آر ایس ایس پر پابندی نہیں، اس کے کام کاج میں شفافیت چاہتا ہوں: پریانک کھڑگے

کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے واضح کیا  کہ ان کا مقصد آر ایس ایس پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کرنا نہیں، بلکہ اس کے کام کاج میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے سنگھ کے چیف کو خط لکھ کر تنظیم کی قانونی حیثیت، مالی وسائل اور تنظیم سے متعلق دیگر تفصیلات عوام کے سامنے لانے کی اپیل کی تھی۔

کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے واضح کیا  کہ ان کا مقصد آر ایس ایس پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کرنا نہیں، بلکہ اس کے کام کاج میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے سنگھ کے چیف کو خط لکھ کر تنظیم کی قانونی حیثیت، مالی وسائل اور تنظیم سے متعلق دیگر تفصیلات عوام کے سامنے لانے کی اپیل کی تھی۔

تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی:موہن بھاگوت سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی قانونی حیثیت، مالی وسائل اور تنظیم سے متعلق دیگر تفصیلات عوامی کرنے کی اپیل کے بعد کرناٹک کے وزیرداخلہ پریانک کھڑگے نے منگل (16 جون) کو واضح کیا کہ ان کا مقصد آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دینا نہیں، بلکہ اس کے کام کاج میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

دکن ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، کھڑگے نے کہا،’میں چاہتا ہوں کہ تمام تنظیمیں قانون کے دائرے میں کام کریں اور وزیر داخلہ ہونے کے ناطے میں کسی بھی تنظیم کو قانون کی پابندی کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘

کھڑگے نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے وکیلوں کے ساتھ آر ایس ایس کے دفتر جانے یا ان کے نمائندوں سے قانونی مشیروں کی موجودگی میں ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

کھڑگے نے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے اس مبینہ دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا،’اگر کوئی این جی او یہ دعویٰ کرتاہے کہ وہ ہندوستان کی فوج سے بھی زیادہ تیزی سے ایک فوج تیار کر سکتا ہے، تو کیا ریاستی حکومت کو اس کی قانونی حیثیت، تنظیمی ڈھانچے، ٹریننگ، فنڈنگ، کمانڈ چین اور جوابدہی کے بارے میں جاننے کا حق نہیں ہونا چاہیے؟‘

بھاگوت نے دعویٰ کیا تھا کہ آر ایس ایس سرحد پر لڑنے کے لیے فوج کے مقابلے میں صرف تین دن کے اندر ایک فورس تیار کر سکتی ہے۔

کھڑگے نے اس بیان کو قومی سلامتی، لا اینڈ آرڈر اور آئینی جوابدہی کے لیے ایک تشویش  کا باعث قرار دیا۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ نے اس الزام کو بھی خارج کردیا کہ وہ ہندو مذہب کے خلاف ہیں۔

کھڑگے نے کہا کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ کیا آر ایس ایس ضروری قانونی تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ آر ایس ایس چیف  کو’ایڈوانسڈ سکیورٹی لائژن پروٹوکول ‘اور ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلنے والی دیگر سکیورٹی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

کھڑگے نے ان دلائل کو’غلط اور مضحکہ خیز‘قرار دیا جن میں کہا جاتا ہے کہ آر ایس ایس مذہبی سے متعلق ایک  ثقافتی تنظیم ہے، اس لیے اسے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں آر ایس ایس کی ثقافتی، سماجی، تعلیمی یا دیگر قانونی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن تنظیم کو شفافیت برقرار رکھنی ہوگی اور آئینی دائرےمیں کام کرنا ہوگا۔

کھڑگے نے بھاگوت کے اس دعوے کو تکبر کا ایک تشویش ناک مظاہرہ قرار دیا کہ آر ایس ایس سوالوں کا جواب دینے کے لیے مجبور نہیں ہے۔

انہوں  نے کہا،’آئینی جمہوریت میں کسی بھی ادارے کو، خواہ وہ کتنا ہی پرانا یا بااثر کیوں نہ ہو، ایسا خصوصی اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔‘

اس سے قبل، 13 جون کو کھڑگے نے بھاگوت کو  خط لکھ کر تنظیم سے آئین کے تحت طے شدہ ضابطوں کے مطابق کام کرنے اور اپنی قانونی حیثیت، تنظیمی ساخت، ٹیکس ادائیگی کی صورتحال اور عطیات، چندوں اور آمدنی کے ذرائع کی تفصیلات عوامی کرنے کی اپیل کی تھی۔

کھڑگے نے لکھا تھا، ’جو تنظیم مسلسل قوم پرستی، نظم و ضبط اور فرض شناسی کی بات کرتی ہے، اسے شفافیت، قوانین کی پابندی اور ہندوستان کے آئین کے احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود بھی ان اقدار کو اپنانا چاہیے۔ آر ایس ایس عام ہندوستانیوں سے قوانین کی پابندی کا مطالبہ تو کر سکتی ہے، لیکن خود انہی قوانین سے استثنیٰ حاصل نہیں کر سکتی۔ اگر کارکنوں، چھوٹی تنظیموں، مذہبی اداروں، این جی اوز، ٹرسٹوں، کمپنیوں اور شہریوں سے رجسٹریشن، معلومات کی فراہمی، آڈٹ اور ٹیکس ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے، تو آر ایس ایس کو بھی ملک کے قوانین پر عمل کرتے ہوئے ایک مثال قائم کرنی چاہیے۔ ‘

اس سے قبل منگل (16 جون) کو کھڑگے نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے ایک وائرل ویڈیو کا ذکر کیا اور زیادہ شفافیت کے مطالبے کو’سیاسی ہتھکنڈہ‘اور گمراہ کن بتایا۔ انہوں نے صاف کیا، ’میں نے اپنا خط 15 جون کو بھیجا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، جبکہ آر ایس ایس چیف کی یہ بات چیت 13/14 جون کو ہوئی تھی۔‘ اور لوگوں سے کہا کہ وہ ان دونوں باتوں کو ایک نہ سمجھیں۔

اس سے قبل 10 جون کو کھڑگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو چیلنج کرتے ہوئے پوچھاتھا کہ وہ بتائے کہ کن قوانین کے تحت تنظیم کو حکومت کے سامنے جوابدہ ہونے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ جس ملک میں ہر فٹ پاتھ پر ٹھیلہ -پھیری لگانے والے کو رجسٹریشن کروانا پڑتا ہے، وہاں آر ایس ایس جیسی تنظیم قانون سے اوپر کیسے ہو سکتی ہے۔