چدمبرم نےکہا-ہندوتوا کو آگے بڑھانے کا ایجنڈا ہے شہریت ترمیم بل

07:03 PM Dec 11, 2019 | دی وائر اسٹاف

 راجیہ سبھا میں شہریت ترمیم بل کی مخالفت کرتے ہوئے ٹی ایم سی رکن پارلیامان ڈیریک او برائن نے کہا کہ نازی نےیہودیوں کو چوہا کہا تھا اور وزیر داخلہ نے پناہ گزینوں کو دیمک کہا ہے۔

سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کو شہریت ترمیم بل کو بحث اور منظور کرنے کے لئے راجیہ سبھا میں پیش کیا۔ شہریت ترمیم بل کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے غیر مسلم پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت عطا کرنے کا اہتمام ہے۔لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھامیں بھی اپوزیشن اس بل کو آئین کے خلاف بتاتے ہوئے مخالفت کر رہا ہے۔

 سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نےبل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئےیہ بل لائی ہے۔انہوں نے کہا، ‘ہمارے ملک میں شہریت ایک معاہدہ ہے جو پیدائش ، نسل ، رجسٹریشن ، نیچرلائزیشن اور علاقے کوشامل کرکے شہریت کو تسلیم کرتا ہے۔ اب یہ حکومت ایک نئے زمرہ کی شروعات کر رہی ہے۔ ‘

انہوں نے کہا، ‘یہ آئینی ہےیا نہیں؟ ہم یہاں جو کر رہے ہیں وہ اس عدالت میں بھیجنے کی طرف جا رہا ہے۔ ہم رکن پارلیامان عوام کے چنے ہوئے نمائندے ہیں اور ہم سے غیر آئینی کام کرنے کو کہا گیاہے اور پھر عدلیہ طے کرے‌گا کہ یہ آئینی ہے یا نہیں۔ ‘کانگریس رہنما آنند شرما نےکہا، ‘ آپ نے تاریخ لکھنے کا کسی کو پروجیکٹ دیا ہے تو رحم کرکے ایسا نہ کریں۔ رسمی طور پر روس سے ساورکر نے اعلان کیا تھا کہ جناح کے دو قومی نظریہ سے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انتخابی منشور کسی بھی پارٹی کا ہو آئین سے بڑا نہیں ہوتا ہے۔گاندھی اور پٹیل کا صرف نام نہ لیں، گاندھی کا نام صرف اشتہار کے لئے نہیں لیں۔اگر وہ آج ہوتے تو وزیر اعظم سے مل‌کر غم زدہ ہوتے۔ ‘

انہوں نے کہا، ‘آپ نے بٹوارےکا الزام کانگریس کے ان رہنماؤں پر لگایا جنہوں نے سالوں جیل میں گزارے۔ ہندومہاسبھا اور مسلم لیگ نے بٹوارے کی حمایت کی، کانگریس تو ہمیشہ اس کی مخالفت میں تھی۔ آپ کہتے ہیں سیاست نہیں ہونی چاہیے تو یہ سیاست بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ‘انہوں نے کہا،’مہاتماگاندھی کی قیادت میں وہ لڑائی لڑی گئی اس میں پٹیل، سبھاش چندر بوس تک شامل ہیں۔ان کی خدمات سے انکار کرنا تاریخ کی تردید کرنا ہے۔ آپ کو ان کے نظریات سے جو بھی پرہیزہو، لیکن ان کی خدمات سے انکارنہ کریں۔’

انہوں نے کہا، ‘بٹوارے کی تکلیف پورے ملک کو تھی۔ کیا آج ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آئین سازوں کو شہریت کو لےکر کوئی سمجھ نہیں تھی۔ بٹوارے کی تکلیف سے جو لاکھوں لوگ ہندوستان آئے کیاان کو عزت نہیں ملی؟ ہندوستان میں دو-دو وزیر اعظم بھی ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ اور آئی کے گجرال۔’انہوں نے کہا،’حکومت کا کہنا ہے کہ سب سے بات چیت ہو چکی ہے میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ آپ نے کہا کہ یہ تاریخی بل ہے تو تاریخ اس کو کس نظر سے دیکھے‌گی،یہ وقت بتائے‌گا۔ ہم اس کی مخالفت کرتےہیں۔ مخالفت کی وجہ سیاسی نہیں آئینی ہے، اخلاقی ہے۔ یہ بل آئین کی اصل روح پرحملہ ہے۔ یہ ہماری جمہوریت کے مقدس آئین کی تمہید کے خلاف ہے۔ ‘

ٹی ایم سی رکن پارلیامان ڈیریک او برائن نے کہا کہ لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ جو تاریخ یاد نہیں رکھ سکتے ہیں،وہ اس کو دوہرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نازی جرمنی کے قانون کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان قوانین اور اس بل میں بہت گہری یکسانیت ہے۔

 انہوں نے حراست مراکز کاموازنہ جرمنی کے کنسٹریشن کیمپ سے کیا۔ حراست مراکز میں رکھے گئے 60 فیصد لوگ بنگالی ہندو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے یہودیوں کو چوہا کہا گیا تھا اسی طرح سے وزیر داخلہ نے پناہ گزینوں کو دیمک کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی کی طرف سے بل کی مخالفت میں ہوں۔ یہ بل بنگالی لوگوں کے ساتھ تفریق کی سازش ہے۔ملک کی اقلیتوں کو اذیت دینے کے لئے یہ بل لایا گیا ہے۔ ٹی ایم سی کو راشٹرواد کی نصیحت آپ سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کل پی ایم مودی نے کہا تھا کہ یہ بل سنہری حرفوں میں درج ہوگا۔ کہاں سونے کے حرفوں میں درج ہوگا؟ پاکستان کے قائد اعظم کی قبر پر۔

سماجوادی رکن پارلیامان جاوید علی خان نے کہا کہ دو قومی نظریہ کی حمایت ساورکر اور جناح نے کی۔ آپ کے کئی ساتھیوں نے مسلم مکت بنانے کا بیان دیا ہے۔ ہمارے ملک کی حکومت جناح کا خواب پورا کرنے جارہی ہے۔ بار بار وزیر داخلہ نے کہا اس بل کے مسلمانوں سے لینا-دینا نہیں ہے۔ کیوں؟مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہیں؟

بل کی مخالفت کرتے ہوئے ٹی آرایس رکن پارلیامان کے کیشو راؤ نے کہا کہ یہ مسلم مخالف ہے۔ یہ آئین اور اس ملک کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس بل کے نافذ ہونے سے لوگوں کے بیچ میں ڈر بڑھے‌گا۔ بل کی مخالفت کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) رکن پارلیامان تلک رنگ راجن نے کہا کہ جب آپ دوسرے ملک جاتے ہیں تو کہتےہیں وسدھیو کٹمبکم، لیکن جب ہندوستان میں رہتے ہیں تو باٹنے والی سیاست کرتے ہیں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سیکولرزم کو آئین کا حصہ بتایا ہے۔ یب وناشکالےوپرت بدھی ہے۔ ملک کے آئین کو ملک کے مستقبل کو برباد نہ کریں۔

تروچی شیوا ڈی ایم کے رکن پارلیامان نے کہا کہ ملک کے متعلق اپنی جوابدہی کو سمجھتے ہوئے ہماری پارٹی اس کی مخالفت میں ہے۔ صرف 3 ممالک کو ہی شہریت کے لئے کیوں چنا گیا ہے؟ جب افغانستان شامل ہے تو سری لنکا کیوں نہیں؟ یہ تینوں ملک مسلم اکثریت ہیں کیا صرف اس وجہ سےان کو شامل کیا گیا؟