پنجاب: مظاہرہ کر نے والے  کسانوں کے گروپس  نے 1500 سے زیادہ موبائل ٹاور توڑے، ٹیلی کام خدمات متاثر

ٹاور انفرااسٹرکچر پرووائیڈرس ایسوسی ایشن کے مطابق،ریاست میں کم سے کم 1600 ٹاوروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ کئی حصوں میں ٹاوروں کی بجلی فراہمی روک دی گئی ہے اور ساتھ ہی کیبل بھی کاٹ دیے گئے ہیں۔ وہیں جالندھر میں جیو کی فائبر کیبل کے کچھ بنڈل بھی جلا دیے گئے ہیں ۔

ٹاور انفرااسٹرکچر پرووائیڈرس ایسوسی ایشن کے مطابق،ریاست  میں کم سے کم 1600 ٹاوروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ کئی حصوں میں ٹاوروں کی بجلی فراہمی  روک دی گئی ہے اور ساتھ ہی کیبل بھی کاٹ دیے گئے ہیں۔ وہیں جالندھر میں جیو کی فائبر کیبل کے کچھ بنڈل بھی جلا دیے گئے ہیں ۔

(علامتی تصویر، فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

(علامتی تصویر، فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

نئی دہلی: تین زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے کسانوں کے گروپس نے سوموار کو پنجاب میں 1500 سے زیادہ  موبائل ٹاور توڑے ہیں، جس سے کچھ علاقوں میں ٹیلی مواصلات خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ان کسان گروپوں کا ماننا ہے کہ نئے زرعی قوانین سے ارب پتی صنعتکاروں  مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ اس لیے ان کا غصہ مکیش امبانی کی کمپنی جیو کے موبائل ٹاوروں پر نکل رہا ہے۔

ریاست میں کئی حصوں میں ان ٹاوروں کو بجلی کی فراہمی  روک دی گئی ہے اور ساتھ ہی کیبل بھی کاٹ دیا گیا ہے۔حالانکہ، امبانی کا ریلائنس گروپ اور اڈانی کی کمپنیاں کسانوں سے اناج خریدنے کے کاروبار میں نہیں ہیں۔معاملے  کی جانکاری رکھنے والے ایک ذرائع نے کہا، ‘اتوار تک 1411 ٹاوروں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اب یہ اعدادوشمار 1500 کے پار ہو گیا ہے۔’

جالندھر میں جیو کی فائبر کیبل کے کچھ بنڈل بھی جلا دیے گئے ہیں۔ ریاست میں جیو کے 9000 سے زیادہ  ٹاور ہیں۔فنانشیل ایکسپریس کے مطابق، انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسان پروڈکٹ کا بائیکاٹ  کرنا چاہتے ہیں اور وہ جیو سم نہیں خریدتے ہیں یا جیو کنکشن چھوڑنا چاہتے ہیں، یہ سب ٹھیک ہے۔ پرامن مخالفت کا یہ طریقہ ہے، لیکن کمپنی کی املاک  کو نقصان پہنچانا کسی بھی طرح سےپرامن مخالفت کی علامت نہیں ہو سکتی ہے۔

ایک دوسرےذرائع نے بتایا کہ ٹاور کو نقصان پہنچانے کا سب سے عام طریقہ بجلی کی فراہمی  کاٹنا ہے۔ ایک معاملے میں ٹاور سائٹ پر جنریٹر کو لوگ اٹھاکر لے گئے اور اسے ایک مقامی گردوارے میں دے دیا۔کچھ جیو اسٹاف  کو دھمکانے اور ان کے بھاگنے کا ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے۔ ٹاور انفرااسٹرکچر پرووائیڈرس ایسوسی ایشن (ٹی ای ای پی اے)نے کہا ہے کہ کم سے کم 1600 ٹاوروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق، ریاستی  پولیس نے ٹاور توڑنے والے لوگوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے اور ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی ہے۔سوموار کو وزیراعلیٰ  کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ وہ پنجاب کو انتشار، کسی نجی یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت  نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی سرکار نے ریاست  میں پرامن مظاہروں  پر اعتراض  نہیں کیا یا ان پر روک نہیں لگائی ہے اس لیے املاک  کو نقصان پہنچانے اور لوگوں کوہونےو الی پریشانیوں کوبرداشت نہیں کیا جائےگا۔وزیر اعلیٰ  نے کسانوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ اس طرح ٹیلی مواصلات  کو نقصان پہنچانے سے طلباکو مہنگا پڑےگا، بالخصوص  بورڈ امتحان اور کووڈ 19 کے قہر کی وجہ سے گھر سے کام کرنے والے پیشہ وروں کو نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بینکنگ خدمات  بھی کافی حد تک آن لائن لین دین پرمنحصر ہیں۔اس سے پہلے وزیراعلیٰ نے جمعہ  کو مظاہرہ کرنےوالے کسانوں سے اس طرح  کے کاموں سے عام لوگوں کو پریشان نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کسانوں سے کہا تھا کہ جس صبرکے ساتھ وہ  مظاہرہ  کرتے آئے ہیں، اسے برقرار رکھیں۔

وزیراعلیٰ دفتر نے بیان میں کہا تھا، وزیراعلیٰ  نے کووڈ مہاماری کے بیچ ٹیلی مواصلات خدمات کو اہم  بتایا اور کسانوں سے مظاہرہ  کے دوران اسی طرح کی ڈسپلن  اور ذمہ داری دکھانے کو کہا جسے وہ دہلی کی سرحدپر اور قبل کےمظاہرے میں دکھاتے آئے ہیں۔’

وزیر اعلیٰ کی یہ اپیل ٹی ای ای پی اے کے گزارش  پر آئی تھی۔ٹیلی مواصلات بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے والوں  کے اس رجسٹرڈ یونین  نے ریاستی  سرکار سے کسانوں کو اپنی انصاف کی لڑائی میں کسی بھی غیرقانونی سرگرمی  کا سہارا نہیں لینے کو لے کر اپیل کرنے کی گزارش کی  تھی۔

بتا دیں کہ مرکزی حکومت کے ذریعے لائے گئے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسان لگاتارمظاہرہ  کر رہے ہیں۔گزشتہ ایک مہینے سے دہلی کی مختلف  سرحدوں میں مظاہرہ  کر رہے ہیں۔

(خبررساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)