افواج کی جانب سے پی ایم کیئرس فنڈ میں دی گئی رقم میں سب سے زیادہ ہندوستانی فوج کی طرف سے 157.71 کروڑ روپے ہے، وہیں فضائیہ نے 29.18 کروڑ روپے اوربحریہ نے 16.77 کروڑ روپے کا چندہ دیا ہے۔
صرف سرکاری کمپنیاں،تعلیمی ادارےاورپبلک سیکٹر کے بینک ہی نہیں بلکہ تینوں مسلح افواج انڈین آرمی، فضائیہ اور بحریہ نے بھی پی ایم کیئرس فنڈ میں بڑا چندہ دیا ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق تینوں افواج کے عملے نے اپنی ایک دن کی تنخواہ سے متنازعہ پی ایم کیئرس فنڈ میں203.67 کروڑ روپے کا چندہ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، فضائیہ اور بحریہ نے آر ٹی آئی ایکٹ کےتحت اس سلسلے میں جانکاری فراہم کرائی، جبکہ انڈین آرمی نے یہ جانکاری آر ٹی آئی کے تحت دینے سے منع کر دیا۔حالانکہ انہوں نے 15 مئی کو اپنے ایک ٹوئٹر پوسٹ کے ذریعے اس بارے میں جانکاری دی تھی۔
فضائیہ نے بتایا کہ ان کےاہلکاروں نے اپریل سے اکتوبر کے بیچ پی ایم کیئرس فنڈ میں29.18 کروڑ روپے کا چندہ دیا ہے۔ وہیں بحریہ نے بتایا کہ ان کے اہلکاروں نے اپریل سے اکتوبر کے بیچ16.77 کروڑ روپے اس فنڈ کے لیے دیے۔
انڈین آرمی نے آر ٹی آئی کےتحت اس بارے میں جانکاری نہیں دی، حالانکہ محکمہ اے ڈی جی پی آئی (ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پبلک انفارمیشن)نے 15 مئی کو ٹوئٹ کر کےبتایا تھا کہ فوجی عملے نے اپنی ایک دن کی تنخواہ سے فنڈ میں 157.71 کروڑ روپے کا چندہ دیا ہے۔
#HarKaamDeshKeNaam#IndianArmy personnel have voluntarily contributed Rs 157.71 Crores as one day salary for Apr 2020 towards #Nation’s fight against #COVID-19 pandemic to #PMCARES fund.#SayNo2Panic#SayYes2Precautions#MoDAgainstCorona pic.twitter.com/rJYTTNgeMM
— ADG PI – INDIAN ARMY (@adgpi) May 15, 2020
گزشتہ29 مارچ کو وزارت دفاع کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کووڈ 19 سے لڑنے کے لیے بنے پی ایم کیئرس فنڈ میں وزارت دفاع کےملازمین کی ایک دن کی تنخواہ کو جمع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے آگے کہا، ‘ایسا اندازہ ہے کہ وزارت دفاع سمیت اس کےمختلف ونگ فوج، بحریہ، فضائیہ، ڈیفنس پی ایس یو اور دیگر کےفنڈ سے لگ بھگ 500 کروڑ روپےاجتماعی طور پرفراہم کیے جائیں گے۔ ملازمین کا چندہ اپنی مرضی سے ہے اورجن کی خواہش نہیں ہے ان کو چھوٹ دی جائےگی۔’
اس سے پہلے آر ٹی آئی کے ذریعے پتہ چلا تھا کہ سات پبلک سیکٹر کےبینکوں اور آر بی آئی سمیت دیگر مالیاتی اداروں نے پی ایم کیئرس فنڈ میں 204.75 کروڑ روپے کا چندہ دیا تھا۔اس کے علاوہ کئی مرکزی تعلیمی اداروں نے اپنے عملے کی تنخواہ سے 21.81 کروڑ روپے اور 100 سے زیادہ پبلک سیکٹر کی کمپنیوں(پی ایس یو)نے اپنے عملے کی تنخواہ سے 155 کروڑ روپے کی رقم عطیہ کی تھی۔
وہیں مہارتن سے لےکر نورتن تک ملک بھر کےکل 38 پی ایس یو یا سرکاری کمپنیوں نے پی ایم کیئرس فنڈ میں 2105 کروڑ روپے سے زیادہ کی سی ایس آر رقم عطیہ کی ہے۔معلوم ہو کہ کو رونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہوئےحالات سے لڑنے کے مقصد سے عوام اور کارپوریٹ سے اقتصادی مدد حاصل کرنے کے لیے27 مارچ کو پی ایم کیئرس فنڈ کا قیام کیا گیا تھا۔ حالانکہ یہ فنڈ اپنے قیام سے ہی تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔
پی ایم کیئرس فنڈ کی مخالفت کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ سرکار اس سے جڑی بےحدبنیادی جانکاریاں جیسے اس میں کتنی رقم حاصل ہوئی، اس رقم کو کہاں کہاں خرچ کیا گیا، تک بھی مہیا نہیں کرا رہی ہے۔پی ایم اوآر ٹی آئی ایکٹ کے تحت اس فنڈ سے متعلق تمام جانکاریاں دینے سے لگاتار منع کرتا آ رہا ہے۔
پی ایم اوکا دعویٰ ہے کہ چونکہ یہ پبلک چیرٹیبل ٹرسٹ ہے اور یہ کسی سرکاری آرڈ کے تحت نہیں بلکہ وزیراعظم کی اپیل پر بنایا گیا ہے، اس لیے اس پر آر ٹی آئی ایکٹ نافذ نہیں ہوتا ہے۔