جموں و کشمیر میں بحال ہوئی پری پیڈ موبائل خدمات

جموں کشمیر انتظامیہ کے افسروں نے بتایا کہ یونین ٹریٹری میں سبھی مقامی پری پیڈ موبائل فون پر کال کرنے اور ایس ایم ایس بھیجنے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے جموں علاقے کے سبھی دس ضلعوں اور شمالی کشمیر کے دو ضلعوں کپواڑہ اور باندی پورا میں فکس لائن انٹرنیٹ کمیونی کیشن سروس مہیا کرنے کو کہا گیا ہے۔

جموں کشمیر انتظامیہ کے افسروں  نے بتایا کہ یونین ٹریٹری میں سبھی مقامی پری پیڈ موبائل فون پر کال کرنے اور ایس ایم ایس بھیجنے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے جموں علاقے کے سبھی دس ضلعوں اور شمالی کشمیر کے دو ضلعوں کپواڑہ اور باندی پورا میں فکس لائن انٹرنیٹ کمیونی کیشن سروس مہیا کرنے کو کہا گیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: جموں وکشمیر میں پری پیڈ موبائل خدمات  اور گھاٹی کے دو ضلعوں میں 2جی سروس سنیچر کو بحال کر دی گئی۔افسروں  نے آج بتایا کہ یونین ٹریٹری میں سبھی مقامی پری پیڈ موبائل فون پر کال کرنے اور ایس ایم ایس بھیجنے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے۔جموں وکشمیر انتظامیہ کے چیف سکریٹری روہت کنسل نے کہا کہ حکم فوری اثرسے سنیچر سے نافذ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے سم کارڈ پر موبائل انٹرنیٹ خدمات دینے کے لیے کمیونی کیشن سروس پرووائیڈر کو صارفین کی جانکاری کی تصدیق کرنی ہوگی۔انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے جموں علاقے کے سبھی دس ضلعوں اور شمالی کشمیر کے دو ضلعوں کپواڑہ  اور باندی پورا میں فکس لائن انٹرنیٹ مواصلاتی خدمات مہیا کرنے کو کہا گیا ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ کے 10 جنوری کے حکم کے بعد جموں وکشمیر انتظامیہ نے 15 جنوری کی شام جموں علاقے کے کچھ حصوں میں موبائل انٹرنیٹ اور ہوٹل،  ٹریول ایجنسیوں اور ہاسپٹل میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی سہولت بحال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔اپنے تین صفحے کے حکم میں محکمہ داخلہ نے کہا کہ کشمیرڈویژن  میں اضافی 400 انٹرنیٹ کیوسک قائم کئے جائیں‌گے۔

حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جموں علاقہ کے سامبا،کٹھوعہ، ادھم پور اور ریائسی میں ای-بینکنگ سمیت محفوظ ویب سائٹ دیکھنے کے لئےپوسٹ-پیڈ موبائل پر 2 جی موبائل کنیکٹوٹی کی اجازت دی جائے‌گی۔جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری (داخلہ) شالین کابرا کےدستخط شدہ ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں اور حملوں کےخطروں کے خفیہ ان پٹ کے باوجود انتظامیہ یہ فیصلہ لے رہا ہے، کیونکہ یہ مانتا ہے کہ خدمات ضروری ہو گئی ہیں۔

بتا دیں کہ 10 جنوری  کو سپریم کورٹ نے اپنے ایک بےحد اہم فیصلے میں جموں و کشمیر انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر پابندی سے متعلق سبھی احکام پر غور کریں۔ یہ پابندی گزشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کاخصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد سے لگائی گئی تھی۔جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ اور موصلاتی خدمات پر پابندی لگانے پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ بنا کسی خاص مدت اور غیرمتعینہ وقت کے لئے انٹرنیٹ بین کرنا مواصلاتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت جاری کئے گئے تمام احکام کورٹ کے سامنے پیش کئے جائیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے کہا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت بار بار حکم جاری کرنا اقتدار کا غلط استعمال ہوگا۔اس دوران کورٹ نے یہ بھی کہا کہ انٹرنیٹ کا حق آئین کےآرٹیکل 19 کے تحت بولنے اور اظہار کی آزادی کا حصہ ہے۔ انٹرنیٹ پر پابندی لگانے کاکوئی بھی حکم عدالتی جانچ‌کے دائرے میں ہوگا۔

 (خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)