مسلمانوں کے اپیزمنٹ کی بات چھلاوہ، پولرائزیشن کی وجہ سے پارٹیاں مسلمانوں سے دوریاں بنا رہی ہیں: ایس وائی قریشی

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کہا کہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں پولرائزیشن کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلمانوں کے اپیزمنٹ کا ایک 'متھ' بنایا گیا، جس نے غیر مسلموں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ ان کی نوکریاں چھینی جا رہی ہیں۔

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کہا کہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں پولرائزیشن کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلمانوں کے اپیزمنٹ کا ایک ‘متھ’ بنایا گیا، جس نے غیر مسلموں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ ان کی نوکریاں چھینی جا رہی ہیں۔

سابق سی ای سی ایس وائی قریشی (فوٹو : پی ٹی آئی)

سابق سی ای سی ایس وائی قریشی (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: برسوں سے مسلمانوں کےاپیزمنٹ کی دلیلوں کو ‘چھلاوہ’ قرار دیتے ہوئے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اتوار کو کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تقریبا تمام سیاسی پارٹیاں بڑھتے ہوئے پولرائزیشن کی وجہ سے مسلمانوں سے کنارہ کشی اختیار کر رہی ہیں، اور ان کے ایشوزپر بات نہیں کر رہی ہیں۔

قریشی نے یہ بھی کہا کہ  1980 اور 1990 کی دہائیوں میں پولرائزیشن کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلمانوں کے اپیزمنٹ کا ایک ‘متھ’ بنایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 14 فیصد سے زیادہ آبادی والی کمیونٹی کے لیےسول سروسز اور دیگر سرکاری کیڈرز میں مسلمانوں کی نمائندگی تقریباً دو  سے تین فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ برسوں سے مسلمانوں کے اپیزمنٹ کی بات ایک ‘فریب’ اور ‘بناوٹی روایت’ ہے، جس نے غیر مسلموں کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ ان کی نوکریاں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولرائزیشن میں اس کا اثر پڑا۔

مسلمانوں کے خلاف ‘ہیٹ اسپیچ’ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قریشی نے خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ وہ بولڈ چکے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی بیان بازی میں ملوث ‘طاقتوں’ کا حوصلہ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا،اس (غیر مہذب زبان) کے لیے کسی قسم کی رواداری نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے پاس اس کے خلاف مناسب اور سخت قانون ہیں۔ سوال نفاذ کا ہے جو بالکل خراب ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا الیکشن کمیشن نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں مبینہ طور پر ہیٹ اسپیچ  دینے والے امیدواروں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی، قریشی نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر ایسے معاملوں کی جانکاری نہیں ہے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ یہ ‘ممکن ہے’ کہ جیسی کارروائی ہونی چاہیےویسی نہ کی گئی ہو۔

انہوں نے کہا، الیکشن کمیشن ہمیشہ سے بہت محتاط تھا اور مجھے امید ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں بھی محتاط رہیں گے۔

‘دی پاپولیشن متھ: اسلام، فیملی پلاننگ اینڈ پولیٹکس ان انڈیا’ کے مصنف قریشی نے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا کہ مسلمانوں کی آبادی میں خطرناک ڈھنگ سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ ہندوؤں کو پیچھے چھوڑ دیں گے یا انہیں نمبر کے معاملے میں چیلنج دیں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ مسلم اور ہندو شرح پیدائش کے درمیان فرق اب کم ہو گیا ہے۔

سابق سی ای سی نے کہا، ہم برسوں سے سنتے آرہے ہیں کہ مسلمان بڑھ رہے ہیں اور وہ بڑھتی آبادی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ایک تصوربنایا جاتا ہے کہ اگر ایک ہندو فیملی کے دو بچے ہیں تو ایک مسلمان فیملی کے 10 بچے ہیں۔ اب یہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔

انہوں نے پروفیسر دنیش سنگھ اور اجے کمار کے وضع کردہ ریاضی ماڈل کا بھی حوالہ دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان ہندوؤں سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے، ایک ہزار سال میں بھی نہیں۔

قریشی نے یہ بھی کہا کہ اسمبلیوں اور پارلیامنٹ میں مسلم ایم ایل اے کی تعداد اور ان کی آبادی کے تناسب میں فرق ہے، جو  جمہوریت میں ‘بڑی تشویش’  کی بات ہے۔

پولرائزیشن کو روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے کیونکہ ہندو سیکولر ہیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، سالوں سے مسلمانوں کے ووٹنگ پیٹرن پر اظہار خیال کرتے ہوئے قریشی نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ‘مسلم ووٹ بینک’ ایک متھ تھا کیونکہ مسلمان کبھی ایک جیسے نہیں تھے، بلکہ مختلف ذاتوں اور نظریات سے تعلق رکھتے تھے۔

پہلے کے انتخابات کے مقابلے موجودہ انتخابات میں مسلم ووٹ کے فیصلہ کن برتری سے محروم ہونے کے رجحان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ، اس سے قبل مسلمانوں اور ہندوؤں نے مذہب کی بنیاد پر کسی تعصب کے بغیر ایک ہی امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔ اب جان بوجھ کر اور تخلیق شدہ پولرائزیشن کے ساتھ وہ رجحان بدل سکتا ہے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ سیاسی پارٹیاں مسلمانوں تک نہیں پہنچ رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ پولرائزنگ کے ماحول کی وجہ سے پارٹیاں مسلمانوں کو دور کر رہی ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ جس وقت وہ مسلمانوں کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ کریں گے، ہندو دوسری طرف چلے جائیں گے۔

قریشی نے کہا کہ اس کے علاوہ بہت سی جماعتیں – چاہے وہ مسلم ایشوز کو اٹھائیں یا نہ اٹھائیں، یہ محسوس کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے پاس ان کی حمایت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ پھر بھی میں یہ کہوں گا کہ میں اس شعبے کا ماہر نہیں ہوں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ، تاہم یہ واضح ہے کہ تقریباً تمام پارٹیاں مسلمانوں سے دور ہیں اور مسلم ایشوز پر بات نہیں کر رہی ہیں۔

قریشی کا یہ تبصرہ پانچ ریاستوں میں ہوئے حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے چار ریاستوں – اتر پردیش، منی پور، اتراکھنڈ اور گوا میں کامیابی حاصل کی ہے، اور عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا حجاب اسلام کا لازمی حصہ ہے، قریشی نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ایسا نہیں مانتے لیکن یہ فرد کی خواہش پر منحصر ہے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)