گڑیابند ضلع کے دتکیا گاؤں میں لاٹھیوں، اینٹوں، پتھروں اور مٹی کے تیل کی بوتلوں سے مسلح سینکڑوں لوگوں کے ہجوم نے مبینہ طور پر 10 مسلم خاندانوں پر حملہ کیا، گاڑیوں اور گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعے میں کم از کم چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے فسادات کے سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کی ہیں، لیکن پولیس فورس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف فی الحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
علامتی تصویربہ شکریہ: ایکس
نئی دہلی: چھتیس گڑھ کے گڑیابند ضلع کے دتکیا گاؤں میں اتوار کی شام اس وقت تشدد پھوٹ پڑا، جب ایک ہجوم نے مبینہ طور پر اقلیتی برادری کے لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دی۔ بتایا گیا کہ اس دوران پولیس کی ایک ٹیم نے کئی بچوں سمیت 20 افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ اس واقعہ میں سات پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، دتکیا گاؤں میں دنگے کی شروعات اتوار کی صبح ہونے والے واقعات سے ہوئی، جب چار مختلف مقامات پر مبینہ طور پر چار افراد پر حملہ کیا گیا اور دو لوگوں کے موبائل فون لوٹ لیے گئے۔
ان واقعات کے تین ملزمین کی شناخت دتکیا گاؤں کے عارف خان (18) ، سلیم خان (23) اور عمران صدیقی (18) ساکن رائے پور کے طور پر کی گئی ہے۔
اس کے بعد، اسی دن شام 4 بجے سے 11.30 بجے کے درمیان درجنوں گاؤں والوں نے مبینہ طور پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے چھ گھروں پر حملہ کیا۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے بتایا کہ سینکڑوں افرادکے ہجوم سے خواتین اور بچوں سمیت دو درجن سے زیادہ لوگوں کو کئی گھنٹوں تک بچانے کی کوشش کرتے ہوئے کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق، فرقہ وارانہ تصادم ان واقعات کے سلسلے کا نتیجہ تھا جو چند گھنٹے قبل شروع ہوا تھا جب تین افراد نے – جن میں سے ایک مندر میں توڑ پھوڑ کے معاملے میں ضمانت پر باہر تھا – نے مبینہ طور پر مقامی لوگوں پر حملہ کیا۔
گڑیابند کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ویدورت سرمور نے سوموار (2 فروری) کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ دتکیا کے رہنے والے عارف خان کو 2024 میں مانا جوینائل ریفارم ہوم میں اس وقت رکھا گیا تھا، جب اس پر اور دو دیگر افراد پر گاؤں کے چویشور شیو مندر میں توڑ پھوڑ کا الزام لگا تھا۔
اخبار کے مطابق، ایک اور اہلکار نے بتایا کہ خان، جو اب 18 سال کے ہیں، کو اسی سال ضمانت مل گئی تھی، لیکن وہ اتوار (1 فروری) کی صبح تک گاؤں واپس نہیں لوتا تھا، جب اس نے اور رائے پور کے اس کے دو ساتھیوں نے مبینہ طور پر چار افراد پر حملہ کیا، جس میں توڑ پھوڑ معاملےکا ایک عینی شاہد بھی شامل تھا ۔
اگرچہ پولیس نے خان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف چار مقدمات درج کیے اور گاؤں والوں کو یقین دلایا کہ اسے گرفتار کر لیا جائے گا، لیکن ایک ہجوم نے گاؤں میں خان کے گھر میں توڑ پھوڑ کر دی۔ اس کے بعد پولیس کی ایک ٹیم کو گاؤں بھیجا گیا، جس کے بعد پولیس نے گاؤں والوں کو مزید اشتعال انگیز کارروائیوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔
لیکن امن زیادہ دیر قائم نہیں رہا۔ جلد ہی، دتکیا اور آس پاس کے دیہاتوں سے سینکڑوں لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جائے وقوعہ پر جمع ہو گیا۔ لاٹھیوں، اینٹوں، پتھروں اور مٹی کے تیل کی بوتلوں سے لیس، انہوں نے مبینہ طور پر 10 مسلم خاندانوں کے گھروں میں گھسنے کی کوشش کی، جنہوں نے جان بچانے کے لیے خود کو اپنے اپنے گھروں میں بند کر لیاتھا۔
ایک پولیس افسر نے کہا،’ہجوم نے گاڑیوں کو آگ لگا دی اور مسلمانوں کے گھروں میں جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ ہم نہ صرف تعداد میں کم تھے، بلکہ صوبے میں راجم کمبھ کی وجہ سے پولیس فورس کی بھی کمی تھی۔ اگلے چند گھنٹوں تک ہم ڈٹے رہے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ہجوم گھرنہ میں گھسے اور خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔’
جب پولیس پہرہ دے رہی تھی، ہجوم نے پتھر پھینکے اور قریبی گھروں میں گھسنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن پولیس ٹیموں نے انہیں روکے رکھا، جب تک کہ رات 9 بجے کے قریب دو قسطوں میں اضافی فورس نہ پہنچ گئی۔
اہلکار نے کہا،’ہجوم کو پرسکون کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ ہم نے پھنسے ہوئے متاثرین کو اکٹھا کیا اور انہیں نکالنا شروع کیا۔’
ان کے مطابق، آخری ٹیم کے پہنچنے کے بعد ہی پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، اور تقریباً 20 افراد کو بسوں میں بٹھا کر بحفاظت نکالا۔ ان خاندانوں کے کم از کم دو بالغ افراد زخمی ہوئے۔ اس کے بعد پولیس کو پتہ چلا کہ چھ یا سات بچوں کا ایک گروپ مدرسہ میں پھنسا ہوا ہے۔ بعد میں انہیں بچا لیا گیا، تاہم اس دوران چھ پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
حالانکہ آدھی رات کے قریب حالات کو قابو میں کر لیا گیا تھا اور پولیس وہاں سے جانے کی تیاری کر رہی تھی، لیکن بھیڑ میں شامل ایک خاتون نے ایک پولیس اہلکار پر اینٹ پھینک دی، جس سے اس کےسر میں شدید چوٹیں آئیں۔
ایک اور پولیس افسر نے بتایا کہ 2024 کے واقعے کے بعد خان سے منسلک خاندانوں نے ممکنہ ردعمل کے خوف سے گاؤں چھوڑ دیا تھا، لیکن انتظامیہ نے انہیں واپس آنے پر آمادہ کیا تھا۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ دونوں برادریوں کے درمیان تناؤ تھا، لیکن اس کی وجہ معاشی اور دیگر مسائل تھے۔
اخبار کے مطابق، سوموار (2 فروری) کو پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ‘اس بیچ، مندرجہ بالا واقعات کی وجہ سے دتکیا کے لوگوں میں بے چینی پھیل گئی اور ملزم کے گھر کے قریب ایک ہجوم جمع ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس فورس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی، حالات کو قابو میں کیا، اور ہجوم کو منتشر کیا۔ جانی و مالی نقصان کو روکنے کے لیے ضروری طاقت کا استعمال کیا گیا۔ بے قابو ہجوم، اور زخمی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھیجا گیا۔’
فسادات کے سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ڈیوٹی پر موجود پولیس فورس پر حملہ کرنے اور انہیں زخمی کرنے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، ریاستی کانگریس کے صدر دیپک بیج نے ‘لاء اینڈ آرڈرکے بگڑنے کا الزام لگایا اور ٹارگٹڈ آتش زنی اور مقامی ملزمان کے ذریعہ مبینہ طور پر پھیلائی گئی دہشت پر تشویش کا اظہار کیا۔
بیج نے کہا،’انتظامی لاپرواہی اور بگڑتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کا براہ راست نتیجہ ہے کہ ایک درجن گھر جلا دیے گئے اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔’
دریں اثنا، ریاستی کابینہ کے وزیر دیال داس بگھیل نے واقعہ کو دو برادریوں کے درمیان پرانے تنازعہ سے پیدا ہونے والا تصادم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘اب سب کچھ قابو میں ہے۔’