آرڈیننس قانون بنانے کا مثالی طریقہ نہیں: جسٹس اندو ملہوترا

سپریم کورٹ کی جج جسٹس اندو ملہوترا نے کہا کہ آرڈیننس قانون بنانے کا مثالی طریقہ نہیں ہے، قانون بحث کے ذریعے لایا جانا چاہیے کیونکہ اس سے اس کی کمیاں دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سپریم کورٹ کی جج جسٹس اندو ملہوترا نے کہا کہ آرڈیننس قانون بنانے کا مثالی طریقہ نہیں ہے، قانون بحث کے ذریعے لایا جانا چاہیے کیونکہ اس سے اس کی کمیاں دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سپریم کورٹ کی جج جسٹس اندو ملہوترا (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

سپریم کورٹ کی جج جسٹس اندو ملہوترا (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

نئی دہلی: سپریم کورٹ کی جج جسٹس اندو ملہوترا نے گزشتہ  بدھ کو کہا کہ آرڈیننس قانون بنانے کا مثالی طریقہ نہیں ہے، قانون بحث کے ذریعے لایا جانا چاہیے کیونکہ اس سے اس کی کمیاں دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ویسے تو آرڈیننس کے ذریعے قانون بنانا جائز عمل ہے لیکن اس میں خامیاں رہ جاتی ہیں جن کو عوامی بحث کے ذریعے  سےکم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی معینہ مدت پوری کر چکے The Arbitration and Conciliation (Amendment) Bill، 2018 کو پھرسے لایا جاتا ہے تو اس کو آرڈیننس کے راستے نہیں لایا جانا چاہیے۔جسٹس ملہوترا نے یہاں ‘ این اوورویو آف آربٹریشن لینڈاسکیپ ان انڈیا’ موضوع پر ‘ نانی پالکھی والا خطبہ ‘ دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔

انہوں نے کہا، ‘ ثالثی اور صلح بل، 1996 آرڈیننس کے راستے لایا گیا تھا اور اس کو عوامی بحث اور پارلیامنٹ میں سبھی جماعتوں کے ذریعے بحث کا فائدہ نہیں ملا۔ میں نہیں سمجھتی ہوں کہ یہ کوئی قانون لانے کا مثالی طریقہ ہے، ویسے جائز طریقہ ضرور ہے۔ ‘انہوں نے کہا، ‘ ثالثی اور صلح (ترمیم) بل، 2015 پھرسے آرڈیننس کے راستے سے لایا گیا۔یہ صحیح نظریہ نہیں ہے۔ اس کو بحث سے گزرنا چاہیے کیونکہ اس سے قانون کی کمیاں دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔’

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)