کیرل، پنجاب کے بعد راجستھان اسمبلی میں بھی شہریت قانون کے خلاف تجویز پاس

راجستھان کی کانگریس حکومت نے شہریت قانون کے خلاف اسمبلی میں تجویزپاس کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اس قانون کو رد کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس دوران اسمبلی میں بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے شہریت قانون کے حق میں نعرےبازی کی۔

راجستھان کی کانگریس حکومت نے شہریت قانون کے خلاف اسمبلی  میں تجویزپاس  کرتے ہوئے مرکزی  حکومت سے اس قانون کو رد کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس دوران اسمبلی میں بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے شہریت قانون کے حق میں نعرےبازی کی۔

فوٹو بہ شکریہ: http://www.rajassembly.nic.in

فوٹو بہ شکریہ: http://www.rajassembly.nic.in

نئی دہلی:  راجستھان کی کانگریس حکومت نے شہریت  قانون (سی اےاے)کے خلاف اسمبلی  میں تجویز پاس کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت سے اس قانون کو رد کرنے کی  اپیل کی ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، تجویز میں کہا گیا، ‘پارلیامنٹ میں حال ہی میں پاس کئے گئے شہریت  قانون کا مقصد مذہب کی بنیاد پرغیر قانونی پناہ گزینوں کو الگ تھلگ کرنا ہے۔مذہب کی بنیادپر اس طرح کی تفریق آئین  میں درج سیکولر نظریات کےموافق نہیں ہے اور یہ واضح طور پر دفعہ  14 کی خلاف ورزی  ہے۔’

اس تجویز میں کہا گیا، ‘ملک  کی  تاریخ  میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک ایسا قانون پاس ہوا، جو مذہبی بنیاد پر لوگوں کو بانٹتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک  بھر میں شہریت  قانون کو لے کر غصہ اور ناراضگی ہے اور اس کے خلاف مظاہرےہو رہے ہیں۔’تجویز میں مجوزہ این آرسی اورآسام  کا بھی تذکرہ  ہے۔گزشتہ  سال اگست میں جاری این آرسی کی حتمی فہرست میں سے 19 لاکھ سےزیادہ  لوگوں کو باہر رکھا گیا تھا۔

اس دوران اسمبلی میں بی جے پی کے کئی رہنماؤں نےشہریت قانون  کے حق  میں نعرےبازی کی۔اس سے پہلے اسمبلی میں تجویز پیش کرتے وقت کہا گیا تھا، ‘شہریت قانون آئین کےاہتماموں  کی خلاف ورزی  ہے۔ اس لیے ایوان مرکزی حکومت سے اس کو رد کرنے کی اپیل کرتا ہے تاکہ شہریت فراہم  کرنے میں مذہب  کی بنیاد پر کسی طرح کی تفریق  نہ  ہو اور ہندوستان میں تمام مذاہب  کے لیے قانون ایک برابر بنا رہے۔’

اس میں کہا گیا کہ شہریت  قانون، این پی آر اوراین آرسی کو لےکرایک رائے نہیں ہے اور اس سے لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے۔تجویز میں کہا گیا،‘ملک کے ایک بڑے طبقے کو تشویش  ہے کہ این پی آر، این آر سی  کی بنیاد ہے اور شہریت قانون میں حال میں ہوئیں ترمیم سے ہندوستانی شہریت سے ایک طبقہ محروم رہ جائےگا۔’اس ہفتے کی شروعات میں سپریم کورٹ نے شہریت قانون پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کی دلیل سنے  بغیراس کی شنوائی پر روک نہیں لگا سکتا۔ مرکزی حکومت کو ان عرضیوں پر جواب دینے کے لیے چار ہفتے  کاوقت  دیا گیا ہے۔

بتا دیں کہ شہریت  قانون کے خلاف اسمبلی میں تجویز پاس کرنے والی  کیرل پہلی  ریاست تھی۔ اس کے ساتھ ہی کیرل حکومت نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج  دیاہے۔شہریت قانون قانون اور دوسرے اصولوں  کوچیلنج دیتے ہوئے کیرل نے کہا تھا، ‘یہ قانون آرٹیکل 14،21 اور 25 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور یہ قانون غیر مناسب اورغیر مدلل ہے۔’

اس کے بعد پنجاب میں حکمراں  کانگریس نے بھی شہریت قانون (سی اےاے)کے خلاف اسمبلی میں تجویز پاس کی۔اس تجویز میں شہریت قانون کو غیر آئینی  بتاتے ہوئے کانگریس نے مطالبہ  کیا کہ اس قانون کو ختم  کیا جائے۔اس قانون میں افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے 2015 کے پہلے ہندوستان آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی کمیونٹی کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت  دینے کا اہتمام ہے۔