راجیہ سبھا میں منی پور ٹیپ کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ مذکورہ آڈیو کلپ کی صحیح طریقے سے جانچ کی جانی چاہیے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ واقعی میں سابق وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی آواز ہے یا نہیں۔ اگر ہے، تو سنگھ کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور تشدد میں ان کے کردار کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔
ترنمول کانگریس کی رکن سشمتا دیو کے ذریعے ٹیپ کے ذکرکیے جانےکا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن رکن پارلیامنٹ نے کہا، ‘ہو سکتا ہے کہ انہیں ان ریکارڈنگ کے بارے میں ٹھیک سے بات کرنے کا موقع نہ ملا ہو۔ لیکن وہ ریکارڈنگ اہم ہیں۔ ایک نیوز ویب سائٹ دی وائر ان ریکارڈنگ کو عوامی پلیٹ فارم پر لائی تھی۔ اگر یہ واقعی بیرین سنگھ کی آواز ہے تو انہیں ریاست میں تشدد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کر کے تفتیش کی جانی چاہیے۔’
سنگھ نے آڈیو ٹیپ کے ایک خاص حصے کا حوالہ دیا، جس میں کمیشن کی رپورٹ میں وزیر اعلیٰ کے طور پر شناخت کی گئی آواز کو لوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ یا ان کی پولیس فورس ‘بم استعمال’ کر رہی ہے۔
انہوں نے (بیرین سنگھ) کہا، ‘چپکے سے مارنا ہے’، سنگھ نے پارلیامنٹ کو بتایا۔
جب حکمراں جماعت کے ارکان سنگھ پر چلا رہے تھے اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہے تھے، تب ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے سنگھ سے کہا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کہا ہے، اسے ثابت کریں۔
انہوں نے کہا، ‘آڈیو ٹیپ عوامی پلیٹ فارم میں ہے، جناب۔ میں اسے دکھاؤں گا۔’
‘منی پور نہیں’
سنگھ نے کانگریس، ٹی ایم سی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور بیجو جنتا دل سمیت دیگر اپوزیشن اراکین کے ساتھ مل کر تشدد سے متاثرہ ریاست کا دورہ نہ کرنے پر وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا، ‘ورنہ، وہ (بی جے پی ممبران) حرف ‘م’ کے جنون میں مبتلا ہیں۔ مٹن، مچھلی، مغل، مسلمان کہو، لیکن منی پور نہیں۔ وزیر اعظم کو پچھلے دو سالوں میں منی پور جانے کا وقت نہیں ملا ہے۔’
بحث کا جواب دیتے ہوئے دیب نے بی جے پی کے نعرے ‘ڈبل انجن سرکار (حکومت)’ کا بھی حوالہ دیا، جسے اکثر وزیر اعظم استعمال کرتے ہیں، یہ کہنے کے لیے کہ یہ ‘ریاست کے لوگوں کو ڈرانے کا ایک طریقہ ہے کہ ترقی کے لیے بی جے پی کو ووٹ دیں… اپوزیشن ریاستیں محروم ہیں… یہ وفاقیت کی بدعنوانی ہے… منی پور کے لوگوں نے دوبار بی جے پی کو ڈبل انجن کی سرکار دی ،لیکن یہ اس ڈبل انجن سرکار کی ناکامی ہے…وزیراعظم کو شرمندگی سے بچانے کے لیے لگایا گیا ہے۔’
انہوں نے ہنگامی فنڈ کے طور پر 500 کروڑ روپے کی فراہمی پر سوال اٹھایا اور اس کے بجائے ریاست کے لیے مالیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا۔
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی موجودگی میں حکمراں پارٹی اور بجٹ پر سخت حملہ کرتے ہوئے دیب نے ایوان کو بیرین سنگھ کے استعفیٰ دینے والے ‘واقعات کی تاریخ’ کی وضاحت بھی کی، جس میں سپریم کورٹ نے فروری کے اوائل میں حکومت سے آڈیو ٹیپ کو سینٹرل فرانزک لیب سے تصدیق کرانے اور 24 مارچ کو رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔