رام جنم بھومی ٹرسٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور چڑھاوے کی رقم کے حوالے سے اٹھے سوالوں کے درمیان نرموہی اکھاڑے کے چیف مہنت دینندر داس نے کہا کہ چڑھاوے کی رقم کو خفیہ رکھنے کے بجائے اس کی رسید دینا اور عوام کے سامنے اس کا حساب رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رام للا کے نام پر آنے والی رقم کے معاملے میں شفافیت بنی رہنی چاہیے، اگر کسی نے غلطی کی ہے تو اسے قانون کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔

نرموہی اکھاڑہ کے چیف مہنت دینندر داس (فوٹو: آکانکشا کمار/دی وائر)
ایودھیا: ایودھیا واقع رام مندر کےعقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے چڑھاوے کے مبینہ غبن اور چوری کے الزامات کی جانچ کے بیچ دی وائر سے بات چیت میں نرموہی اکھاڑے کے چیف مہنت دینندر داس نے کہا کہ ’رام للا کے گھر میں چوری ہوئی، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
انہوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مندر ٹرسٹ میں ایودھیا کے مقامی لوگوں کو زیادہ شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ دی وائر پہلے بھی اپنی رپورٹ میں بتا چکا ہے کہ ٹرسٹ کے 14 ممبران میں سے 9 کے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے قریبی تعلقات ہیں۔
مہنت دینندر داس رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے 14 ممبر میں سے ایک ہیں۔ نرموہی اکھاڑہ ان فریقین میں شامل تھا، جنہوں نے رام جنم بھومی-بابری مسجد زمین تنازعہ میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ بعد میں اس معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہندو فریق کے حق میں آیا تھا۔
جیسا کہ دی نیو انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ مہنت دینندر داس ٹرسٹ کے خصوصی مدعو رکن گوپال راؤ پر تنقید بھی کر چکے ہیں اور ان پر ’سیاست کرنے‘کا الزام لگا چکے ہیں۔
مندر ٹرسٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور چڑھاوے کی رقم پر اٹھے سوالوں کے درمیان مہنت دینندر داس نے کہا کہ چڑھاوے کی رقم کو خفیہ رکھنے کے بجائے اس کی رسید دینا اور عوام کے سامنے حساب رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام للا کے نام پر آنے والی رقم میں شفافیت بنی رہنی چاہیے، اور اگر کسی نے غلطی کی ہے تو اسے قانون کے دائرے میں لایا جاناچاہیے۔

فوٹو: آکانکشا کمار/دی وائر
دی وائر سے خصوصی بات چیت میں مہنت دینندر داس نے کہا کہ جن لوگوں کو چندے کی رسید نہیں ملی، ان کی شکایتوں کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر کئی لوگ یہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں رسید نہیں دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا،’جو خفیہ طور پر زیادہ پیسہ آتا ہے، اسے خفیہ رکھنا مناسب نہیں۔ اگر آپ رسید دیتے رہیں گے تو سماج کو دکھائیں گےکہ ہاں، پیسہ اتنا آ رہا ہے۔ سماج کو بنائے رکھنا بہت ضروری ہے۔ رام جی ہمیشہ سماج کو مانتے تھے، اسی لیے انہیں بنواس جانا پڑا۔ ان کو راجا بننا تھا، لیکن سماج کی بات مان کر وہ بنواس چلے گئے۔ رام للا کے یہاں بھی ملک کی روایت برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ لوگوں کے احسان کو ماننا بھی ضروری ہے۔ اسے خفیہ رکھیں گے تو اپنے آپ چور بن جاؤ گے۔‘
انہوں نے مزید کہا،’وزیراعلیٰ کی طرف سے پورا ایڈمنسٹریشن آ گیا ہے۔ پوری جانچ ہو رہی ہے۔ جس کے نام جو آئے گا، اس کو اپنے آپ جمع کر دیں گے، نہیں توجیل جائیں گے۔ رام للا پورا انصاف دے رہے ہیں۔ بھروسہ بنائے رکھنا ہے، کامیابی مل جائے گی۔‘
رام مندر کے فنڈ میں مبینہ چوری کے واقعہ سے مندر اور ایودھیا کی امیج خراب ہونے کے سوال پر مہنت دینندر داس نے کہا،’رام للا کے یہاں جو بھی ہوگیا، وہ غلط ہوگیاا ہے۔ سمجھ لیجیے راون پہنچ گئے ہیں۔ لیکن وزیراعلیٰ اس کی پوری جانچ کر رہے ہیں۔ سب کے سب خود بخود جیل پہنچ جائیں گے۔ پھانسی بھی ہو سکتی ہے۔‘
معاملے میں جانچ کرنے والی ایس آئی ٹی پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ انتظامیہ پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
سال 2020 میں رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے قیام کے بعد سے یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ مندر کے مینجمنٹ میں ایودھیا کے مقامی لوگوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ اس حولے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مہنت دینندر داس نے کہا کہ مندر کی ذمہ داری ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جنہیں روایت اور پوجا پاٹھ کی جانکاری ہو۔
انہوں نے کہا،’مہاتما لوگ رہیں گے،ڈھنگ سے پوجا پاٹھ کریں گے، آمدنی کو صحیح جگہ لگائیں گے۔ جنہیں جانکاری نہیں، ان کے ساتھ مستقبل میں مسئلہ ہوگا۔‘
ٹرسٹ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشو ہندو پریشد کے اثر و رسوخ سے متعلق سوال پر انہوں نے براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، لیکن کہا کہ آخری فیصلہ رام للا کا ہوگا۔
انہوں نے کہا،’جو غلطی ہوگی، رام للا فیصلہ دیں گے۔ ہمیں ان کا فیصلہ ماننا ہوگا۔‘
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔