اترپردیش: کتھک رقاصہ کی پرفارمنس بیچ میں روکی گئی، افسروں نے کہا-قوالی نہیں چلے گی

اس پروگرام کا انعقاد اتر پردیش کے کلچر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ کتھک ڈانسر منجری چترویدی نے کہا کہ شروعات میں مجھے لگا کہ یہ کسی طرح کی تکنیکی گڑبڑی ہے لیکن میرے منچ پر ہونے کے باوجود کسی دوسرے پرفارمر کے نام کا اعلان ہونے پر مجھے اصلیت کا پتہ چلا۔

اس پروگرام  کا انعقاد اتر پردیش کے کلچر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ کتھک ڈانسر منجری چترویدی نے کہا کہ شروعات میں مجھے لگا کہ یہ کسی طرح کی تکنیکی گڑبڑی ہے لیکن میرے منچ پر ہونے کے باوجود کسی دوسرے پرفارمر کے نام کا اعلان  ہونے پر مجھے اصلیت کا پتہ چلا۔

1503 Faiyaz.00_44_40_28.Still003

فوٹو: دی وائر

نئی دہلی: اتر پردیش کے لکھنؤ میں ایک پروگرام میں بدھ کو پرفارم کر رہیں کتھک ڈانسر منجری چترویدی کی پرفارمنس کو بیچ میں ہی روک دیا گیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، منجری پاکستان کے معروف قوال نصرت فتح علی خان کی قوالی ‘ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں’ پیش کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا، ‘پہلے میں نے سوچا کہ کوئی تکنیکی گڑبڑی ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ موسیقی رکنے کے بعد میں منچ پر ہی تھیں کہ اگلی پرفارمنس  کا اعلان کر دیا گیا۔’ منجری نے کہا کہ اس بیچ پروگرام  میں موجود افسروں نے اسٹیج کے آگے آکر کہا، ‘قوالی نہیں چلے گی، اسٹیج پر قوالی نہیں ہوگی۔’

منجری نے فوراً مائیک پر جاکر کہا، ‘اپنے 25 سال کے کریئر میں، میں نے 35 ممالک میں پرفارم کیا ہے اور کبھی مجھے اس طرح بیچ میں نہیں روکا گیا، کبھی منچ سے نہیں ہٹایا گیا۔ میں اپنے ڈانس کے ذریعے گنگا جمنی تہذیب کی بات کرتی رہوں گی۔’

منجری نے بتایا کہ میں اپنی 45 منٹ کی پرفارمنس کے آخری مرحلے میں تھی کہ تبھی اسے روک دیا گیا۔انہوں نے کہا، مجھے بعد میں اپنے ٹیکنیشین سے پتہ چلا کہ پرفارمنس ختم ہونے میں کچھ منٹ ہی باقی تھے تبھی افسر آئے اور انہوں نے موسیقی روک دی۔’اس دوران اتر پردیش اسمبلی کے اسپیکر ہردیہ نارائن دیکشت آڈینس کی پہلی قطار میں بیٹھے تھے۔

اس پروگرام  کا انعقاداتر پردیش کے کلچر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کیا گیا تھا۔افسروں نے پہچان اجاگر نہیں ہونے ہونے کی شرط پر بتایا کہ مذہب یا موسیقی  کا پروگرام  روکے جانے سے تعلق  نہیں تھا۔ وقت کی کمی کی وجہ سے پروگرام  کو بیچ میں روکنا پڑا۔

چترویدی نے کہا کہ ثقافتی معاملوں کے دو افسر بعد میں بیک اسٹیج میرے پاس آئے اور کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن آپ نے بڑے مہذب انداز کے ساتھ اسے سنبھالا۔سینئر افسروں  نے انہیں اگلے دن بلایا اور کہا کہ ایسا کرنے کی ان کی کوئی منشا نہیں تھی اور انہیں یوم  اتر پردیش  کے دوران ایک پروگرام کے لیے مدعو  بھی کیا گیا۔