یو پی: ٹی وی شو میں مودی حکومت کی تنقید کرنے پر  بی جے پی کارکنوں  نے مسلم نوجوان کو پیٹا

سوشل میڈیا پر سامنے آئے مظفر نگر کے ایک ویڈیو میں ایک نوجوان روزگار مہیا کرانے میں موجودہ حکومت کو ناکام بتا رہا ہے لیکن مبینہ طور بی جے پی-شیو سیناکے کارکن بیچ میں ہی روک کر اس کے ساتھ مار -پیٹ شروع کر دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آئے  مظفر نگر کے ایک ویڈیو میں ایک نوجوان  روزگار مہیا کرانے میں موجودہ حکومت کو ناکام بتا رہا ہے لیکن مبینہ طور بی جے پی-شیو سیناکے کارکن  بیچ میں ہی روک  کر اس کے ساتھ مار -پیٹ شروع کر دیتے ہیں۔

عدنان

عدنان

نئی دہلی: اتر پردیش کے مظفرنگر ضلع میں ایک نیوز چینل کے لئے شو کی ریکارڈنگ کے دوران حکومت کی تنقید کرنے پر بی جے پی کارکنان نے ایک نو جوان کی پٹائی کر دی۔ اس واقعہ کا ایک ویڈیو بدھ کو سوشل میڈیا پر سامنے آیا۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، جوان کی پہچان عدنان کے طورپر کی گئی ہے۔

ایک نجی نیوز چینل کے صحافی ‘ماحول بنائے رکھیے’پروگرام کی شوٹنگ کر رہے تھے۔شو کی اینکرنگ کر رہے صحافی نریندر پرتاپ نے کہا، ‘ ہم ایک پارک میں گئے جہاں پر پاس کے علاقے کے بہت سے نوجوان جمع  تھے۔ ہم موجودہ حکومت کے کام کاج کے بارے میں عام طور پر لوگوں کی رائے  لے رہے تھے۔ اس میں کسانوں کے بحران سے لےکر لاء اینڈ آرڈر سے جڑے سوال شامل تھے۔ ‘

انہوں نے کہا، ‘ اس دوران جب بھی کوئی حکومت کے خلاف کچھ  کہتا تو وہاں پر موجود بی جے پی کارکن وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگانے لگتے۔ جب اس خاص شخص کو دیکھا تو انہوں نے اس پر اپنا غصہ نکال دیا۔ اس دوران وہاں موجود راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے کارکنان کی بھی جھڑپ ہوئی ہے۔ ‘

واقعہ کا جو ویڈیو سامنے آیا ہے اس میں عدنان نوجوانوں کو روزگار مہیا کرانے میں موجودہ حکومت کو ناکام بتاتا ہوا دکھ رہا ہے۔حالانکہ اس دوران اس کی بات سے غیر مطمئن بی جے پی کارکن اس کو بیچ میں  روک دیتے ہیں اور اس کے ساتھ مار-پیٹ کرنے لگتے ہیں۔پرتاپ نے کہا، ‘ حالات کو درست کرنے  میں لانے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ اس کو بری طرح پیٹا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ پولیس میں شکایت درج کرانے سے وہ ڈرتا ہے۔ ‘

اس معاملے پر مظفرنگر کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس ستپال نے کہا، ‘ ہمیں نو  جوان سے کوئی شکایت نہیں ملی ہے۔ انٹرنیٹ پر کئی غیر مصدقہ ویڈیو چل رہے ہیں۔ اگر کوئی دیگر جانکاری سامنے آتی ہے تو کارروائی کی جائے‌گی۔ ‘

عدنان نے کہا، ‘ مجھے پتا چلا کہ یہاں کوئی انٹرویو چل رہا ہے تو سوچا میں بھی دیکھ لیتا ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں جب میں نے کہا کہ یہاں کوئی کام نہیں ہو رہا ہے اور بی جے پی کے خلاف کچھ باتیں کہیں تو وہ لوگ مجھے دہشت گرد بتانے لگے اور کہنے لگے کہ تم بی جے پی کے خلاف ہو۔ ‘

اس نے کہا، ‘ میں نے کہا کہ میں دہشت گرد کیوں ہوؤں‌گا، تم دہشت گرد ہو۔ اسی بات پر وہ مجھے مارنے لگے۔ مجھے مارنے میں بی جے پی اور شیوسینا کے لوگ شامل تھے۔پولیس ابھی تک نہیں آئی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ ان پر کارروائی ہو۔میں مسلم سماج سے ہوں اس لیے میرے ساتھ مار پیٹ ہوئی ہے۔’