔

منور رانا کی شاعری میں پورے چاند کی رات روشن ہے۔ بانسری کی سریلی مدھر آواز ہے۔ کنول کے پھول ہیں۔ پریم کی روشنی ہے۔ محبت کا سورج ہے۔ باطن کے آہنگ سے ان کے احساس واظہار کاآہنگ جڑا ہوا ہے۔ ان کی شاعری میں داخلی اور خارجی وجود کی وحدت اور ہم آہنگی ہے۔ ایک ہی تانت ہے جو بج رہی ہے۔ کبیر کی مانیں تو ان کی تخلیقی شخصیت انارکی طرح نہیں ہے جس کا باطن سفید اور ظاہر سرخ ہوتا ہے۔

اس اختصاصی دور میں منور رانا کی عوامی اور غیراختصاصی شاعری کی بھی اپنی الگ ادا اور اسلوب ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ ان تمام جذبات واحساسات کو پیش کیا ہے جو عوام سے جڑے ہوئے ہیں۔عوام کے نفسی رجحانات اور رویے تک ان کی رسائی ہے اور عوامی سائیکی سے ان کی شاعری کا رشتہ بہت مضبوط ہے اس لیے ان کی شاعری میں نظیر اکبرآبادی کی طرح ایک اجتماعی کردار نظر آتا ہے۔

انہوں نے اپنی شاعری میں گم ہوتے گاؤں اور غریب کو پھر سے زندہ کردیا ہے۔ گاؤں ان کی شاعری میں ایک رمز اور استعارہ ہے اور اسی کی تہہ میں ان کے ذہنی نظام کی جڑیں ہیں۔

ان کی شاعری میں زیادہ تر ایسے ہی تجربے بولتے ہیں اور مشاہدے مکالمہ کرتے ہیں۔ ایک ایک شعر میں کئی کہانیاں اور کئی حکایتیں چھپی ہوتی ہیں۔ ان کے اندر کا بچہ مرا نہیں، زندہ ہے۔ وہ ایک معصوم سا بچہ جو خاندان کی اکائی سے جڑاہوا ہے اور ایک مربوط ذہن جس کے لیے خاندانی قدریں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ منور رانا کی شاعری میں ماں، بہن، بھائی، بیوی، بیٹی یہ سب زندہ کردار ہیں اور انہی کرداروں کے جذبوں اور احساسات کی کائنات پر ان کی پوری شاعری مشتمل ہے۔

چھوٹی بڑی حقیقتیں، تضادات اور کشمکش سے ان کی شاعری کی تشکیل ہوئی ہے۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خیال کے خلوت کدے میں کوئی نہ کوئی طلسم ہوشربا کا ساحر یا شعبدہ باز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے قاری کا ذہن اور دل گداختگی کی کیفیت سے روشن ہوتا ہے۔ جانے  ان کی شاعری میں ایسا کون سا موہنی منتر ہے کہ قاری اسیر اور وارفتہ ہوجاتا ہے۔

منور رانا کی شاعری میں عجب جادوئی سحر انگیزی ہے کہ انسانی ذہن اپنے حواس کے تمام دروازوں کو مقفل پاتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ مشکل آن پڑتی ہے کہ قاری شعر کے مکمل معنوی وجود تک رسائی میں ناکام ہوجاتا ہے اور شاعری میں موجزن لہروں سے آشنا نہیں ہوپاتا۔ یہی وجہ ہے کہ شاعری اپنی تمام تر حسیاتی، معنویاتی وجود کے ساتھ روشن نہیں ہوپاتی۔ سب سے بڑی مصیبت منور رانا کی شاعری کی طلسمی کیفیت کو اپنی گرفت میں لینے کا ہے۔

منور رانا کا اپنا غزلیہ آہنگ ہے اور الگ ڈکشن بھی۔ لفظیات کی سطح پر بھی انہوں نے مقتدرہ یا اشرافیہ کی سوچ کا اثر قبول نہیں کیا بلکہ بہت سے بوسیدہ، کہنہ،فرسودہ لفظوں میں بھی زندگی کی رمق پیدا کردی۔ لفظوں کو حیات نو بخشنا بھی ایک بڑا تخلیقی مجاہدہ ہے۔ انہوں نے لفظوں کی کراہ کو سمجھا ہے اسی لیے ان کے یہاں ایسے الفاظ بھی مل جاتے ہیں جو عصر حاضر کے شعری فرہنگ سے جلا وطن کردیے گئے ہیں۔ زبان سے ہی نظریہ متحرک ہوتا ہے اس لیے زبان کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔ شاعری کو مختلف ساحلوں پر لفظوں کے سمندر کی ضرورت پڑتی ہے اور منور رانا نے زبان کی سطح پر بھی جستجو کے اس عمل کو روشن رکھا ہے۔

منور رانا نے تغزل کی خانقاہ میں نئے چراغ جلائے ہیں۔ وہ اجڑی ہوئی ویران خانقاہ جہاں جذبہ اور احساس کی مشعل روشن نہیں تھی جہاں کے در ودیوار سے وحشت ٹپکتی تھی، انہوں نے کائی زدہ احساسات سے الگ جذبہ واحساسات کی ایک مضطرب کائنات کی تشکیل کی اور عمومی تجربات کو نئے رنگ وآہنگ میں پیش کرکے تحیر کے چراغ جلائے اور یہی چراغ تحیر ان کے تخلیقی انفراد کا ضامن ہے۔

منور رانا کے بعض شعروں میں اس قدر پیتھوس ہے کہ آنسوؤں کی بارش ہونے لگتی ہے اور ذہن کی زمیں نم ہوجاتی ہے۔ وہ المیہ احساسات کے بھی ایک اچھے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک داخلی وحدت ملتی ہے اور یہی وحدت ان کے احساس واظہار کی اپنی الگ داخلی منطق کا مظہر ہے۔ انہوں نے انسانی وجود میں اس میلوڈی کو تلاش کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی تخلیق بہت سی باطنی لہروں اور خارجی ارتعاشات سے آشنا ہوئی ہے۔ یہی ارتعاشات انسانی ذہن کو نئی کیفیات سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ان کی شاعری میں وہ چراغ لالہ ہے جس سے روشن ہے کوہ ودمن۔

احساس واظہار کی سطح پر منور رانا نے نہایت شاداب تجربے کیے ہیں اور لفظیات کی سطح پر بھی توازن اور تناسب کا خیال رکھا ہے۔ ان کی شاعری میں نہ زیادہ بارش کا احساس ہوتا ہے اور نہ زیادہ تیز دھوپ کا۔ لیکن سمندر کی طرح ان کے ذہن کی لہریں مضطرب اور بے قرار ہیں۔ انہیں اپنے وجود کی خوشبو کی خبر ہے اسی لیے وہ اپنی ذات میں اور اپنے وجود کے اندر بھی کائنات کی جستجو کرتے ہیں۔ خاص طورپر اس صوت سرمدی کی جستجو جس کی وجہ سے کائنات میں روشنی ہے۔

منور رانا ایک معمولی احساس کو بھی اپنے تخیل کی قوت اور جدت سے غیرمعمولی وقوعے میں تبدیل کردیتے ہیں۔ قاری کو بادی النظر میں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سامنے کی بات ہے مگر جب اس کے اسرار کی تہیں کھلتی ہیں تو دیدہئ حیراں وا ہوجاتے ہیں۔ منور رانا کا ایک شعر ہے:

سوجاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھاکر

مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

یہ سامنے کا شعر ہے مگر اس میں معنی کی نہ جانے کتنی تہیں پوشیدہ ہیں۔ یہ دو قطبی تضادات کی بہترین تصویر وتعبیر بھی ہے۔ اس شعر کی صحیح معنویت انہی لوگوں پر منکشف ہوسکتی ہے جو نیند جیسے جادوئی فینومینا سے محروم ہیں اور جو اس کے لیے ہائپنوٹکس کا استعمال کرتے ہیں۔ پھر بھی وہ مختلف طرح کے امراض کے شکار ہوتے ہیں۔

وہ خواب آور گولیاں استعمال کرتے ہیں پھر بھی فشار دم یا ذیابیطس کے مریض رہتے ہیں۔ یہ آج کے ماڈرن لائف اسٹائل اور بدلتی دنیا کی ایک بھیانک تصویر بھی ہے اور دوسری طرف اس غریب انسان کی تقدیر بھی جو تمام تر مشکلات کے باوجود نیند جیسی نعمت سے مالامال ہے۔ وہ مزدور ضرور ہے مگر مینیا نہیں۔

 وہ کسی طرح کے cataplexy یا narcolepsy یا fibromyalgia کا شکار نہیں ہے۔

 نیند نہ آنے کی صورت میں جو بیماریاں انسانی وجود کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں، اگر ان تمام بیماریوں کے مہلک اثرات کی روشنی میں اس شعر کو پڑھا جائے تو اس کی معنویت نہ صرف روشن ہوتی ہے بلکہ یہ احساس ہوگا کہ تخلیق کار کے احساس کی سطح کتنی بلند اور کتنی جہتوں پر پھیلی ہوئی ہے۔

منور رانا کی شاعری میں انقلابی آہنگ، مزاحمتی رنگ اور وہ موج منصوری بھی ہے جس سے آج کے تخلیق کار محروم ہیں کہ زیادہ تر تخلیق کاروں کی رگوں میں کیڈمیم کی مقدار زیادہ ہے جس کی وجہ سے وہ ہرلمحہ ایک خوف یا بزدلی کی نفسیات کے زیر اثر رہتے ہیں مگر ایک سچا تخلیق کار کبھی بھی سچ بولنے سے پیچھے نہیں ہٹتا بلکہ وہ سرِدار بھی حرف حق بلند کرتا ہے۔ منور رانا کے یہاں بھی وہی شجاعت اور شہامت کی لہریں ملتی ہیں۔

امیرِ شہر کو تلوار کرنے والا ہوں

میں جی حضوری سے انکار کرنے والا ہوں

میں بھی سقراط ہوں سچ بول دیا ہے میں نے

زہر سارا میرے ہونٹوں کے حوالے کردو

جرأت سے ہر نتیجے کی پرواہ کیے بغیر

دربار چھوڑ آیا ہوں سجدہ کیے بغیر

یہ دور احتجاج ہے خاموش مت رہو

حق بھی نہیں ملے گا تقاضا کیے بغیر

خانقاہوں سے نکل آؤ مثالِ شمشیر

صرف تقریر سے بخشش نہیں ہونے والی

قتل ہونا ہمیں منظور ہے لیکن راناؔ

ہم سے قاتل کی سفارش نہیں ہونے والی

وہ سربلند ہمیشہ خوشامدوں میں رہا

میں سر جھکائے رہا اور سرمدوں میں رہا

کہیں ہم سرفروشوں کو سلاخیں روک سکتی ہیں

کہو ظلِ الٰہی سے کہ زندانی پلٹتا ہے

Saint Pol Rouxنے کہا تھا Poetry is the greatest force on Earth اور منور رانا نے زمین کی سب سے بڑی توانائی کااستعمال انسانیت کی تکریم اور احترام آدمیت کے لیے کیا ہے۔

انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ انسانی مستقبل کو تابناک بنانے کا کام کیا ہے کہ دراصل اس ترقی یافتہ تکنالوجی کے دور میں ثقافتی بحران کا حل شاعری ہی تلاش کرسکتی ہے۔ فطرت، تکنالوجی اور انسانی رشتوں کے مابین مفاہمت تخلیق کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اپنے تخیل کی قوت کو ضائع ہونے سے بچالیا ہے۔

انہیں احساس ہے کہ ماحولیاتی بحران کی وجہ سے تخیل کا بحران جنم لیتا ہے اسی لیے انہوں نے انسانی تخیل اور ماحولیاتی حقیقت کے درمیان اس رشتے کی دریافت کی ہے جس کا عدم توازن کائنات کو نئی سطحوں پر بحران میں مبتلا کرسکتا ہے۔ طبعی ماحول کا انفرادی اور اجتماعی ادراک پر گہرا اثر پڑتا ہے اور منور رانا نے اپنی شاعری میں اس طبعی ماحول کی بہت ہی فنکارانہ انداز میں عکاسی کی ہے۔

انہوں نے اپنی شاعری کے لیے ایک نئی بشارت دی ہے اور یہی انسانی جذبہ اور احساس ان کی شاعری کو زندہ رہنے کی ضمانت عطا کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں سب سے بڑی لہر جو ہے وہ ہے انسانیت کی لہر۔ وہی سورج، وہی روشنی، وہی خوشبو، وہی پھول ہے جو انسانی وجود سے وابستہ ہیں۔ انسانی رشتے کی فطری خوشبو نے ہی ان کی شاعری کو تازگی، تحرک، توانائی اور تمکنت عطا کی ہے۔

Next Article

لوک سبھا: منی پور میں صدر راج کو رات 2 بجے صرف 40 منٹ میں منظوری دی گئی

گزشتہ فروری میں منی پور کے سی ایم این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 356 کے مطابق، صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں 40 منٹ کی بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا۔

نئی دہلی: شمال -مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کے 23 ماہ بعد اور ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد بدھ (3 اپریل) کورات  2 بجے لوک سبھا میں منی پور میں صدر راج کے اعلان کے قانونی قرارداد پر بحث شروع ہوئی۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے 12 گھنٹے کی بحث کے بعد وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعداس  مسئلے کو اٹھایا۔ اس وقت گھڑی میں دو بج رہے تھے۔

معلوم ہو کہ یہ بحث تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، جس میں ارکان پارلیامنٹ نے عجلت میں تقریریں کیں۔

اپوزیشن ارکان نے اتنی دیر سے بحث شروع کرنے پر احتجاج کیا، لیکن اسپیکر برلا نے اس موضوع پر بحث جاری رکھی۔ یہ بحث تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تقریباً 10 منٹ تک اپنا جواب دیا۔

واضح ہوکہ آرٹیکل 356 کے مطابق صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ پارلیامنٹ کا موجودہ بجٹ اجلاس 4 اپریل کو ختم ہو رہا ہے۔

‘اپنا کام نہیں کیا’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے یہ کہہ کر بحث شروع کی کہ تاخیر کی وجہ سے وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ‘کبھی نہ ہونے سے دیر بہترہے’۔

انہوں نے کہا، ‘مجھے یہ کہنا ضروری ہے کہ کبھی نہ ہونے سے دیر بہتر ہے۔ ہم سب نے منی پور کی ہولناکی دیکھی ہے۔ 2023 میں شروع ہونے کے بعد سے بدامنی آہستہ آہستہ بڑھی ہے، جو صدر راج کے نفاذ سے 21 ماہ تک جاری ہے۔ اس دوران ہم نے کم از کم 200 افراد کو ہلاک، 6.5 لاکھ گولہ بارود لوٹتے، 70000 سے زائد افراد کو بے گھر اور ہزاروں کو ریلیف کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہوتے دیکھا ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واضح طور پر امن و امان برقرار رکھنے کے ذمہ دار لوگوں نے اپنا کام نہیں کیا ہے۔’

تھرور نے کہا کہ منی پور میں صدر راج کے نفاذ کا یہ 11واں واقعہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال  ملک وقوم کے ضمیر پر دھبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال تک اس معاملے میں’کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی’ اور صدر راج صرف وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد لگایا گیا۔

اپنے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ریاست میں تشدد کی وجہ ‘فساد یا دہشت گردی’ نہیں تھی۔ منی پور ہائی کورٹ کی 2023 کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘یہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی وجہ سے دو گروپوں کے درمیان نسلی تشدد تھا۔’

انہوں نے ریاستی حکومت کو میتیئی برادری کو درج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کرنے کے لیے کہا۔

‘اپوزیشن کے دور اقتدار کا کیا؟’

امت شاہ نے کہا کہ وہ نسلی تشدد کی فہرست نہیں بنانا چاہتے جو اپوزیشن کے دور حکومت یا بی جے پی کے دور میں ہوئے تھے، لیکن پھر انہوں نے 1993 سے شروع ہونے والے تشدد کے تین واقعات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا، ‘ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دور میں کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے اسے کنٹرول کیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدجن  260 افراد  کی بدقسمتی سےموت ہوئی، ان میں  سے 80 فیصد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پہلے ایک مہینے کے دوران مارے گئے۔ جبکہ تشدد کے تین واقعات،  پانچ سال اور چھ ماہ تک ، یو پی اے کی مخلوط حکومتوں کے دوران پیش آئے۔’

شاہ نے کہا کہ صدر راج کے نفاذ کے بعد تمام برادریوں کے درمیان میٹنگ ہوئی ہیں اور اس معاملے پر ‘سیاست’ نہیں کی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا، ‘منی پور میں گزشتہ چار ماہ سے کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ صورتحال تسلی بخش ہے لیکن یہ کنٹرول میں ہے۔ میں صدر راج کی منظوری لینے آیا ہوں۔ کانگریس کے پاس عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے اتنے ارکان پارلیامنٹ نہیں ہیں۔ پہلے صدر راج اس لیے نہیں لگایا گیا کیونکہ ہمارے وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا نہیں تھا۔ جب ہمارے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے  دیا اور کوئی دوسری پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ حکومت امن چاہتی ہے اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے۔’

‘ایمانداری سے بولنے کا وقت’

بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ لال جی ورما نے کہا کہ اپوزیشن کے مسلسل مطالبے کے باوجود بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے منی پور میں صدر راج نافذ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا، ‘جب صدر راج لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تو بی جے پی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اقلیتوں کو ڈرایا اور صدر راج نافذ نہیں کیا۔ جس طرح وقف بل اقلیتوں کو ڈرانے کے لیے لایا گیا، اسی طرح منی پور میں بھی اقلیتوں کو ڈرایا گیا اور تشدد کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر صدر راج کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم اس تجویز کے ساتھ ہیں، لیکن حکومت کو معمول کے حالات کو یقینی بنانا چاہیے اور لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔’

ڈی ایم کے ایم پی کنیموزی نے کہا کہ منی پور میں امن قائم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے اور منی پور میں ایک منتخب حکومت کی واپسی ہونی چاہیے جو امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔ نیز، ایک ایسی حکومت ہونی چاہیے جو لوگوں کو ایک ساتھ لائے نہ کہ  ان کے درمیان تفرقہ بازی کی سیاست کرے۔

کنیموزی نے مزید کہا، ‘یہ وقت ہے کہ آپ ایماندار بنیں اور اس ملک کے لوگوں کو جواب دیں۔’

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں )

Next Article

پارلیامنٹ میں آدھی رات کے بعد بھی بحث، وقف ترمیمی بل راجیہ سبھا سے پاس

راجیہ سبھا نے وقف ترمیمی بل 2025 کو بحث کے بعد منظور کر لیا، اپوزیشن نے اسے مسلم مخالف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے شفافیت میں اضافہ کرنے والا بتایا۔ ڈی ایم کے نے بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل 2025 کو پاس کرانے کے لیے مسلسل دوسرے دن پارلیامنٹ آدھی رات کے بعد بھی چلی۔ یہ بل 4 اپریل کی رات 2:35 پر منظور کیا گیا، جس کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ لوک سبھا میں یہ 3 اپریل کو رات کے 2 بجے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹوں کے ساتھ پاس ہوا تھا۔

اپوزیشن کی مخالفت

جمعرات (3 اپریل) کو حزب اختلاف کے کئی ارکان پارلیامنٹ نے کالے کپڑے پہن کر بل کے خلاف احتجاج کیا۔ تاہم، بی جے پی کے اتحادیوں- تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے  راجیہ سبھا میں بھی بل کی حمایت کی۔ دوسری طرف بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) اور وائی ایس آر کانگریس (وائی ایس آر سی پی) نے احتجاج  توکیا، لیکن اپنے ارکان پارلیامنٹ کو ووٹ ڈالنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔

بل پر زوردار بحث

لوک سبھا میں بحث بغیر کسی رکاوٹ کے چلی، لیکن راجیہ سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ حزب اختلاف کے اراکین پارلیامنٹ نے اس بل کو ‘مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش’، ‘اقلیتوں کے حقوق پر حملہ’ اور ‘زمینوں پر قبضے کا منصوبہ’ قرار دیا۔ وہیں، حکمراں پارٹی نے کہا کہ یہ بل وقف املاک کے انتظام میں شفافیت لانے کے لیے لایا گیا ہے۔

مرکزی وزیر کرن رجیجو کا بیان

اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اس بل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ صرف وقف املاک کے انتظام سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا، ‘یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ یہ بل غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں ہے۔’

کانگریس نے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا الزام لگایا

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے کہا کہ بی جے پی نے 1995 کے وقف ایکٹ اور 2013 میں کی گئی ترامیم کی حمایت کی تھی، لیکن اب اچانک اس کو ‘عوام مخالف’ بتاکر ترمیم کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘بی جے پی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 400 سیٹوں کا دعویٰ کر رہی تھی، لیکن وہ صرف 240 سیٹوں پر رہ گئی۔ اب یہ بل لا کر وہ اپنا ووٹ بینک واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن ارکان کا سوال- یہ ترمیم کیوں؟

حزب اختلاف کے سینئر رکن پارلیامنٹ کپل سبل نے سوال کیا کہ اس بل میں صرف مسلمانوں کو ہی وقف املاک کو عطیہ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ ‘اگر میرے پاس جائیداد ہے اور میں اسے خیرات میں دینا چاہتا ہوں تو آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے؟’

حکمراں پارٹی نے اس پر اعتراض کیا جب سبل نے یہ بھی کہا کہ ‘ملک میں 8 لاکھ ایکڑ وقف جائیدادیں ہیں، جبکہ صرف چار جنوبی ریاستوں (تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کرناٹک) میں ہندو مذہبی جائیدادوں کا رقبہ 10 لاکھ ایکڑ ہے۔’

‘حکومت اقلیتوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے’

کانگریس لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے اور اقلیتوں کی تعلیم اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘آپ مدرسوں کی تعلیم، مفت کوچنگ، مولانا آزاد اسکالرشپ جیسی اسکیموں کو بند کر رہے ہیں اور پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ اقلیتوں کے مفاد میں کام کر رہے ہیں؟’

‘کیا گھروں اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے اس بل کی اس شق کی مخالفت کی جس میں وقف املاک کو عطیہ کرنے والے شخص کے لیے کم از کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ اب یہ کیسے ثابت ہو گا کہ میں مسلمان ہوں؟ کیا مجھے ٹوپی پہننی ہوگی، داڑھی رکھنی ہے؟ کیا میرے گھر اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

‘کیا یہ بل بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے؟’

راجیہ سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران آر جے ڈی کے رکن پارلیامنٹ منوج جھا نے کہا کہ اگر اس بل کے ذریعے غیر مسلموں کو شامل کیا جا رہا ہے تو سیکولرازم کے اس جذبے کو دوسرے مذاہب تک بھی پھیلایا جانا چاہیے۔

انہوں نے پوچھا، ‘اگر آپ واقعی سیکولرازم کے اس جذبے کو پورے ملک میں پھیلاتے ہیں اور ہر مذہبی ادارے میں دوسرے مذاہب کو شامل کرتے ہیں – چاہے وہ سکھ، مسلم یا عیسائی ہوں  – تو میں آپ کی تعریف کروں گا۔ یا آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تمام تجربہ صرف مسلمانوں کے ذریعے ہی ہو گا؟’

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ بل ‘بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے’ کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘کیا یہ بل بلڈوزر کے لیے قانونی ڈھال بنا رہا ہے؟ یہ  بات ایک شہری کے طور پر مجھے ڈراتی ہے۔ شہروں میں مسلمان گھیٹو میں رہنے پر مجبور ہیں، اگر وہ گاؤں میں جاتے ہیں  تو انہیں  درانداز کہاجاتا ہے۔ ان کی تنظیموں کو شک کے دائرے میں رکھا جاتا ہے اور انہیں سازشی قرار دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ڈاگ-وہسل  کی سیاست کا استعمال کرناٹھیک نہیں ہے۔’

حکومت کا جواب

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تعداد محدود رکھی گئی ہے اور ان کی مداخلت صرف تجاویز تک محدود رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘کسی بھی مذہبی معاملے میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ سینٹرل وقف کونسل کے کل 22 ارکان ہوں گے جن میں سے صرف چار غیر مسلم ہوں گے۔ وہ صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں، لیکن وہ اکثریت میں نہیں ہوں گے۔’

‘ بل کارپوریٹس کو وقف املاک فروخت کرنے کا منصوبہ’

کانگریس کے ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے کہا، ‘آپ نے اس بل کا نام ‘امید’ رکھا ہے لیکن ملک کی ایک بڑی آبادی اب مایوس ہے کیونکہ آپ ان کی زمینیں لوٹ کر کارپوریٹس کو بیچنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔’

اپوزیشن نے وقف املاک کو بدنام کیا: بی جے پی ایم پی

عآپ کے رکن پارلیامنٹ سنجے سنگھ نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت مسلمانوں کو بااختیار بنانے کی بات کر رہی ہے، اس کی اپنی پارٹی کے پاس لوک سبھا میں ایک بھی مسلم رکن نہیں ہے اور راجیہ سبھا میں صرف ایک ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم مسلمانوں کی بھلائی کے لیے یہ قانون لا رہے ہیں، لیکن آپ کی پارٹی میں ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے، صرف ایک غلام علی ہیں۔ آپ نے مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین کی سیاست ہی ختم کر دی۔ کیا آپ واقعی مسلمانوں کی بھلائی کر رہے ہیں؟’

بی جے پی کے اکلوتے مسلم ایم پی،غلام علی، جوجموں و کشمیر سے نامزد رکن ہیں،نے آدھی رات کے قریب بل پر بحث میں حصہ لیا اور کانگریس پر وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کرنے کا الزام لگایا جس سے مسلمانوں کو بدنام کیا گیا اور تجاوزات کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘آپ نے وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کیں جن سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش  ہوئی۔’

ترامیم کے خلاف عدالت جائے گی ڈی ایم کے

جمعرات (3 مارچ) کو اسٹالن سیاہ بیج پہنے  اسمبلی پہنچے  اور لوک سبھا میں بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمل ناڈو حکومت اس بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

اسٹالن نے ایوان میں کہا ،  ‘ یہ ایکٹ مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے ۔ اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے ہم آج اسمبلی میں سیاہ بیج لگا کر شرکت کر رہے ہیں ۔ ‘

انہوں نے مزید کہا، ‘اس متنازعہ ترمیم کے خلاف ڈی ایم کے کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی ۔ تمل ناڈو اس مرکزی قانون کے خلاف لڑے گا کیونکہ یہ وقف بورڈ کی خود مختاری کو مجروح کرتا ہے اور اقلیتی مسلم کمیونٹی کے لیے خطرہ ہے ۔’

ڈی ایم کے کا پارلیامنٹ میں احتجاج

راجیہ سبھا میں ڈی ایم کے ایم پی تروچی شیوا نے بھی حکومت پر حملہ کیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت جان بوجھ کر مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔

‘ایک مخصوص کمیونٹی کوکیوں نشانہ بنایاجا رہا ہے؟ حکومت کی منشابدنیتی پر مبنی اورقابل مذمت۔وہ ‘سب کاساتھ ، سب کاوشواس ‘ کی بات کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کےبارے میں ان کی پالیسی امتیازی سلوک اورحاشیے پر دھکیلنے کی ہے۔یہ آئین کےخلاف ہے۔

اسٹالن کا وزیر اعظم مودی کو خط

جب لوک سبھا میں اس بل پر بحث ہو رہی تھی،اسی دوران  سی ایم  اسٹالن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھیج کر وقف ترمیمی بل کی مخالفت کی ۔

انھوں نے لکھا، ‘ ہندوستانی آئین ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کا حق دیتا ہے اور اس حق کی حفاظت کرنا منتخب حکومتوں کا فرض ہے ۔ لیکن مجوزہ ترمیم اقلیتوں کو دیے گئے آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتی ہے ۔اس سے مسلم کمیونٹی کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔’

تمل ناڈو اسمبلی میں بل کے خلاف تحریک

اسٹالن نے 27 مارچ کو تمل ناڈو اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی ، جس میں اس بل کو ملک اور مسلم کمیونٹی کی مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

Next Article

وقف بل لوک سبھا میں پاس، ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کے الزام پر اپوزیشن نے اسے اقلیتوں کا استحصال قرار دیا

وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی،  جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں 12 گھنٹے سے زیادہ چلی  بحث کے بعد بدھ (2 اپریل) کو ایوان نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو پاس کر دیا، اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔

معلوم ہو کہ اس بل پر دن بھر ایوان میں بحث ہوئی اور آدھی رات کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ کیونکہ یہ بل حکومت کی جانب سے جمعرات 3 اپریل (آج) کو  ہی راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور حکومت اسے 4 اپریل کو ختم ہونے والے بجٹ اجلاس میں منظور کروا لینا چاہتی ہے۔

بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کا جواب دینے کی کوشش کی، جبکہ اس بل کو اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیش کیا۔

شاہ نے اپوزیشن پر ‘ووٹ بینک کی سیاست’ کا الزام لگاتے ہوئےاورغیر مسلموں کو  وقف میں شامل کرنے حکومت کی جانب سے مذہبی معاملات میں مداخلت کے بارے میں مسلمانوں کو گمراہ کرکے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کی بات کہی۔

وہیں،  متحدہ اپوزیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت پر اس ‘غیر آئینی’ بل کے ذریعے مسلمانوں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔

پارلیامنٹ میں بی جے پی کی سابق حلیف وائی ایس آر سی پی نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔ بی جے پی کے دو اہم اتحادیوں – جے ڈی (یو) اور ٹی ڈی پی – نے بل کی حمایت کی۔ تاہم، تیلگودیشم پارٹی نے بھی ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو وقف بورڈ کے ڈھانچے کا فیصلہ کرنے میں لچک دی جانی چاہیے۔

متعلقہ وزیر کے بجائے وزیر داخلہ نےتقریر کی

واضح ہو کہ بلوں پر عام طور پر بحث کے اختتام پر متعلقہ وزیر کی جانب سے وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن بحث کے دوران امت شاہ نے اپنی 47 منٹ کی تقریر میں قانون کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جن پر اپوزیشن پارٹیوں نے تنقید کی۔ اس میں وقف اداروں میں غیر مسلموں کی شمولیت بھی شامل ہے۔

شاہ نے کہا، ‘کوئی بھی غیر اسلامی رکن وقف کا حصہ نہیں ہوگا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نہ تومتولی اور نہ ہی وقف کا کوئی رکن غیر مسلم ہوگا۔ مذہبی ادارے کے مینجمنٹ کے لیے کسی غیر مسلم کو مقرر کرنے کی کوئی شق نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔’

انہوں نے  مزید کہا، ‘جو لوگ مساوات اور مذہبی معاملات میں مداخلت کے لیکچر دے رہے ہیں، تو  ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ 1955 تک کوئی وقف کونسل یا وقف بورڈ نہیں تھا۔  یہ خیال کہ اس ایکٹ کا مقصد ہمارے مسلمان بھائیوں کے مذہبی طریقوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ  اقلیتوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹ بینک کو مضبوط کیا جا سکے۔ غیر مسلموں کو صرف وقف بورڈ یا کونسل میں  ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان  کا کام کیا ہے؟ ان کا کام مذہبی معاملات نہیں ہیں، بلکہ  یہ دیکھنا ہے کہ انتظامیہ قانون کے مطابق چل رہی ہے یا نہیں۔’

بل کا نام ‘امید’ رکھا گیا

غور کریں کہ اس بل نے وقف ایکٹ، 1995 کا نام بدل کر انٹیگریٹڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ (امید) رکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کی اہلیت کو بڑھانا ہے۔

سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر بھی اس پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ مسلم خواتین کی نمائندگی اور غیر مسلموں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بوہرا اور آغاخانیوں کے لیے علیحدہ ‘اوقاف بورڈ’ کے قیام کا بھی اہتمام کرتا ہے۔

اس بل میں دفعہ 40 کو خصوصی طور پر ہٹا دیا گیا ہے، جو وقف بورڈ کو یہ فیصلہ کرنے کے اختیارات سے متعلق ہے کہ آیا کوئی جائیداد وقف جائیداد ہے یا نہیں۔

شاہ نے کہا، ‘ایک اور غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ بل پچھلی تاریخ کے ساتھ لاگو کیا جائے گا۔ جب آپ اس ایوان میں بول رہے ہیں تو آپ کو ذمہ داری سے بات کرنی چاہیے۔ بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بل کی منظوری کے بعد حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہوگا۔ لہذا، کوئی پچھلی تاریخ سےلاگو ہونے والا​قانون نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔’

بل پر شاہ کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل کے جواب میں رجیجو نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کے ذریعہ پیش کردہ بل پر پہلے سے دی گئی وضاحتوں کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں اور اس کے بجائے سیاسی ردعمل دینے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ بل غیر آئینی ہے، تو ہمیں بتائیں  کہ کیوں؟ میں نے عدالت کا تبصرہ پڑھا ہے کہ وقف املاک کا انتظام قانونی ہے۔ اگر یہ غیر آئینی تھا تو کسی عدالت نے اسے ردکیوں نہیں کیا؟ ہمیں ‘آئینی’ اور ‘غیر آئینی’ الفاظ کو اتنے ہلکے ڈھنگ سے نہیں لینا چاہیے۔’

رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت پر ہندوستان کو اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ بنانے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ہندوستان اقلیتوں کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ محفوظ ہے۔

رجیجو نے کہا، ‘کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ میرا تعلق اقلیتی برادری سے ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان میں اقلیتیں کہیں اور کے مقابلے زیادہ محفوظ ہیں۔’

اپوزیشن نے بل کو غیر آئینی قرار دیا

بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور ایوان میں ڈپٹی لیڈر گورو گگوئی نے اپوزیشن کے لیے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے چار مقاصد ہیں – ‘آئین کو کمزور کرنا، ہندوستان کی اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنا، ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنا، اقلیتی برادریوں کو حقوق سے محروم کرنا’۔

گگوئی نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ بل کو متعارف کرانے سے پہلے وسیع غوروخوض پر لوگوں کو’گمراہ’ کر رہی ہے اور کہا کہ اقلیتی امور کی کمیٹی نے 2023 میں پانچ میٹنگ کی تھی، لیکن اس کی کسی بھی تجویز میں وقف بل پر بحث نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا، ‘میں وزیر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان میٹنگوں کے منٹس پیش کریں۔ اس بل پر  ایک بھی اجلاس میں بحث  یا بات نہیں کی گئی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر وزارت نے نومبر 2023 تک نئے بل کے بارے میں سوچا بھی نہیں تو کیا یہ بل وزارت نے بنایا یا کسی اور محکمے نے؟ یہ بل کہاں سے آیا؟’

اس پر اپوزیشن ارکان کو آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا ذکر کرتے ہوئے ‘ناگپور’ کہتے ہوئے سنا گیا۔

گگوئی نے کہا کہ یہ بل خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی 1995 کے ایکٹ میں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں خواتین کی نمائندگی کی حد دو تک طے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ‘مذہبی سرٹیفکیٹ دکھانے’ کے بارے میں بات کرتا ہے، جو قانون میں ‘وقف’ کی تعریف کرنے والے  اس حصے کا حوالہ دیتا ہے جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل کر نے والے  اور ایسی جائیداد کا مالکانہ حق رکھنے والے کسی بھی شخص کے ذریعے وقف یا بندوبستی  طور پر بیان کرتا ہے۔

گگوئی نے کہا، ‘کیا وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے اس طرح کے سرٹیفکیٹ طلب کریں گے، یہ پوچھیں گے کہ کیا آپ نے پانچ سال تک مذہب کی پیروی کی ہے؟ حکومت ایسے سرٹیفکیٹ کیوں مانگ رہی ہے؟’

‘مرکزی حکومت نے خود کو ریاستی فہرست میں شامل  کا اختیارات  دے دیے ہیں’

ٹی ایم سی کے رکن پارلیامنٹ کلیان بنرجی نے بھی اس بل کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ یہ ‘مسلمانوں کے اپنے مذہبی امور کو خود سنبھالنے کے اپنے مذہبی فریضے کو ادا کرنے کے حق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ بل آئین کے آرٹیکل 26 کے خلاف ہے۔’

واضح ہوکہ اس سے قبل اس بل میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ اگر کوئی سوال ہے کہ کوئی جائیداد حکومت کی ہے یا نہیں تو اسے کلکٹر کے پاس بھیج دیا جائے گا جس کے پاس اس بات کا تعین کرنے کا اختیار ہوگا کہ آیا ایسی جائیداد سرکاری ملکیت ہے یا نہیں اور وہ اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گا۔ تاہم، مشترکہ پارلیامانی کمیٹی کی سفارش پر اسے تبدیل کر کے ضلع کلکٹر سے اوپر کی سطح کے افسر میں بدل دیا گیا ہے۔

بنرجی نے کہا، ‘ریاست اپنے معاملےکا خود فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست فیصلہ کرے گی کہ یہ میری ملکیت ہے اور اس کی پابند ہوگی۔ زمین کی ملکیت کا فیصلہ سول عدالت ہی کر سکتی ہے۔ جو اختیار دیا گیا ہے وہ ریاستی فہرست کے تحت ہے اور پارلیامنٹ کو اس پر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے۔’

‘آپ کو یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟’

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ‘وقف بل بی جے پی کے لیے واٹر لو ثابت ہوگا۔’

انہوں نے کہا، ‘اگرچہ اب بہت سے لوگ اس سے متفق ہیں، لیکن وہ اندرونی طور پر اس کے خلاف ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہے کیونکہ ان کے ووٹ تقسیم ہوئے ہیں، وہ اسے مسلمانوں میں بھی تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس بل کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔’

اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیامنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور کہا کہ یہ حکومت کو متنازعہ املاک کو اس وقت تک کنٹرول کرنے کی اجازت دیتا ہے جب تک کہ اسے عدالت کے ذریعہ حل نہیں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘وزیر داخلہ نے کہا کہ بورڈ اور کونسل اسلام سے مختلف ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک غیر آئینی ادارہ بنائیں۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘یہ قانون آرٹیکل 26 سے لیا گیا ہے۔ آرٹیکل 26 اے، بی، سی، ڈی میں کہا گیا ہے کہ مذہبی فرقے اپنے معاملات خود چلا سکتے ہیں اور اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اگر ہندو، بدھ اور سکھ یہ کر سکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ آرٹیکل 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’

اویسی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ 17000 تجاوزات ہوئی ہیں۔ 2014 میں غیر مجاز تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا تھا۔ پھر آپ نے اسے 2024 میں کیوں واپس لے لیا؟

ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ جس پارٹی کے پاس ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کررہی ہے۔

معلوم ہو کہ اگست میں پہلی بار پارلیامنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس بل کی جانچ کرنے والی مشترکہ پارلیامانی کمیٹی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن پینل کے چیئرمین بی جے پی رکن پارلیامنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ کمیٹی کی تمام سفارشات کو قبول کر لیا گیا ہے۔

کمیٹی نے اپوزیشن ارکان پارلیامنٹ کی طرف سے دی گئی 44 ترمیمی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا، جبکہ این ڈی اے کیمپ کی 14 تجاویز کو قبول کر لیاگیا تھا۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔ )

Next Article

وقف ترمیمی بل پر پارٹی کے موقف سے ناراض جے ڈی یو کے دو لیڈروں نے پارٹی سے استعفیٰ دیا

جے ڈی یو سپریمو اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو لکھے خط میں پارٹی کے سینئر لیڈر محمد قاسم انصاری نے گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقف بل پر پارٹی کے موقف نے لاکھوں مسلمانوں کے بھروسے کو توڑا ہے، جن کا ماننا تھا کہ پارٹی سیکولر اقدار پر قائم رہے گی۔ اس بل پر پارٹی لیڈر محمد اشرف انصاری نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

نئی دہلی: جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے دو سینئر لیڈر محمد قاسم انصاری اور محمد اشرف انصاری نے جمعرات کو پارٹی اور پارٹی میں اپنے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ان کا یہ استعفیٰ وقف ترمیمی بل پر اپارٹی کی حمایت کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے اس بل کی حمایت کرنے پر اپنی پارٹی کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ بتادیں کہ بڑے پیمانے پر مخالفت کے باوجود یہ بل پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں پاس ہو چکا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، جے ڈی (یو) کے سپریمو اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو لکھے خط میں انصاری نے گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے موقف نے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کے بھروسے کو توڑا ہے جن کا خیال تھا کہ پارٹی سیکولر اقدار پر قائم رہے گی   ۔

انصاری مشرقی چمپارن ضلع میں پارٹی کے میڈیکل سیل کے ترجمان ہیں۔ نتیش کمار کو لکھے گئے اپنے خط میں انہوں نے کہا، ‘ہم جیسے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کو یہ یقین تھا کہ آپ خالصتاً سیکولر نظریے کے علمبردار ہیں۔ لیکن اب یہ یقین ٹوٹ گیا ہے۔ وقف بل ترمیمی ایکٹ 2024 پر جے ڈی یو کے موقف نے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں اور ہم جیسے کارکنوں کو گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘جس تیوراور انداز میں شری للن سنگھ نے لوک سبھا میں اپنا بیان دیا اور اس بل کی حمایت کی اس سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔ وقف بل ہم ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف ہے۔ ہم اسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتے۔ یہ بل آئین کے کئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔’

انہوں نے یہ بھی کہا، ‘اس بل کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کی تذلیل اور توہین کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بل پسماندہ مخالف بھی ہے۔ جس کا نہ آپ کو احساس ہے اور نہ آپ کی پارٹی کو۔ مجھے اپنی زندگی کے کئی سال پارٹی کو دینے کا افسوس ہے۔’

استعفیٰ دینے والے دوسرے لیڈر محمد اشرف انصاری جے ڈی (یو) اقلیتی ونگ کے سربراہ ہیں۔ اپنے استعفیٰ میں انہوں نے کہا کہ لاکھوں  ہندوستانی مسلمانوں کو پختہ یقین تھا کہ نتیش کمار مکمل طور پر سیکولر نظریے کے علمبردار ہیں لیکن اب یہ یقین ٹوٹ چکا ہے۔

انہوں نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ جے ڈی (یو) کے اس رویہ سے لاکھوں ہندوستانی مسلمان اور ہم جیسے کارکنان کو شدید دکھ پہنچا ہے۔

معلوم ہو کہ لوک سبھا میں پاس ہونے کے بعد یہ بل جمعہ (4 اپریل) کو راجیہ سبھا میں بھی پاس ہو گیا ہے ۔ راجیہ سبھا میں اس بل کی حمایت میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ یہ بل اب منظوری کے لیے صدرجمہوریہ کے پاس بھیجا جائے گا۔

Next Article

’شہری جھگیوں میں سیاست کی سمجھ کہیں زیادہ گہری ہے‘

خیال کیا جاتا ہے کہ شہری جھگیوں میں رہنے والے سیاست کو کم سمجھتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ نقل مکانی اور شہری جھگیوں  پر کتاب لکھنے والے اسکالر طارق تھیچل کہتے ہیں کہ جھگی –جھونپڑی میں رہنے والے سیاستدانوں کے مہرے محض نہیں ہیں۔ ان سے دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔