میں پہلی خاتون نائب صدر ہوں لیکن آخری نہیں: کملا ہیرس

کملا ہیرس امریکی نائب صدر کاعہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون، پہلی غیرسفیدفام امریکی اور پہلی ایشیائی نژاد امریکی ہیں۔ اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے خواتین کی حق رائے دہی کے لیے کھڑی ہوئیں تمام عورتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچی، جو آج مجھے دیکھ رہی ہے، وہ جان جائےگی کہ یہ امکانات کا ملک ہے۔

کملا ہیرس امریکی نائب صدر کاعہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون، پہلی غیرسفیدفام امریکی اور پہلی ایشیائی نژاد امریکی ہیں۔ اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے خواتین کی حق رائے دہی کے لیے کھڑی ہوئیں  تمام عورتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچی، جو آج مجھے دیکھ رہی ہے، وہ جان جائےگی کہ یہ امکانات  کا ملک  ہے۔

کملا ہیرس۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کملا ہیرس۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:امریکہ میں نائب صدرکےعہدہ کےلیےمنتخب کملا ہیرس پہلی خاتون ، پہلی غیرسفید فام امریکی اور پہلی ایشیائی نژاد امریکی شہری ہیں، جنہوں نے اس عہدے پر جیت حاصل کرکےتاریخ رقم کی ہے۔کیلیفورنیا کی سینیٹر رہ چکیں کملا ہیرس نے جیت کے بعد پہلی بار ڈیلاوییر کے ولمنگٹن میں مجمع سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جیت خواتین  کے لیے صرف آغاز ہے۔

اس دوران ہیرس نے کہا، ‘آپ نے امید،اتحاد، شائستگی،سائنس اور سچائی کو چنا ہے۔’

انہوں نے کہا، ‘کانگریس مین جان لوئیس نے اپنےانتقال سے پہلے لکھا تھا کہ جمہوریت  ایک ریاست نہیں بلکہ ایک ایکٹ ہے۔ اس سے ان کا مطلب تھا کہ امریکہ کی جمہوریت کی ضمانت نہیں ہے، یہ اتنی ہی مضبوط ہے جتنی کہ اس کےلیے لڑنے کی،حفاظت کرنے کی ہماری خواہش  مضبوط ہے۔ جمہوریت کی حفاظت میں جدوجہد ہے، یہ قربانی  مانگتی ہے، لیکن اس میں خوشی اور ترقی بھی ہے کیونکہ ہم لوگوں میں بہتر مستقبل  بنانے کی قوت ہے۔’

انہوں نے کہا، ‘جب ہماری جمہوریت اس انتخاب میں بیلٹ پر تھی، جس میں امریکہ کی روح داؤ پر تھی اور دنیا دیکھ رہی تھی، تب آپ نے امریکہ میں ایک نئے دن کی شروعات کی۔ ہماری مہم کے عملےاور رضاکار اور اس غیرمعمولی  ٹیم کا شکریہ، جنہوں نے پہلے کے مقابلے اس بار زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس جمہوری عمل سے جوڑا اور اس جیت کو ممکن بنایا۔’

انہوں نے کہا،’ملک بھر کے انتخابی عملوں اورالیکشن افسروں  کا شکریہ، جنہوں نے ہر ووٹ گننے کے لیے بے انتہا محنت  کی۔ ہمارا ملک  آپ کا شکرگزار ہے۔’

ہیرس نے کہا، ‘آپ نے ہماری جمہویت  کی سالمیت  کی حفاظت کی ہے۔ امریکی لوگ، جنہوں نے اس خوبصورت ملک کو بنایا ہے، ریکارڈ تعدادمیں آگے آکر ووٹ کرنے کے لیے شکریہ۔ آپ آگے آئے تاکہ آپ کی آواز سنی جا سکے اور میں جانتی ہوں کہ آپ کے لیے پچھلا وقت کافی چیلنجنگ رہا ہے، خاص طور سے پچھلے کچھ مہینے۔’

انہوں نے کہا، ‘آپ نے دکھ، درد، فکر اور جدوجہدکا سامنا کیا ہے لیکن ہم نے آپ کاحوصلہ، آپ کی ثابت قدمی اور آپ کی سخاوت بھی دیکھی ہے۔ پچھلے چار سالوں سے آپ نے مساوات اورانصاف، ہماری زندگی، ہمارے سیارے کے لیے مارچ کیا اور پھر ووٹ کیا۔ آپ نے ایک واضح پیغام دیا۔ آپ نے امید، اتحاد، شائستگی،سائنس اور سچائی کو چنا۔ آپ نے امریکہ کے اگلے صدر کے طور پر جو بائیڈن کو چنا۔’

انہوں نے کہا، ‘جو بائیڈن مرہم لگانے والے ہیں، سب کو متحد رکھنے والے اور بھروسےمند ہیں۔ ایک ایسے شخص، جن کے خود کے تجربات نے انہیں ایک مقصد دیا، جس سے ہمیں ہمارے مقاصد کو دوبارہ سے حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ وہ بڑے دل والے شخص ہیں۔ یہ ان کا (بائیڈن کی بیوی)کے لیے پیار ہے، وہ بہترین خاتون اول ثابت ہوں گی۔’

ہیرس نے اپنی والدہ مرحومہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا، ‘میری ماں شیاملا گوپالن ہیرس ، جو ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ جب وہ 19 سال کی عمر میں ہندوستان سے یہاں آئی تھیں، انہوں نے اس پل کے بارے میں سوچا بھی نہیں ہوگا لیکن انہوں نے گہرائی سے امریکہ میں بھروسہ کیا، جہاں اس طرح کے پل ممکن ہیں اس لیے میں ان کے بارے میں سوچ رہی ہوں اور خواتین ، سیاہ فام خواتین، ایشیائی،سفید فام، لیٹن، امریکی خواتین کے بارے میں سوچ رہی ہوں، جنہوں نے ہمارے ملک کی تاریخ  میں آج رات کے لیےراستہ ہموار کیا۔’

انہوں نے کہا، ‘وہ خواتین جنہوں نے مساوات اورآزادی اور سب کے لیے انصاف کے لیے لڑا اورقربانی دی۔ ان میں سیاہ فام خواتین بھی ہیں، جنہیں عام طور پر نظر انداز کیا گیا لیکن یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ہماری جمہوریت کی ریڑھ ہیں۔’

انہوں نے کہا، ‘وہ سب عورتیں،جنہوں نے ایک صدی سے زیادہ  وقت تک حق رائے دہی  کے لیے لڑائی لڑی۔ سو سال پہلے 19ویں ترمیم کے لیے لڑائی لڑی،55 سال پہلے حق رائے دہی کے لیےجدوجہد کیا اور اب 2020 میں ہمارے ملک میں خواتین کی نئی نسل کے ساتھ، جنہوں نے ووٹ کیا اور ووٹ کرنے کے اپنے بنیادی حقوق  کے لیے لڑائی جاری رکھی تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔’

ہیرس نے صدر چنے گئے جو بائیڈن کے بارے میں کہا، ‘جو بائیڈن کے کردار کی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنےحوصلہ سے مشکلات  کو توڑتے ہیں، انہوں نے ایک خاتون  کو نائب صدرکے عہدہ کے امیدوار کے طور پر چن کر ایک اہم رکاوٹ  توڑی ہے۔’

انہوں نے کہا، ‘میں دفتر میں پہلی خاتون ہو سکتی ہوں لیکن میں آخری نہیں ہوں۔ ہر چھوٹی بچی، جو آج رات مجھے دیکھ رہی ہے، اسے لگےگا کہ یہ امکانات  کا ملک ہے اور ہم نے ہمارے ملک کے بچوں کو ان کے جینڈر کی پرواہ کئے بنا ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ وہ سپنے دیکھیں، استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں اور ان راستوں پر جائیں جن پر دوسرے نہیں گئے کیونکہ وہ راستے انہوں نے پہلے نہیں دیکھے ہوں گے۔’

انہوں نے کہا، ‘ہم ہر قدم پر آپ کی تعریف کریں گے اور امریکی لوگ، کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے کسے ووٹ دیا۔ میں اس طرح کی نائب صدر بننے کی کوشش کروں گی، جیسے جو بائیڈن،صدر اوباما کے لیے تھے، ایماندار، وفادار اور ہر دن آپ کے اور آپ کے پریوار کے بارے میں سوچ کر جاگنے والے کیونکہ اب جب اصلی کام شروع ہو رہا ہے تو سب سے ضروری کام ہے زندگیاں بچاکر، وبا کو ہرانا اور ہماری معیشت کو دوبارہ بنانا۔’

بتا دیں کہ امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈین نے سنیچر کو ری پبلکن پارٹی کے اپنے حریف ڈونالڈ ٹرمپ کو کڑے مقابلے میں ہرا دیا تھا۔ بائیڈن امریکہ کے 46ویں صدر ہوں گے۔وہیں، امریکی سینیٹر کملا ہیرس پہلی خاتون ، پہلی سیاہ فام  امریکی اور پہلی ایشیائی نژاد کی امریکی ہوں گی جو کہ امریکہ کے نائب صدرکا عہدہ  سنبھالیں گی۔