جسٹس مرلی دھر نے اسرائیل کے خلاف ایک ایسی واٹر ٹائٹ چارج شیٹ دنیا کی عدالت میں پیش کر دی ہے، جس پر تاریخ کے منصف جب بھی قلم اٹھائیں گے، صہیونی ریاست کو مجرموں کے کٹہرے میں ہی کھڑا پائیں گے۔

فوٹو: دی وائر
دہلی ہائی کورٹ کی راہداریوں کے وہ دن اب بھی ذہن کے نہاں خانوں میں تازہ ہیں۔ جب کبھی مجھے ہائی کورٹ جانے کا اتفاق ہوتا، میں جسٹس سری نواسن مرلی دھر کی عدالت کا رخ ضرور کرتاتھا۔ ان کی عدالت کی کارروائی دیکھنا اور سننا اپنے آپ میں ایک سحر انگیز تجربہ ہوتا تھا۔
قانون کی گہرائی، دلائل کے دوران ان کے تیکھے اور کاٹ دار سوالات، اور پھر ان کے چٹکیلے جملے، یہ سب مل کر ایک ایسا منظر تخلیق کرتے جو دائرہ انصاف کی تاریخ میں درج ہوتے تھے۔
مئی 2006 سے مارچ 2020 تک دلی ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے وہ اپنے ترقی پسندانہ فیصلوں اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے مروجہ ضابطوں سے آگے نکل جانے کے لیے مشہور تھے۔
اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن کے سربراہ کے بطور انہوں نے حال ہی میں جو رپورٹ غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کے شکار معصوم بچوں سے متعلق ترتیب دی ہے اس میں ان کے اس مزاج کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔
سانولے باوقار چہرے پر عینک کے پیچھے چمکتی ہوئی ذہین آنکھیں اور لبوں پر ہر وقت دھیمی، دلپذیر مسکراہٹ لیے وہ ایک ایسے شفیق اور ملنسار انسان لگتے ہیں جن سے بات کرتے ہوئے جھجک یا خوف کا احساس تک نہیں ہوتا ہے۔
ان کا دوستانہ اور دھیما مزاج پہلی ہی ملاقات میں سامنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ مگر اس نرم خو سراپے کے پیچھے اصولوں کا ایک ایسا ہمالیہ پوشیدہ ہے جس نے اقتدار کے بڑے بڑے طوفانوں کا رخ موڑ دیا ہے ۔
فروری 2020 کی وہ خونی اور بھیانک رات جب شمال-مشرقی دہلی فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جل رہی تھی، تو جسٹس مرلی دھر نے قانون کی بالادستی اور انسانیت کی لاج رکھنے کے لیے آدھی رات کو اپنے گھر پر ایک ہنگامی اور غیر معمولی سماعت مقرر کی، تاکہ زخمیوں کو بحفاظت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے دہلی پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا اور برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر مقدمات درج نہ کرنے پر شدید سرزنش کی۔ انہوں نے برسرِ عدالت خبردار کیا تھا؛
ہم اپنی آنکھوں کے سامنے اس شہر میں دوبارہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی تاریخ دہرانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔
ان کا یہ جرأت مندانہ موقف اقتدار کے ایوانوں کو ایسا چبھا کہ چند ہی گھنٹوں کے اندر، رات کے اندھیرے میں، ایک غیر معمولی نوٹیفکیشن کے ذریعے ان کا تبادلہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کر دیا گیا۔
انتظامیہ کی یہ ناراضگی ان کے پورے کیریئر پر سایہ فگن رہی؛ ستمبر 2022 میں سپریم کورٹ کولیجیم نے انہیں مدراس ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کی سفارش کی، مگر حکومت نے اس فیصلے کو چھ ماہ تک لٹکائے رکھا، یہاں تک کہ اپریل 2023 میں کولیجیم کو یہ تجویز واپس لینی پڑی۔
وہ سپریم کورٹ پہنچے بغیر ہی اڑیسہ ہائی کورٹ سے ریٹائر ہو گئے۔ لیکن وکلاء کے دلوں میں ان کا احترام ایسا تھا کہ ان کی ریٹائرمنٹ پر وکلاء نے عدالت کے کمرے سے لے کر سڑک تک صفیں بنا کر انہیں الوداع کہا، جو عدالتی تاریخ میں بے مثال تھا۔
آج چھ سال بعد، وہ جنیوا میں عالمی اسٹیج پر اسی بے باک اور اٹل قانونی نظر کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں۔ جس کی قیمت کبھی انہیں نئی دہلی میں چکانی پڑی تھی۔
اس تجربہ کار قانون دان نے عالمی سطح پر فوجی طاقت کے نشے میں چور اسرائیل کے خلاف ایک ایسا واٹر ٹائٹ اور ناقابلِ تردید کیس تیار کیا ہے، جس کے شواہد کی گونج رہتی دنیا تک اسرائیلی لیڈروں کا پیچھا کرتی رہے گی۔
چاہے اسرائیل کو کوئی مروجہ سزا ملے یا نہ ملے، لیکن جس پیشہ ورانہ مہارت اور باریک بینی سے انہوں نے شواہد کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے، وہ صہیونی ریاست کے ماتھے پر ابد تک کے لیے ایک ایسا داغ بن چکا ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا ہے۔
پچھلے سال جب ان کا اس عہدے پر تقرر ہوا، تو انہوں نے نجی گفتگو میں مجھ سے ذکر کیا تھا کہ انہیں اس سے قبل دو بار اقوامِ متحدہ کے بڑے اداروں کی سربراہی کی پیشکش ہوئی تھی، لیکن وہ اب آرام کرنا چاہتے تھے۔
مگر پھر، زندگی کا رخ ایک پرواز کے دوران بدل گیا۔ وہ فلائٹ میں سوار ہو رہے تھے جب ان کے ہاتھ میں دی ہندو گروپ کا پندرہ روزہ میگزین فرنٹ لائن کا وہ شمارہ آیا جس کی کور اسٹوری غزہ کے ہولناک حالات پر تھی۔
اس سحر انگیز اور دردناک تحریر نے ان کا دل ایسا پگھلایا کہ انہوں نے آرام کا ارادہ ترک کر کے اقوامِ متحدہ کے اس کمیشن کی سربراہی قبول کر لی۔ میرے لیے یہ امر کسی اعزاز سے کم نہیں کہ فرنٹ لائن کی اس زندگی بدل دینے والی کور اسٹوری کا مصنف یہ خاکسار تھا۔
حال ہی میں فلسطینی بچوں پر جب رپورٹ کا اجراء ہوا، تو میں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس وقت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے ایک انتہائی اہم اجلاس میں بریفنگ دے رہے ہیں، اس لیے شام کو ان کو کال کروں۔
شام کو جب میں نے فون ملایا، تو پہلی ہی گھنٹی پر انہوں نے خود فون اٹھایا اور اسی روایتی اپنائیت، دھیمی مسکراہٹ اور عاجزی کے ساتھ میرے سوالات کے جوابات دینے شروع کیے۔
انہوں نے بتایا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کے سوا دنیا کے تمام ممالک نے ان کی تفتیش کی ستائش کی۔جب کونسل کی چیئرمین نے ان سے پوچھا کہ کیا کیا جاسکتا ہے؟ تو انہوں نے دوٹوک لفظوں میں کہہ دیا تھا؛
اب اسرائیلی جرائم کی صرف مذمت کرنے کا وقت گزر چکا ہے، اب عملی اقدام کا وقت ہے۔
ان کی رپورٹ پر سلامتی کونسل کا اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا کہ جب یہ سمجھا جا رہا تھا کہ امریکہ-ایران ڈیل کے بعد غزہ کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔لیکن اس رپورٹ نے دنیا کی توجہ دوبارہ اس انسانی المیے پر مبذول کرا دی ہے۔
جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کون سا حتمی ثبوت تھا جس نے کمیشن کو یہ ماننے پر مجبور کیا کہ معصوم فلسطینی بچوں کو جنگی نقصانات کولیٹیرل ڈیمیج کے نام پر نہیں، بلکہ باقاعدہ نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، تو جسٹس مرلی دھر کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایک ثبوت کا معاملہ نہیں، بلکہ متعدد مستقل اور معتبر ذرائع کا وہ مجموعی وزن ہے جس نے انصاف کے ترازو کو ہلایا۔
ان کے مطابق بچوں کو نشانہ بنانے کے دو گھناؤنے طریقے اختیار کیے گئے۔ پہلا طریقہ گنجان آباد شہری علاقوں پر بھاری بھرکم بموں کی برسات تھی، جس میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد ہولناک تیزی آئی۔
لیکن دوسرا طریقہ اس سے بھی زیادہ لرزہ خیز ہے۔یعنی کواڈ کاپٹرز، ڈرونز اور اسنائپرز نشانہ بازوں کا استعمال کرنا۔ یہ کواڈ کاپٹرز تھرمل کیمروں سے لیس ہیں جو انسانی جسم کے سائز سے یہ بالکل واضح بتا دیتے ہیں کہ سامنے موجود شخص کوئی بالغ یا بچہ ہے۔
سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی فوجیوں کے اعترافات آن لائن موجود ہیں۔ کچھ فوجیوں نے اسرائیلی ٹی وی پر کھلے عام اعتراف کیا کہ ڈرون چلانا ان کے لیے ایک ویڈیو گیم جیسا بن چکا ہے، جہاں فوجیوں کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا کہ کون زیادہ فلسطینیوں کا شکار کرتا ہے۔
یہ چنگیز خان کے ان جنرلوں کی یا د دلاتا ہے جن کے درمیان سروں کے مینار اونچے کرنے پر مسابقت ہوتی تھی۔ جس کا مینا ر سب سے اونچا ہوتا تھا تو خاقان اس کو شاباشی دیتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک فوجی کہتا ہے کہ ڈرونز نے انسانوں کی انسانیت کو بالکل ختم کر دیا ہے۔
آپ اسکرین پر سب کچھ دیکھتے ہیں اور بٹن دبا کر بم گرا دیتے ہیں۔ یہ ایک کھیل جیسا لگتا ہے۔ آپ نیچے ایک تہہ خانے میں بغیر ہیلمٹ کے، نیم برہنہ حالت میں سکون سے بیٹھ کر فلسطینیوں کو قتل کر سکتے ہیں۔
میں نے پوچھا کہ اسرائیل نے تو اس کمیشن کے ساتھ تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کمیشن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے ایک 18 صفحات کا جوابی دعویٰ جاری کیا ہے۔ جسٹس مرلی دھر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے جو جواب مارکیٹ میں عام کیا، اس میں اس نے اپنے ہی فوجیوں کی ان ویڈیوز اور اعترافات کا کوئی جواب نہیں دیا جو انہوں نے خود انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے تھے۔
مثلاً، اسرائیل کی 252 ویں ڈویژن کے ایک فوجی نے خود سرِعام اعتراف کیا کہ اس نے ایک غیر مسلح 16 سالہ فلسطینی بچے کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ یہ کسی تیسرے فریق کے الزامات نہیں، بلکہ خود قاتل کے اپنے اعترافات ہیں۔
جب میں نے پوچھا کہ اسرائیل کا الزام ہے کہ آپ نے حماس کے تشدد کو نظر انداز کیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ اسرائیل نے یہ جواب ہمیں نہیں بھیجا بلکہ پبلک ڈومین میں جاری کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ 15 جون کو ہماری کمیٹی نے ایک اور تفصیلی رپورٹ ہیومن رائٹس کونسل میں جمع کرائی تھی جس میں غیر ریاستی عناصر، بشمول غزہ کے فلسطینی مسلح گروہوں اور مغربی کنارے کے متشدد اسرائیلی آباد کاروں کے جرائم اور بچوں پر ان کے تشدد کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
چونکہ وہ حقائق ہم پہلے ہی تفصیل سے سامنے لا چکے تھے، اس لیے بچوں پر مبنی اس موجودہ رپورٹ میں ہم نے انہیں دوبارہ نہیں دہرایا۔ ہم اب بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ ہمارے شواہد غلط ہیں، تو وہ ہمارے ساتھ بیٹھے اور اس کے برعکس شواہد پیش کرے، ہم اصلاح کے لیے تیار ہیں۔
جسٹس مرلی دھر نے واضح کیا کہ ایک جج کی حیثیت سے انہوں نے شواہد کی جانچ پڑتال میں انتہائی سخت ترین معیار نافذ کیے۔ وہ کہتے ہیں؛
ہم نے صرف گواہوں کے بیانات پر بھروسہ نہیں کیا۔ ہم نے سیٹلائٹ امیجری، جیو لوکیشن، کرونو لوکیشن، میٹا ڈیٹا کی تصدیق اور چہروں کی شناخت کی تکنیک کا سہارا لیا۔ اگر کسی بچے کو زخمی حالت میں بیرونِ ملک منتقل کیا گیا، تو ہم نے بین الاقوامی پروٹوکول کے تحت اس کا انٹرویو کیا۔
ہم نے ہسپتال کے ریکارڈز، پیتھالوجی رپورٹس، ایکس رے، ڈاکٹروں اور نرسوں کے بیانات کو آپس میں کراس ویریفائی کیا۔ ہم نے دیکھا کہ جس وقت بچے کو گولی لگی، کیا اس وقت اس علاقے میں واقعی کوئی اسرائیلی فوجی یونٹ موجود تھی؟ جب ہر طرف سے تصدیق ہو گئی، تبھی ہم نے اسے رپورٹ کا حصہ بنایا۔حتیٰ کہ اسرائیلی فوجیوں کے اعترافات کو بھی ہم نے پرکھا اور شواہد جمع کرنے کے بعد ہی ان پر بھروسہ کیا۔
جب میں نے پوچھا کہ ایک جج کی حیثیت سے وہ قانونی طور پر ان شواہد سے کتنے مطمئن ہیں، تو انہوں نے عدالتی باریک بینی سے جواب دیا؛
ہم ایک تحقیقاتی ادارہ ہیں، کوئی فوجداری عدالت نہیں۔ ہمارا کام معتبر اور مصدقہ شواہد کی بنیاد پر یہ طے کرنا ہے کہ آیا کارروائی کے لیے معقول وجوہات موجود ہیں یا نہیں۔ یہ پولیس کی اس تفتیش جیسا ہے جو فردِ جرم دائر کرتی ہے،عدالتی عمل اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) یا بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) ہمارے شواہد کو قبول یا مسترد کرنے میں آزاد ہیں۔ جنوبی افریقہ نے، جو آئی سی جے میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا کیس لڑ رہا ہے، ہم سے شواہد مانگے اور ہم نے ان کے ساتھ یہ مواد شیئر کیا ہے۔ آئی سی سی نے بھی ہم سے تعاون مانگا ہے۔ ایک جج کی حیثیت سے میں مکمل مطمئن ہوں کہ یہ شواہد ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر قتل اور معذور کیا گیا اور ان کا بچپن تباہ کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ معصوم بچوں کے سروں اور سینوں کو اسنائپرز نے نشانہ بنایا۔ جب کوئی فوجی کسی بچے کو مارتا تھا، تو اس کا بٹالین کمانڈر اسے سزا دینے کے بجائے مبارکباد دیتا تھا۔
جیسا کہ 252 ویں ڈویژن کے ایک فوجی کے کیس میں معلوم ہوا کہ یہ کسی ایک سرپھرے فوجی کا انفرادی فعل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک باقاعدہ ادارہ جاتی پالیسی اور کمانڈ سٹرکچر کی منظوری کا نتیجہ تھا۔ ناہل بریگیڈ کے ایک اسنائپر نے تو یہاں تک اعتراف کیا کہ جب اس نے ایک بچے پر گولی چلانے سے قبل ہچکچاہٹ دکھائی، تو اس کے کمانڈر نے صاف کہا؛
عمر مت دیکھو، گولی چلاؤ۔
رپورٹ نے ان تمام بٹالینز، بریگیڈز اور ڈویژنز کی نشاندہی کر دی ہے جو ان جرائم میں ملوث تھے۔
جسٹس مرلی دھر نے اس گفتگو کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک، بشمول ہندوستان، کو ان کی قانونی ذمہ داریاں یاد دلائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون میں ایک اصول جسے یونیورسل جورسڈکشن یعنی عالمی دائرہ اختیارکہا جاتا ہے، کے مطابق سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے ہاں مقدمہ چلا سکتا ہے، چاہے وہ جرم کہیں بھی ہوا ہو اور متاثرین کسی بھی ملک کے ہوں۔
مثلاً ہندوستان بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن (سی آر سی) کا حصہ ہے۔ اگر ان جرائم میں ملوث کوئی بھی شخص ہندوستان کی حدود میں پایا جاتا ہے، تو عالمی قانون کے تحت ہندوستانی حکام پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کریں۔
یہی اصول ان ہزاروں فوجیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ مارچ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 12,000 امریکی، 6,000 فرانسیسی، 5,000 روسی اور دیگر ممالک کے شہری اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
اگر یہ لوگ ان ملوث یونٹس کا حصہ رہے ہیں اور اپنے وطن یا کسی دوسرے ملک جاتے ہیں، تو وہ ملک سیاسی غیر جانبداری کا بہانہ بنا کر ان کے خلاف جنگی جرائم کی تفتیش سے منہ نہیں موڑ سکتا ہے۔ سیاسی طور پر کوئی ملک نیوٹرل ہو سکتا ہے، لیکن قانون سے نیوٹرل نہیں ہوا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 کے درمیان 20,000 سے زائد فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں اور دسیوں ہزار زخمی ہیں۔ غزہ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ایک نئی اصطلاح وضع کرنی پڑی۔ زخمی بچہ، جس کا کوئی خاندان زندہ نہیں بچاہے۔ غزہ کے 97 فیصد اسکول اور یونیورسٹیاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے پر حملے کیے گئے، سفید جھنڈا تھامے بچوں پر گولیاں چلائی گئیں اور رفح کراسنگ پر طبی اجازت نامے کے انتظار میں معصوم بچے دم توڑ گئے۔
چھ سالہ ہند رجب کے المیہ کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ بتاتی ہے کہ اس معصوم بچی کی دردناک آواز نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہند رجب اپنے خاندان کی لاشوں سے گھری گاڑی میں محصور تھی اور گھنٹوں بچاؤ کے عملے سے فون پر گریہ و زاری کرتی رہی۔
کمیشن نے سیٹلائٹ تصاویر، آڈیو ریکارڈنگز اور فرانزک شواہد سے ثابت کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ گاڑی کے اندر بچے موجود ہیں، اسے جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور بعد میں مدد کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس پر بھی حملہ کر کے طبی عملے کو ہلاک کر دیا۔
اس طرح جنگ بندی معاہدے کے بعد،نو اور دس سال کے دو سگے بھائی اپنے وہیل چیئر پر بیٹھے معذور باپ کے لیے لکڑیاں جمع کر رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے انہیں ’مشتبہ‘قرار دے کر گولیوں سے بھون ڈالا۔انخلاء کے سرکاری احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے، ہاتھوں میں سفید جھنڈا تھام کر محفوظ مقام کی طرف جانے والے ایک نوعمر لڑکے کو اسرائیلی نشانہ بازوں نے سیدھی گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔
پچھلے سال17اکتوبر کو سمندر کے ساحل پر پناہ لینے والے پانچ نوعمر لڑکوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا۔ ایک اور واقعے میں، ایک14 سالہ فلسطینی لڑکا گولی لگنے کے بعد ایک گھنٹے تک تڑپتا رہا، جبکہ اسرائیلی فوجی پاس ہی کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔ جب اس کی ماں نے اپنے جگر گوشے تک پہنچنے کی کوشش کی، تو اسرائیلی فوجیوں نے اس مجبور ماں پر بھی اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
رپورٹ کا یہ حصہ انسانیت کے چہرے پر سب سے بڑا طمانچہ ہے۔ ہسپتالوں اور طبی ڈھانچے کی دانستہ تباہی کے باعث، سینکڑوں معصوم بچوں کے ہاتھ اور پاؤں بغیر کسی بے ہوشی کی دوا (اینستھیزیا) یا مناسب طبی آلات و ادویات کے، انتہائی مخدوش حالات میں موبائیل فونوں کی روشنی میں کاٹے گئے۔ تفتیش کاروں سے بات کرتے ہوئے طبی عملے نے بتایا کہ بچوں کے جسم شدید ترین جھلسن، دماغی چوٹوں اور ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹنے، اندھے پن اور بہرے پن کی وجہ سے پاش پاش ہو چکے تھے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 10، 12 اور 15 سال کے نوجوان فلسطینی لڑکوں کو باقاعدہ ‘دہشت گرد’ کا لیبل دے کر انہیں جائز فوجی ہدف بنا دیا گیا، تاکہ ان کے قتل کو قانونی جواز دیا جا سکے۔ یہ جنیوا کنونشنز، روم اسٹیٹیوٹ اور بچوں کے حقوق کے کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جب میں نے جسٹس مرلی دھر سے فلسطینی اتھارٹی کی جوابدہی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے متوازن انداز میں کہا کہ کوئی بھی عوامی اتھارٹی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ ہماری اگلی رپورٹ جو اس سال کے آخر میں جنرل اسمبلی میں پیش ہوگی، وہ فلسطینی اتھارٹی کے کردار کا بھی جائزہ لے گی، خاص طور پر مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں جہاں وہ اپنے فرائض میں ناکام رہی۔
البتہ انہوں نے یہ بھی مانا کہ زمینی سطح پر اسرائیلی کنٹرول اور فلسطینی پولیس کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے فلسطینی اتھارٹی کی عملی صلاحیت شدید کمزور ہو چکی ہے، مگر یہ ان کی قانونی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرتا۔
اسی طرح انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ بورڈ آف پیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جسے سلامتی کونسل کی توثیق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بورڈ صرف غزہ پر مرکوز ہے، مغربی کنارے کو چھوڑ دیتا ہے، اس میں ریاست فلسطین شامل نہیں، نہ ہی دو ریاستی حل کا کوئی ذکر ہے۔ رکن ممالک نے ڈیڑھ ارب ڈالر کا وعدہ کیا مگر رقم ابھی تک ادا نہیں کی ہے۔ بورڈ نے سلامتی کونسل کو جھوٹی رپورٹ دی کہ غزہ کے حالات سدھر گئے ہیں، جبکہ ہمارے شواہد بتاتے ہیں کہ وہاں کوئی بہتری نہیں آئی۔
انٹرویو کے اختتام پر جسٹس مرلی دھر کے چہرے پر وہی دھیمی مگر سنجیدہ مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس رپورٹ کو مرتب کرنا کوئی تکنیکی کام نہیں تھا، یہ ایک جذباتی طور پر توڑ دینے والا سفرتھا۔
ہماری ٹیم رات دن بچوں کے قتل، ان پر تشدد اور انہیں معذور کیے جانے کی لرزہ خیز ویڈیوز دیکھ کر ان کی تصدیق کرتی رہی۔ لیکن سب سے بڑی رکاوٹ ‘سزا کا خوف نہ ہونا’ ہے۔ اسرائیلی قیادت کھلے عام یہ بیانات دے رہی ہے کہ کسی فلسطینی بچے کو زندہ نہیں رہنا چاہیے، اور یہی سوچ نیچے فوجیوں تک سرایت کر چکی ہے۔
البتہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اسرائیل کے بائیکاٹ کے باوجود خود اسرائیلی معاشرے کی کئی سول سوسائٹی تنظیموں اور افراد نے کمیشن کے ساتھ تعاون کیا اور معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنیوا میں کمیشن نے یورپی یونین اور او آئی سی کے سفیروں کو بریفنگ دی، جنہوں نے اس کام کو سراہا۔
جب میں نے پوچھا کہ کیا جنیوا میں ان پر کوئی دباؤ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھی کمشنر کرس سڈوتی کو آرگنائزڈ ٹرولنگ اور ذاتی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ ایک چھوٹی سی غلطی بھی رپورٹ کی ساکھ متاثر کر سکتی تھی اور اسرائیل اس کو لےکر رپورٹ کے اعتبار پر سوال کھڑا کر سکتا تھا۔ اس لیے ان کی ٹیم نے ہر چیز کو بار بار چیک کیا اور اس کے لیے جدید ٹکنالوجی کا بھی استعمال کیا۔
میں نے پوچھا کہ عالمی برادری کے لیے ا ن کا کیا پیغام ہے، تو انہوں نے کہا کہ عالمی نظام کا امتحان اب اس بات سے نہیں ہے کہ انہوں نے کتنی رپورٹس تیار کیں ہیں، بلکہ اس بات سے ہے کہ کیا وہ اس ناقابلِ تردید مواد کو دیکھنے کے بعد کوئی ٹھوس قدم اٹھا سکتا ہے یا نہیں۔
اگر معصوم بچوں کے تحفظ کے عالمی قوانین غزہ میں زمیں بوس ہو گئے، تو یاد رکھیے، وہ کل دنیا میں ہر جگہ کمزور ہو جائیں گے۔ یہ صرف فلسطین کا مقدمہ نہیں ہے، یہ خود بین الاقوامی قانون کے زندہ رہنے یا مر جانے کا مقدمہ ہے۔
جسٹس مرلی دھر نے اسرائیل کے خلاف ایک ایسی واٹر ٹائٹ چارج شیٹ دنیا کی عدالت میں پیش کر دی ہے، جس پر تاریخ کے منصف جب بھی قلم اٹھائیں گے، صہیونی ریاست کو مجرموں کے کٹہرے میں ہی کھڑا پائیں گے۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل شدید سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔
یورپ میں پابندیوں کی مانگ اٹھ رہی ہے، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی تحقیقات اسرائیلی قیادت پر سایہ فگن ہیں، اور عالمی عدالت انصاف اسرائیل کی توسیعی پالیسیوں کے خلاف اپنی آراء دے چکی ہے۔
یہاں تک کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جنگ کے طریقہ کار، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی اور غزہ کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے نظر آنے والی دراڑیں حالیہ تاریخ کے مشکل ترین دور میں داخل ہو چکی ہیں۔ اس پس منظر میں یہ رپورٹ عالمی سطح پر جوابدہی کے اس دباؤ کو مزید تیز کر دے گی۔