تنازعات کے گھیرے میں کیوں ہے پرشانت کشور کی ’بات بہار‘ کی مہم؟

بہار اسمبلی انتخاب سے پہلے پرشانت کشور نے'بات بہار کی'نام سے ایک مہم کی شروعات کی ہے۔ اس مہم کو لےکر پرشانت کشور پرآئیڈیا چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔

بہار اسمبلی انتخاب سے پہلے پرشانت کشور نے’بات بہار کی’نام سے ایک مہم کی شروعات کی ہے۔ اس مہم کو لےکر پرشانت کشور پرآئیڈیا چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

فوٹو: رائٹرس

پٹنہ:جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو)سے نکالے جانے کے بعد پرشانت کشور نے 18 فروری کو پریس کانفرنس کرکے وزیراعلیٰ نتیش کمار کوکھری-کھوٹی سنائی تھی اور ‘بات بہار کی‘ نام سے اعداد و شمار پر مبنی ایک مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مہم  زور شور سے شروع ہو گیا۔لیکن مہم  شروع ہونے کے ایک ہفتے کے اندر ہی یہ تنازعات کے گھیرے میں بھی آگیا۔کانگریسی رہنما شاشوت گوتم نے پرشانت کشورپر تشہیری مہم کا آئیڈیا اور لوگو چرانے کا سنگین الزام لگایا ہے۔ اس کو لےکرانہوں نے 25 فروری کو پٹنہ کے پاٹلی پتر تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

اپنی شکایت میں انہوں نے پرشانت کشور کے ساتھ ہی ایک مقامی نوجوان اسامہ خورشید کو بھی ملزم بنایا ہے۔ تھانہ میں دی  گئی تحریری درخواست میں شاشوت نے کہا ہے کہ بہار اسمبلی انتخاب کو لےکر وہ پاٹلی پتر کالونی میں واقع اپنے دفترمیں پچھلے کچھ مہینوں سے بہار مرکوز انتخابی مہم کا خاکہ تیار کر رہے تھے۔شاشوت گوتم کے مطابق، وہ اسامہ خورشید کو سال 2017 سے ہی جانتےہیں۔ وہ بنا کسی پیسے کے ایک سیاسی کارکن کے طور پر ان کی مہم میں تعاون کر رہےتھے۔ ان کا الزام ہے کہ اسی بیچ فروری کی شروعات میں اسامہ نے دفتر آنا بند کر دیااور دفتر کا لیپ ٹاپ لےکر غائب ہو گیا۔

شاشوت گوتم شکایت میں لکھتے ہیں،’لیپ ٹاپ میں ڈیٹا سے متعلق آئیڈیا، مہم کاخاکہ اور عملی منصوبہ، گرافکس اور متعلقہ لوگو ڈیزائن کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پردانشورانہ مواد موجود تھا ۔ کئی دفعہ فون کرنے اور وہاٹس ایپ کے ذریعے پیغام دینےکے باوجود اسامہ خورشید نے لیپ ٹاپ نہیں لوٹایا۔ بعد میں ساتھیوں کے کہنے پر لیپ ٹاپ واپس کیا۔ ‘اپنی شکایت میں وہ آگے لکھتے ہیں،’اس کے کچھ دن بعد پرشانت کشورنام کے شخص نے، جو انتخابی مہم سے متعلق کام کرتا ہے، 18 فروری کو پریس کانفرنس کرکے میرا ڈاٹا اکٹھا کرنے، مہم کا خاکہ اور عملی منصوبہ، گرافکس اور متعلقہ لوگوڈیزائن کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر دانشورانہ موادکو اپنا بتاتے ہوئے ‘ بات بہارکی ‘ نام سے ایک مہم کی شروعات کرنے کا اعلان کیا۔ ‘

درخواست میں انہوں نے پرشانت کشور، اسامہ خورشید اور ان کے نامعلوم ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے مناسب قانونی کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔درخواست کی بنیاد پر ، پولیس نے دفعہ 467 (اہم دستاویزات کی جعلسازی) ، 468 (دھوکہ دہی کے ارادے سے جعلسازی) ، 471 (دھوکہ دہی کے ذریعےجعلی دستاویزات یا الکٹرانک ریکارڈ کو اصل کے طور پر بتانا) ، 420 (فراڈ) ، 406(بھروسے کی مجرمانہ خلاف ورزی) اور 120 بی (مجرمانہ سازش)کے تحت ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

ان دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے پر قصورواروں کو عمر قید تک کی سزاہو سکتی ہے۔تھانہ میں شکایت درج کرانے کے علاوہ شاشوت گوتم نے 25 فروری کو ہی پٹنہ سول کورٹ میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ بھی دائر کیا اور کہا کہ اس سے ان کو تقریباً10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔پاٹلی پتر تھانہ کے ایس ایچ او کامیشور پرساد سنگھ نے بتایا کہ ایف آئی آر کو لےکر کچھ چشم دید گواہوں سے پوچھ تاچھ کرکے ان کے بیان درج کئے گئے ہیں اور الکٹرانک ثبوت جٹانے کے لئے میل بھیجا گیا ہے۔

پرشانت کشور اور اسامہ خورشید نے گزشتہ دنوں پیشگی ضمانت کے لئےمقامی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ پٹنہ کے ضلع اور سیشن جج رودر پرکاش مشرا نےان کی ضمانت عرضی خارج کرتے ہوئے 12 مارچ کو سماعت کی تاریخ مقرر کی تھی، لیکن وکیلوں کی ہڑتال کی وجہ سے 12 مارچ کو سماعت نہیں ہو پائی۔شاشوت گوتم جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے انہوں نے ڈیٹا اینالٹکس میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اسی یونیورسٹی سے انہوں نے اسٹوڈنٹس سیاست میں داخل ہوئےاور طلبہ یونین کے انتخاب میں جیت بھی درج کی۔

سال 2012 کے آخر میں وہ میری لینڈ حکومت کے واٹر کمیشن میں تقرر کئےگئے جہاں وہ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے تھے۔ پانچ سال وہاں کام کرنے کے بعد فروری 2017میں وہ پٹنہ لوٹ آئے۔فروری 2017 سے جولائی 2017 تک انہوں نے نتیش کمار کے ساتھ کام کیا۔ نتیش کمار کے ساتھ جب وہ کام کر رہے تھے تو ان کا فوکس جےڈی یو ترجمان کو ڈیٹاسے لیس کرنا تھا۔ جے ڈی یو جب مہاگٹھ بندھن سے الگ ہو گیا، تو انہوں نے اس  کے لئے کام کرنا بند کر دیا اور ایشین ڈیولپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے ڈی آر آئی) سے جڑ گئے۔

بعد میں ان کو سینٹر فار اکانومک پالیسی اینڈ پبلک فنانس کاڈائریکٹر بھی بنایا گیا۔ ستمبر 2018 میں راہل گاندھی نے ان کو کانگریس کے ڈیٹااینالٹکس ڈپارٹمنٹ کا نیشنل کوآرڈینیٹر بنا دیا۔ فی الحال وہ کانگریس میں بنے ہوئےہیں۔شاشوت گوتم نے کہا، ‘پرشانت کشور 16 فروری کو دوپہر بعد ‘بات بہار کی ‘ نام سے ڈومین رجسٹر کرتے ہیں۔ 18 فروری کی صبح 11 بجے پریس کانفرنس کرتےہیں اور 19 فروری کو ویب سائٹ لائیو ہو جاتی ہے۔ صرف دو دنوں میں پوری مہم کو شروع کر دیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ دو دن میں کوئی ویب سائٹ تیار کر کے اس کولائیو کر دے‌گا؟ اس سے ظاہر ہے کہ اس پر وہ کام کر رہے تھے، لیکن ان کے پاس ڈومین نہیں تھا۔ یا پھر اس کو آناً فاناً میں کیا گیا ہے۔ ‘

شاشوت گوتم نے حالانکہ شکایت درج کرائی ہے، لیکن وہ یہ بھی کہہ رہےہیں کہ اگر پرشانت کشور اپنی غلطی مانتے ہوئے یہ قبول‌کر لیں کہ آئیڈیا انہوں نےچرایا ہے، تو وہ مقدمہ واپس لے لیں‌گے۔وہ کہتے ہیں، میں پہلے دن سے ہی کہہ رہا ہوں کہ معاف کر دیناگاندھیائی نظریہ ہے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ پرشانت کشور اگر مان لیں کہ انہوں نے غلطی کی ہے اور عوامی طور پر معافی مانگ لیں تو میں خوشی خوشی مقدمہ واپس لے لوں‌گا۔لیکن اگر ان کو لگتا ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے تو صحیح-غلط کورٹ طے کرے‌گا۔ ‘

کیا اس سے یہ پیغام نہیں جا رہا ہے کہ آپ کی دلیل کمزور ہے، اس سوال پر انہوں نے کہا، ‘ میں ہائی مورل گراؤنڈ پر ہوں۔ میں بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ آپ سے غلطی ہوئی ہے، اس کو قبول کیجئے۔ میری پوری لڑائی اس بات کو لےکر ہی ہے کہ پرشانت کشور نے جو ڈیٹا مبنی تشہیری  مہم شروع کی ہے، وہ اصل میں میرا آئیڈیا ہے۔پرشانت کشور یہ قبول‌کر لیں۔’شاشوت گوتم کے مطابق، وہ بہار اسمبلی انتخاب کے مدنظر ڈیٹا مبنی تشہیری  مہم شروع کرنے والے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے 7 جنوری کو ہی’بہار کی بات ‘نام سے ایک ڈومین رجسٹر کرایا تھا۔

وہ کہتے ہیں،’میں مارچ سے یہ مہم شروع کرنا چاہتا تھا اور اسامہ اور ایک شخص سیدھے طور پر اس سے جڑا ہوا تھا۔ میں یہ مہم کانگریس کے بینر سے نہیں بلکہ ایک ڈیٹا تجزیہ کار کی حیثیت سے شروع کرنا چاہتا تھا۔ ‘انہوں نے کہا، ‘پرشانت کشور نے میری  مجوزہ مہم’بہار کی بات ‘کو بدل‌کر ‘بات بہار کی ‘ کر دیا۔ انہوں نے جو لوگو جاری کیا، وہ پوری طرح میرےلوگو جیسا ہے۔ اس مہم کو لےکر اسامہ سے میری لگاتار بات ہو رہی تھی۔ وہاٹس ایپ اوردوسرے پلیٹ فارم کے ذریعے اطلاعات کا لین دین ہو رہا تھا۔ یہ سب ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب ہے۔ ‘

اسامہ خورشید جےڈی یو کی طرف سے پٹنہ یونیورسٹی کا طلبہ یونین کاانتخاب لڑ چکے ہیں۔ اس وقت پرشانت کشور جے ڈی یو میں تھے اور طلبہ یونین کے انتخاب میں بھی کافی فعال تھے۔شاشوت گوتم کے الزامات کو لےکر اسامہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نےشاشوت سے جان پہچان کی بات قبول کی، لیکن یہ بھی کہا کہ ان کے ساتھ کسی مہم کا حصہ ہونے کو لےکر کوئی بات نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اس کو لےکر کوئی دستاویزی کارروائی ہوئی تھی ۔

کیا شاشوت گوتم نے ڈیٹا مبنی تشہیری مہم کو لےکر کبھی ان سے بات کی تھی، اس سوال پر اسامہ نے کہا، ‘ شاشوت گوتم سے میری کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ان ملاقاتوں میں کچھ کرنے کی بات ہوتی تھی، لیکن کیا کیا جانا ہے، اس کا کوئی بلوپرنٹ نہیں تھا۔ ‘اسامہ آگے کہتے ہیں،’ریاست کے سماجی-اقتصادی اور سیاسی مدعوں پران سے بات ہوتی رہتی تھی، لیکن ڈیٹا مبنی تشہیری مہم چلانے جیسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ مہم کا آئیڈیا لیک  کرنے کا جو الزام وہ لگا رہے ہیں، وہ سراسر جھوٹ ہے۔ ‘

پرشانت کشور کے ساتھ منسلک ہونے کے سوال پر اسامہ نے کہا، ‘ ان سےمیرے اچھے تعلقات ہیں۔ ان کی مہم کھلی مہم ہے، کوئی بھی اس کا حصہ ہو سکتا ہے۔ میں ان کی مہم سے جڑا ہوا ہوں۔’پرشانت کشور کے رد عمل کے لئے ان کو فون کیا گیا تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔ ان کو سوالوں کی فہرست میل کی گئی ہے، جواب آنے پر اس کو اسٹوری میں شامل کیا جائے‌گا۔

ای میل بھیجنے کے بعد پرشانت کشور کے دفتر سے شیواجی نام کے ایک شخص نے رابطہ کیا اور کہا کہ معاملہ کورٹ میں ہے، اس لئے پرشانت کشور اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں‌گے۔حالانکہ ہندوستان ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق، پرشانت کشور نے ایف آئی آر کو سستی شہرت کا ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے، ‘ یہ کچھ نہیں بس عجیب و غریب دعویٰ کر کے دو منٹ کی شہرت پانے کی گھٹیا شرارت اور خراب کوشش ہے۔جانچ ایجنسی کو چاہیے کہ اس معاملے کی پوری جانچ کرے تاکہ سچ سب کے سامنے آئے۔ ‘

(مضمون نگار آزاد صحافی ہیں۔ )