گاندھی اسمارک ندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب بی جے پی کی کرناٹک اکائی نے ایک اشتہار جاری کرتے ہوئے گاندھی کو کانگریس لیڈروں کو ڈرانے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے دکھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ گاندھی کو پارٹی سیاست کے حساب سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے غلط پیغام جانے کا خطرہ ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی کرناٹک یونٹ کی جانب سے جاری اشتہار میں مہاتما گاندھی کو چھڑی پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ (تصویر: ایکس)
نئی دہلی: گاندھی اسمارک ندھی نے کرناٹک میں مہاتما گاندھی کے حالیہ
سیاسی استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاندھی کو ‘پارٹی سیاست کے حساب سے’غلط طریقے ‘ سے پیش کیا جا رہا ہے، جس سے ‘غلط پیغام’ جانے کا خطرہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کرناٹک یونٹ نے ایک اشتہار جاری کرتے ہوئےگاندھی کو کانگریس لیڈروں کو ڈرانے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے دکھایا ہے۔
وی بی -جی رام جی قانون سے متعلق بحث کے درمیان کانگریس اور بی جے پی دونوں نے -اشتہارات کا ایک سلسلہ جاری کیا۔ کانگریس نے سب سے پہلے ایسےاشتہارات جاری کیے، جن میں’سنگپا’نام کےایک افسانوی کردار سے متعلق ایک مکالمہ پیش کیا گیا – جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی جانب اشارہ تصور کیا گیا – اور جس میں گاندھی کو نئی روزگار اسکیم کی مخالفت کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
اس کے جواب میں بی جے پی نے ایک اشتہار جاری کیا، جس میں گاندھی کو وزیر اعلیٰ سدارمیا، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی)کے صدر ملیکارجن کھڑگے کی طرف لاٹھی اٹھائے ہوئے دکھایا گیا،اور ان پر اسکیم کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔
بی جے پی کا نام لیے بغیر گاندھیائی سرگرمیوں کو فروغ دینےایک خودمختار خیراتی ادارے گاندھی اسمارک ندھی نے گاندھی کی اس انداز میں تصویر کشی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے عدم تشدد، سروودیہ اور ستیہ گرہ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
گاندھی اسمارک ندھی کے صدر اورسکریٹری نے ایک بیان میں کہا، حال ہی میں کرناٹک کے مؤقر روزناموں میں شائع ہونے والے ایک اشتہار میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کی تصویر کشی گاندھی جی کے فلسفے کو سمجھنے والے ہر شخص کو مضطرب کر دے گی۔ جس انداز میں ان کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ پوری قوم کے لیے شرمناک ہے اور ان کے عدم تشدد ، ستیہ گرہ، اور سروودیہ جیسے بنیادی نظریات کے خلاف ہے۔’
انہوں نے مزید کہا، ‘ہم سنجیدگی سے رائے رکھتے ہیں کہ اس اشتہار میں گاندھی جی کے نظریات کا قتل کیا گیا ہے، جس نے پورے ملک کو سر شرم سے جھکانے پر مجبور کر دیا ہے۔’
انہوں نے مزید کہا، ‘یہ واقعی تشویش کی بات ہے کہ گاندھی جی، جنہیں ایک مہاتما کے طور پر پوری دنیا میں احترام حاصل ہے، کو کچھ لوگوں کی طرف سے پارٹی سیاست کے حساب سے ‘غلط طریقے’ سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سے نوجوانوں میں غلط پیغام جانے کا خطرہ بھی ہے۔’
گاندھی کی تصویر کے غلط استعمال کی مذمت کرتے ہوئےاس ادارےکے عہدیداروں نے کہا، ‘اگرچہ سیاسی جماعتیں گاندھی جی کے نظریات کا پیغام نوجوانوں تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہیں، انہیں ان کا اس طرح استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے ان کی شخصیت اور اصولوں کی توہین ہو۔’
انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے معاملات کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ سنبھالیں۔