شہریت ترمیم قانون: کیرل نے مرکز کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا

کیرل ریاست نے کہا ہے کہ شہریت ترمیم قانون آرٹیکل 14، 21 اور 25 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور یہ قانون غیر مناسب اور مدلل نہیں ہے۔

کیرل ریاست نے کہا ہے کہ شہریت ترمیم قانون آرٹیکل 14، 21 اور 25 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور یہ قانون غیر مناسب اور مدلل نہیں ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: متنازعہ شہریت ترمیم  قانون کے جواز  کو چیلنج  کرتے ہوئے کیرل ریاست نے مرکزی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے۔لائیو  لاء کے مطابق، آئین کے آرٹیکل 131 کے تحت یہ مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 131 ایک یا ایک سے زیادہ ریاستوں  اور مرکزی حکومت کے بیچ تنازعات  میں سپریم کورٹ  کو فیصلہ کرنے کا حق  دیتا ہے۔

یہ دلیل  دینے کے لیے کہ آرٹیکل 131 کے تحت شہریت ترمیم  قانون کو چیلنج کیا جا سکتا ہے، کیرل حکومت نے جھارکھنڈ ریاست بنام بہار ریاست  اور دیگر(2015) معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکر کیا ہے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق، عرضی میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ  قانون آئین کے آرٹیکل  14, 21 اور 25 کی خلاف ورزی  کرتا ہے۔ کیرل حکومت  نے پاسپورٹ  لاء اور Foreigners (Amendment) Order کے جواز  کو بھی چیلنج کیا ہے۔

اس قانون میں افغانستان، بنگلہ دیش  اور پاکستان سے 2015 کے پہلے ہندوستان  آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی کمیونٹی کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔شہریت ترمیم قانون اور دیگر ضابطوں  کو چیلنج کرتے ہوئے کیرل نے کہا ہے، ‘یہ قانون آرٹیکل  14, 21 اور 25 کے تحت بنیادی حقوق  کی خلاف ورزی کرتا ہے اور یہ قانون غیر مناسب  اور مدلل نہیں  ہے۔’

نئے شہریت قانون کے خلاف پہلے سے ہی کئی عرضی دائر کی گئی ہیں اور کیرل کی عرضی میں بھی قریب قریب ویسی ہی دلیلیں دی گئیں ہیں۔ ریاست نے کہا کہ یہ قانون مذہب کی بنیاد  پر امتیاز کرتا ہے۔ریاست نے کہا کہ شہریت  کو مذہب سے جوڑکر ہندوستانی آئین کی سیکولر امیج کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

کیرل میں دونوں اہم سیاسی پارٹیاں  سی پی ایم  کی رہنمائی  والی وام لوکتانترک مورچہ اور کانگریس کی قیادت  والی یونائیٹڈ  ڈیموکریٹک فرنٹ شروع سے ہی شہریت ترمیم  قانون کی تنقید  کر رہے ہیں۔پچھلے سال دسمبر کے آخر میں کیرل اسمبلی  نے شہریت ترمیم قانون کو رد کرنے کی تجویز پاس  کی تھی۔ وزیر اعلیٰ  پنارئی وجین نے 11 دیگر ریاستوں  کے وزیراعلیٰ  کو بھی خط لکھ کر قانون کے خلاف متحد ہونے کو کہا ہے۔

شہریت ترمیم قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حالانکہ اس بیچ وزارت داخلہ نے نوٹیفیکیشن جاری کر متنازعہ شہریت ترمیم  قانون (سی اے اے) کو 10 جنوری سے نافذ  کر دیا۔