مہاراشٹر میں ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی میں رکاوٹ آنے کے باعث پی ایم پوشن (مڈ ڈے میل) اسکیم متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف پرائمری ایجوکیشن نے بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل سے سیلف ہیلپ گروپوں اور سنٹرل کچن کے لیے سلنڈروں کی ترجیحی فراہمی یقینی بنانے کی درخواست کی ہے،تاکہ طلبہ کے کھانے پر اثر نہ پڑے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی: مہاراشٹر میں پی ایم پوشن (مڈ ڈے میل) اسکیم کے تحت اسکولی بچوں کے لیے کھانا تیار کرنے پر ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی میں رکاوٹ آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کے ڈائریکٹوریٹ آف پرائمری ایجوکیشن نے بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) کو خط لکھ کر اسکیم کے لیے ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دینے کی درخواست کی ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ ریاست میں مڈ ڈے میل تیار کرنے والے کئی سیلف ہیلپ گروپوں نے اطلاع دی ہے کہ انہیں گیس سلنڈروں کی فراہمی بند کر دی گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو پی ایم پوشن اسکیم کے نفاذ پر اثر پڑ سکتا ہے، جس کے تحت ریاست بھر میں لاکھوں طلبہ کو روزانہ کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔
بدھ کو بھیجے گئے خط میں پرائمری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر شرد گوساوی نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت کھانا تیار کرنے والے مرکزی رسوئیوں اور اسکولوں کو ہر ماہ تقریباً 1.60 سے 1.70 لاکھ ایل پی جی سلنڈروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر جنگ جیسے حالات کے باعث ریاست میں کام کرنے والے سیلف ہیلپ گروپوں، دیگر تنظیموں اور میونسپل کارپوریشنوں نے اطلاع دی ہے کہ ہندوستان پیٹرولیم اور بھارت گیس نے 10 مارچ سے انہیں ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی روک دی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایل پی جی کی کمی برقرار رہی تو اسکیم کے تحت کھانا تیار کرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ کو غذائیت سے بھرپور کھانے سے محروم ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تیل کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اسکولوں اور مرکزی رسوئی گھروں میں کھانا تیار کرنے والے گروپوں اور تنظیموں کو ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دیں۔
پی ایم پوشن اسکیم کے تحت سرکاری اسکولوں میں پہلی جماعت سے آٹھویں تک کے طلبہ کو مڈ ڈے میل فراہم کیا جاتا ہے۔ شہری علاقوں میں یہ کھانا عموماً این جی اوز یا سیلف ہیلپ گروپوں کے زیر انتظام مرکزی کچنوں میں تیار کر کے کئی اسکولوں تک پہنچایا جاتا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں زیادہ تر اسکولوں میں کھانا اسکول کے احاطے میں ہی پکایا جاتا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں اس اسکیم کے تحت 86,210 اسکولوں کے تقریباً 95 لاکھ طلبہ کو روزانہ کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ ان میں سے 85,159 اسکول اسکیم کے دائرے میں آتے ہیں اور 75,551 اسکولوں میں کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی استعمال کی جاتی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ کے اندازے کے مطابق اسکولوں میں وہیں کھانا تیار کرنے کے لیے گھریلو نرخوں پر تقریباً 1,33,633 ایل پی جی سلنڈروں کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ بڑی تعداد میں طلبہ کو کھانا فراہم کرنے والے مرکزی کچنوں کے لیے 34,478 کمرشل سلنڈروں کی ضرورت پڑتی ہے۔
ریاست میں ممبئی کو سب سے زیادہ 11,934 ایل پی جی سلنڈروں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سب کمرشل زمرے کے ہوتے ہیں، کیونکہ شہر میں تمام اہل اسکولوں کے لیے مڈ ڈے میل مرکزی کچنوں میں تیار کر کے اسکولوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
اس دوران برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے بھی گیس سپلائی میں آئی اس رکاوٹ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ آف پرائمری ایجوکیشن کو خط لکھا ہے۔