دہلی فسادات سے ٹھیک پہلے شدت پسند ہندوتوادی رہنما نے لگاتار مسلمانوں کے ’قتل عام‘ کی اپیل کی تھی

خصوصی سیریز: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکر دی وائر کےخصوصی سلسلہ کے دوسرے حصہ میں جانیےشدت پسند ہندوتوادی رہنمایتی نرسنہانند کو، جن کی نفرت اور اشتعال انگیزی نے ان شرپسندوں کے اندرشدت پسندی کا بیج بویا، جنہوں نے فروری 2020 کے آخری ہفتے میں شمال-مشرقی دہلی میں قہر برپاکیا۔

خصوصی سیریز: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکر دی  وائر کےخصوصی سلسلہ کے دوسرے حصہ میں جانیےشدت پسند  ہندوتوادی  رہنما یتی نرسنہانند کو، جن کی نفرت اور اشتعال انگیزی  نے ان شرپسندوں کے اندرشدت پسندی کا بیج بویا، جنہوں نے فروری 2020 کے آخری ہفتے میں شمال-مشرقی دہلی میں قہر برپاکیا۔

یتی نرسنہانند کے ساتھ مرکزی وزیر گریراج سنگھ۔ بیچ میں بی جے پی کے بی ایل شرما ہیں اور پیچھے سفید قمیص اور گمچھے میں یتی کا قریبی اور 'ہندو فورس'کا بانی دیپک سنگھ ہندو۔

یتی نرسنہانند کے ساتھ مرکزی وزیر گریراج سنگھ۔ بیچ میں بی جے پی کے بی ایل شرما ہیں اور پیچھے سفید قمیص اور گمچھے میں یتی کا قریبی اور ‘ہندو فورس’کا بانی دیپک سنگھ ہندو۔

نئی دہلی: 2020 کی فروری کے آخری  ہفتے میں چار دنوں  تک چلنے والےفرقہ وارانہ تشددنے 53 لوگوں کی جان لے لی۔ حالانکہ مارے گئے لوگوں میں تقریباً تین چوتھائی مسلمان تھے اور سب سے زیادہ اقتصادی اور مالی نقصان  بھی مسلمانوں نے برداشت کیا۔بی جے پی رہنما اس تشدد کو ‘ہندومخالف دنگے’کے طور پریاد کرتے ہیں۔

دہلی پولیس نے سی اے اے مخالف مظاہروں میں شامل مسلمان اور ترقی پسند کارکنوں کے ذریعےدنگے بھڑ کانے کی سازش کا فرضی تصورپیش کرکے لیپا پوتی میں حصہ لیا ہے۔

اپنی جانچ کے پہلے حصے میں ہم نےپولیس کے ذریعے جان بوجھ کر نظر انداز کیے گئےتشددکی اصل سازش میں شامل دو شدت پسند ہندوتوادی کارکنوں دیپک سنگھ ہندو اور انکت تیواری کے  رول پر بات کی تھی ۔

آج ہم یتی نرسنہانند سرسوتی اور ان کے ساتھیوں کے رول  پر روشنی ڈالیں گے، جن کی اشتعال انگیزی اور اکساوے نے ان دنگائیوں کے دل میں شدت پسندی  کا بیج بونے میں ایک اہم رول اداکیا، جنہوں نے فروری میں ہوئے قتل عام  میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

اب یہ صاف ہے کہ فسادات سے ٹھیک پہلےمسلمانوں کے خلاف تشدد کے لیے اشتعال انگیزی ، اصل سازش کی ایک لازمی کڑی تھی، جس کو سرعام  انجام دیا گیا کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ پولیس انہیں کبھی نہیں چھوئےگی۔

غازی آباد کا شدت پسند گاڈمین

یتی نرسنہانند ایک شدت پسند ہندوتوادی رہنما ہیں جن کا ہیڈکوارٹر غازی آباد کے ڈاسنہ میں ہے، جہاں اتر پردیش دہلی سے ملتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں دہلی اور اس کے آس پاس کے ہندوتوا نیٹ ورک میں ان کا اثر تیزی سے بڑھا ہے۔

اس کی دو وجہ ہے۔ پہلا،کپل مشرا جیسے بھارتیہ جنتا پارٹی کےٹاپ رہنماؤں کے ساتھ ان کی وابستگی ۔ اور دوسرا مسلمانوں کے بارے میں ویسی نفرت پھیلانے کے سبب  جو عام طور پر دوسرے رائٹ ونگ رہنما کھل کر نہیں کر پاتے۔

مثال کے طور پر دہلی کے فسادات سے دو مہینے پہلے، نرسنہانند نے مسلمانوں کو راکشس کےطور پر پیش  کیا– ‘جنہیں ہم اپنےموجودہ دور میں مسلمان کہتے ہیں، انہیں پہلے کے دور میں راکشس کہا جاتا تھا!’

نرسنہانند، گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کے بہت بڑے مداح  بھی ہیں۔ ‘ہمارے پاس ناتھورام گوڈسے جی کی تعریف  کرنے کے لیے لفظ  نہیں ہیں۔ میں ویر ساورکر جی اور ناتھورام گوڈسے جی کو اپنا سب سے بڑا ہیرو مانتا ہوں۔’

نرسنہانند نے مسلمانوں کے خلاف تشدد کےلیےاشتعال انگیزی اصل میں سی اے اے اور اس کے خلاف احتجاج  سے پہلے بھی کی ہے۔ اکتوبر 2019 میں ایک شدت پسند ہندوتوادی رہنما کملیش تیواری کی لکھنؤ میں ہلاکت کے بعد یتی نے تمام  مسلمانوں کوتشدد کی دھمکی دی اور کہا کہ وہ ہندوستان  سے اسلام کو ختم کر دیں گے؛

دنیا کے تمام  مسلمان خوشی منا رہے ہیں … اس کی وجہ  ہے آج ہندوؤں کا شیر گیا ہے، ماتم ہمارے گھروں میں ہے۔ میں ان ایک ایک ہ٭٭٭٭٭ کو بتانا چاہتا ہوں، نرسنہانند سرسوتی، کسی سرکار کے بوتے پر نہیں، کسی پولیس کے بوتے پر نہیں، پرشورام کا بیٹا اپنے بوتے پر، اپنے ہتھیاروں کے بوتے مسلمانوں کو بتا رہا ہوں کہ جو ماتم ہمارے گھر میں ہیں، اگر تمہارے گھر میں نہیں آیا تو اپنے باپ کا ٭٭٭٭ نہیں اور اپنے گرو کا چیلا نہیں۔ جب تک زندہ ہوں ہتھیار بجاؤں گا… ایک ایک مسلمان کو بتا رہا ہوں، یہ ملک  ایک دن اسلام سے آزادہوگا!

اس ویڈیو میں یتی کے ساتھ ان کے بائیں کھڑے دو لوگوں پر دھیان دیجیے۔ سفید کرتے اور مونچھوں میں یتی کی بائیں جانب  کھڑے شخص ہندو رکشا دل کے رہنما پنکی چودھری ہیں۔ جنوری 2020 میں انہوں نے جواہر لال نہرویونیورسٹی  میں طلبا پر ہوئے ایک حملے کی ذمہ داری لی تھی۔

جنوری 2020 میں جے این یو میں ہوئے حملے کی ذمہ داری لینے والے ہندو رکشا دل کے پنکی چودھری۔

جنوری 2020 میں جے این یو میں ہوئے حملے کی ذمہ داری لینے والے ہندو رکشا دل کے پنکی چودھری۔

اور گرے شرٹ اور زعفرانی گمچھا لیے ہوئے شخص ہندوتوادی رہنما دیپک سنگھ ہندو ہیں، جنہوں نے 23 فروری 2020 کی صبح ایک بھڑکاؤ ویڈیو میں اس دن دہلی میں موج پور چوک پر جہاں سے دنگا بھڑکا 2:30 بجے بھیڑ کو بلایا تھا۔

ویڈیو میں یتی کے ساتھ دیپک سنگھ ہندو۔

ویڈیو میں یتی کے ساتھ دیپک سنگھ ہندو۔

مذکورہ بالا بیان کے چھ ہفتے بعد 4 دسمبر، 2019 کو ایک تقریر میں یتی نے ‘مسلمانوں سے لڑنے کی قوت ارادی سے محروم ہو چکے ہندوؤں’کے اپنے پسندیدہ موضوع پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کیا کہ کچھ وقت سے  دنگے نہیں ہو رہے ہیں اور اس کے لیے ہندوؤں کو ہتھیاربند ہوکر سڑکوں پر اترنے کی  ناکامی  کوقصوردیا؛

‘آج ہمارے بہت سارے ہندو ہیں جو مجھے یاد دلاتے ہیں، مہاراج دیکھو کوئی دنگا نہیں ہو رہا ہے۔ دنگا کیوں نہیں ہو رہا؟ اس لیے نہیں ہو رہا کیونکہ جن باتوں پر ہندو سڑک پر اتر جاتا تھا، ہتھیار اٹھا لیتا تھا، آج کو کوئی بھی ہندو ان باتوں پر بولنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ کوئی بھی ہندو حوصلہ نہیں کر پا رہا۔

مجھے نہیں پتہ ہمارے سنگٹھن کس کام کے سنگٹھن ہیں، چاہے کوئی چھوٹا سنگٹھن ہو یا پھر کوئی بڑا سنگٹھن، اگر ہم اپنے بھائیوں کے لیے لڑ نہیں سکتے اور لڑنا چھوڑیے بول نہیں سکتے! بھارت میں شاید ہی کوئی ایسا دن ہوتا ہو جب کوئی مسلمان کسی ہندو کی گردن نہ کاٹ دیتا ہو۔’

فروری 2020 کے فسادات سے پہلے کے ہفتے اورمہینوں میں دہلی اور اس کے باہر یتی کے عوامی  بیانات کامقصدواضح طور پر ہندوؤں کی اس کمزوری کو مٹانا تھا۔ اور ان کا اعلانیہ مقصد ہندوؤں کو ہتھیاروں کے ساتھ سڑکوں پر لانا تھا تاکہ ایک دنگا ہو جس میں مسلمانوں کو سبق سکھایا جائے۔

نرسنہانند کے ذریعے مشتہرنفرت کو بڑھانے میں ان کا سوشل میڈیا اور ویڈیو کا کامیاب استعمال کرنا ہے۔ وہ نیوز نیشن، سدرشن ٹی وی اور آج تک جیسے اہم  ہندی چینلوں کے پینل میں ایک باقاعدہ  اسٹوڈیوکمنٹیٹر بنے ہیں اور سوشل میڈیا پر کئی شدت پسند ہندوتوادی چینلوں کے لیے ایک بڑے ہیرو ہیں، جویقینی بناتے ہیں کہ ان کے مسلم مخالف تشدد کااشتعال لاکھوں لوگوں تک پہنچے۔

دسمبر2019 اور پھر جنوری فروری 2020 میں ان کے بیانات آسانی سےغیرمہذب اوراشتعال انگیزی  کے خانے میں آتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں مسلمان مخالف تشددکے پس منظر میں دیکھا جائے جو آخرکار فروری میں برپا ہوا۔ یہ تو واضح  ہے کہ ان کے بیان  سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں کو تشدد کرنے،شدت پسند بنانے اور پھر تشدد کے لیے جمع ہونے میں اہم  تھے، اس لیے یہ عجیب ہے کہ پولیس فسادات میں کلیدی سازش کار کے طور پر یتی نرسنہانند سرسوتی کی جانچ نہیں کر رہی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ فسادات کی شروعات جعفرآباد میں سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں پر حملے سے ہوئی تھی اور پھر وہ تین دنوں تک چلنے والے شمال-مشرقی دہلی میں مسلمانوں کی زندگی اور ملکیت  پر شاطر حملوں میں بدل گئے۔

قابل ذکر ہے کہ 14 دسمبر 2019 کوسی اے اے کے خلاف مسلمان عورتوں کے ذریعے شاہین باغ  مظاہرہ  کے مد نظر نئے شہریت  قانون کی حمایت  میں منعقداجلاس اورمظاہرہ  میں یتی کی فعال شمولیت تھی۔ ان مظاہروں  کامقصد مسلم مظاہرین  کامذاق اڑانا تھا، انہیں ہندوؤں کے دشمن کے طور پر میں پیش  کرنا اور ان کے احتجاج  کو جبراً تشدد اور طاقت  سے ختم  کرنے کی سمت  میں کام کرنا تھا۔

اور ویڈیو ریکارڈس سے پتہ چلتا ہے کہ تشددکی اپیل والی ان کی بیان بازی کیسے دھیرے دھیرے، دسمبر 2019 سے 22 فروری 2020 تک تشدد شروع ہونے سے ایک دن پہلے قتل عام کے کھلے بھڑکاوے میں بدل گئی۔

اگر دہلی پولیس چاہتی تو آسانی سے یتی کے خلاف ویڈیوشواہد کا ایک پورا چٹھا اکٹھا کر سکتی تھی، جو شہریت قانون مخالف  کارکنوں  کے چارج شیٹ میں درج کیے گئے تمام مبینہ متنازعہ بیانات سے کہیں زیادہ بھڑکاؤ تھے۔

عمر خالد اور دیگر لوگوں کے معاملے میں پولیس نے تشدد کی وکالت کرتی ہوئی کوئی تقریر نہیں پائی  ہے، نہ ہی کھلے عام کسی مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے والے بیان  اور نہ ہی تشددمیں شامل کسی بھی شخص کے ساتھ ان کے وابستہ ہونے کا کوئی ثبوت ملا ہے۔

یتی نرسنہانند ان سارے پیمانوں پر کھرے اترتے ہیں۔ پھر بھی ان کے خلاف کوئی مجرمانہ  معاملہ درج نہیں کیا گیا ہے۔

زہرفشانی

اگر خفیہ ایجنسیاں سی اے اے حامی مظاہرین  کی اشتعال انگیزی اور بیان بازی پر نظر رکھ رہی ہوتی تو ہو سکتا تھا کہ تشددہوتا ہی نہیں۔ مگرپولیس نے اس نفرت اورتشدد کے پرچار پر جو مہینوں سے کھلے عام سڑکوں پر اور سوشل میڈیا پر ہو رہا تھا، آنکھیں موند لیں۔

غورطلب ہے کہ 22 دسمبر 2019 کو یتی نے دہلی کے جنتر منتر سے کہا؛

‘یہ قانون مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ یہ غداروں اور دیش دروہیوں کے خلاف ہے۔ انہیں لگا تھا کہ وہ اپنی آبادی  بڑھا لیں گے اور اس ملک  کو قبضہ لیں گے لیکن مودی جی اور امت شاہ جی نے یہ قانون لاکر ان کے اس سپنے کو توڑ دیا ہے۔’

واضح ہو کہ 25 دسمبر 2019 کو شدت پسند ہندوتوادی تنظیم  وشو سناتن سنگھ کے بانی  اپدیش رانا کے ذریعےجنتر منتر پرسی اے اے کی حمایت  میں ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ یتی نرسنہانند سرسوتی وہاں ایک اسٹار مقرر تھے۔

اب تک ان کی بھڑکاؤ بیان بازی پہلے سے کئی پائیدان اوپر چڑھ چکی تھی۔ امت شاہ نے زور دےکر کہا کہ سی اے اے کا ہندوستانی مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن یتی کے لیےسی اے اے ہندوستانی  مسلمانوں کی آبادی کوکنٹرول کرنے کی سمت میں پہلا قدم تھا اور جنتر منتر پر انہوں نے پہلی بار یہ بھی کہا کہ سی اے اے کی مخالفت کر رہے مسلمانوں کو سبق سکھانے کے لیے ہندوؤں کو سڑکوں پر آنا ہوگا؛

‘تمام  بچوں سے صرف اتنی  گزارش ہے کہ یہ جو مسلمان اتنے زیادہ نکل نکل کر آ رہے ہیں انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ جس دن ہم نکلیں گے، ان کا کیا حال ہوگا۔ اور میں مودی جی سے اور امت شاہ جی سے کہنا چاہتا ہوں، چنتا مت کریے ہم سب لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ نےسی اے اے کرا، اب این آرسی کیجیے اور اس کے بعد ان کٹوؤں کی آبادی  پر روک لگائیے۔ اگر یہ سور زیادہ بڑھیں گے تو گندگی کریں گے، اس ملک کو گندگی سے بچانے کے لیے، ان کی آبادی  کو روکنے کے لیے قانون لائیے، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔’

نرسنہانند بار بار جنتر منتر کے اپنے اس منچ سے مسلمانوں کے لیے سرعام سور اور کٹوئے جیسے توہین آمیز لفظوں  کا استعمال کرتے ہیں اور یہاں تک کہ ان کی آنکھیں پھوڑ دینے کی دھمکی دیتے ہیں؛

‘اور آپ سب دھرم یودھا، دھرم کے لیے لڑنے والا ایک ایک شیر سوا لاکھ سوروں پر بھاری پڑےگا۔ اور اگر وہ یہ سپنا دیکھ رہے ہیں کہ یہ اس دیش کو قبضہ لیں گے، تو ان کو بتا دیں کہ ان کی آنکھیں پھوڑ دی جائیں گی۔’

اس دوران نرسنہانند کی بیان بازی اس تصور سے متاثرہے کہ ایک آخری  لڑائی قریب ہے اور اپنے دشمنوں کا آخری حل ضروری ہے۔ وہ فسادات سے آٹھ ہفتے پہلے 25 دسمبر، 2019 کو کہتے ہیں؛

‘ایک بار پھر ہندوؤں سے اپیل کر رہا ہوں، آج وہ وقت آ گیا ہے، اگر آج بھی ہم کھڑے نہیں ہوتے ہیں تو ہم زندہ  نہیں رہیں گے۔  میں ہندوؤں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ آخری  لڑائی ہے، اگر یہ لڑائی ہار گئے تو کچھ نہیں رہےگا۔

حالانکہ،یتی نرسنہانند کے پاس اس دن کہنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ اپنے بھڑکاؤ بیان  کو ختم کرنے کے بعد انہوں نے کئی ہندوتوادی چینلوں کو انٹرویو دیے، جہاں انہوں نے اپنی زہرفشانی  جاری رکھی۔ ان میں سے ایک چینل‘ہندو پبلشر’کے ایک رپورٹر نے یتی سے ان لوگوں پر بولنے کو کہا جوسی اے اے کی مخالفت کر رہے تھے اور اس کے مطابق‘دیش کو جلانے’کی کوشش کر رہے تھے۔

‘وہ لوگ دیش کے دشمن ہیں، انہیں جیل میں ڈال دینا چاہیے۔ اور اگر وہ جیل جانے کے بعد بھی نہیں سدھرتے ہیں تو انہیں پھانسی کی سزا دی جانی چاہیے۔’

‘ہندو پبلشر’چینل کے رپورٹر نے یتی سے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں جو بھارت کو بنگلہ دیش اور پاکستان سے مسلم پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے کھولنا چاہتے ہیں۔ نرسنہانند کا جواب چونکانے والا ہے یتی بھارت کے مسلمانوں کو جہادیوں کے روپ میں پیش  کرتے ہیں جو ہندوؤں اور بھارت کوتباہ کرنے کے لیے باہر سڑکوں پر نکلے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو ان کی جڑوں سے ختم کرنا ہندوؤں کابنیادی مذہبی فریضہ ہونا چاہیے۔

‘وہ جہادی ہیں جو اس دیش میں گندگی پھیلانا چاہتے ہیں، وہ جہادی ہیں جو دیش کو برباد کرنا چاہتے ہیں وہ جہادی ہیں جو ہماری جائیداد ہڑپنا چاہتے ہیں، وہ جہادی ہیں جو ہم سب کا قتل کرنا چاہتے ہیں، وہ جہادی ہیں جو ہماری بہن بیٹیوں کی پھر سے منڈیاں  لگانا چاہتے ہیں، ایسے لوگوں کو جڑ سے ختم کرنا ہمارا بنیادی مذہبی فریضہ  ہونا چاہیے۔

نرسنہانندسی اے اے سے متعلق  وہ بات کہنے کے لیے تیار تھے جو کہ مودی سرکار کے پیروکار ان کہا چھوڑنا چاہتے تھے کہ سی اے اے ہندوتوا گروپوں کے لیے تقسیم  کے ان کے ادھورے ایجنڈہ بھارت سے تمام  مسلمانوں کو بے دخل کرنے– کا ایک لازمی حصہ تھا۔

یتی: بٹوارہ کرنے کے بعد بھی گاندھی اور نہرو جیسے جہادیوں نے انہیں یہاں روک لیا، یہ اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔

سوال: مگر مہاراج جی یہ لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ اپنی مرضی سے یہاں رک گئے تھے۔

یتی: نہیں نہیں، ان کی کوئی چوائس نہیں ہوتی یہ تو ہماری کمزوری تھی ہمیں یہاں سے بھگانا چاہیے تھا۔ ہندوؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ سب جہادی ہیں۔ انہیں ختم کرنا ہی ہوگا۔ یہی دیش بھکتی ہے، یہی دھرم ہے۔

اگر ان کی تقریر کےقتل عام والے پیغام کے بارے میں ابھی بھی کسی کو کوئی شک ہے تو یتی کے خبر انڈیا نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو کو سنیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنے مسلمانوں سے نپٹنے میں چین کی مثال پر عمل کرنا ہوگا۔ ان کا صدر اسلام کو ایک نفسیاتی بیماری کے طورپر دیکھتا ہے (چینی صدر نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے)؛

یتی: ساری دنیا نے دیکھا ہے کہ چین مسلمانوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ چین کے صدر نے کہا ہے کہ اسلام ایک نفسیاتی بیماری ہے (چینی صدر نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے)اور اپنے ملک کو اس بیماری کا شکار نہیں ہونے دیا۔

سوال: تو ہم اپنےملک کو کیسے بچائیں؟

یتی: ہمارا ملک  چین کے پیٹرن کی پیروی  کرکے خود کو بچا سکتا ہے۔ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا گیا تھا تشدد

جنتر منتر کے اجلاسوں کے بعد یتی نرسنہانند ہندو نوجوانوں کو بھڑ کانے کے ایک زیادہ بڑے پروگرام کے لیے اپنی توانائی جمع کرنے لگے۔

انہوں نے29 دسمبر کو ایک اہم اپیل کے لیے  ویڈیو بنایا، جس میں انہوں نے ‘ہندو شیروں’کو ایک اہم  دو روزہ  دھرم سنسد کے لیے غازی آباد میں اپنے ہیڈکوارٹر بلایا۔ انہوں نے کہا، ‘اگر آپ میری مدد نہیں کریں گے تو کچھ نہیں ہوگا۔’

‘میں تمام  ہندو نوجوانوں سے جہاں بھی میری آواز پہنچ رہی ہے، یہ اپیل کرتا ہوں کہ آپ 2 دن کی غازی آباد دھرم سنسد میں 12 اور 13 جنوری کو ضرور آئیں۔ یہ میری گزارش ہے۔ میرے بچوں، میرے شیروں کچھ نہیں ہوگا اگر آپ میری مدد نہیں کریں گے۔’

یہ دھرم سنسد، یا مذہبی جلسہ 12 اور 13 جنوری 2020 کو منعقدکیا گیا تھا اور اس میں ہندوتوا کے مفکرین کی جانب سےکئی اشتعال انگیز بیانات  دیے گئے تھے۔

‘ستیہ سناتن’یوٹیوب چینل کے ذریعے 16جنوری 2020 کو پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں یتی، انکر آریہ اور یتی مان چیتنا سرسوتی کو دکھایا گیا ہے، جو اس دھرم سنسد کی اہم تجاویز  اورپیغامات  پر بولتے ہیں۔

نرسنہانند نے کہا کہ ایک فیصلہ یہ ہے کہ ہندوؤں کوپولیس اور فوج  پرمنحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں اپنی مردانگی پر زور دینا چاہیے اور اپنی حفاظت کے لیے خود کام کرنا چاہیے۔ ہر ہندو کو زیادہ بچہ پیدا کرنے چاہیے اور ہر ہندو گھر میں ہتھیار ہونا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھرم سنسد نے ڈونالڈ ٹرمپ کی عزات افزائی کا عزم  لیا کیونکہ وہ اپنے گھروں میں دہشت گردوں  کو مارنے پر یقین کرتا ہے؛

‘ہماری دھرم سنسد نے یہ طے کیا ہے کہ ہم ڈونالڈ ٹرمپ کی عزات افزائی  کریں گے اور انہیں اگلی دھرم سنسد کی دعوت دیں گے۔ جس طرح سے وہ جہادیوں کو ان کے گھر میں گھس کر مار رہے ہیں یہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے اور ہم ٹرمپ کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔’

کیا یہ ٹرمپ کا ذکر اس آخری جنگ کے وقت کے بارے میں ایک چھپا ہوا پیغام  تھا جس کی بات یتی نرسنہانند دسمبر 2019 سے کر رہے تھے؟ کیا یہ صرف ایک اتفاق  تھا کہ نرسنہانند کے خیالات سے شدت پسند بنے ہندوتوا کے کارکنوں  نے اپنے ہیرو ٹرمپ کے ہندوستان دورے کے دوران مسلمانوں کو ان کے گھروں میں گھس کر نشانہ  بناکر ان عزت افزائی کی ؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف دہلی پولیس دے سکتی تھی اگر اس نے اصل سازش کی جانچ کی ہوتی۔

(فوٹو: رائٹرس)

(فوٹو: رائٹرس)

قتل کی کھلی اپیل

دہلی فسادات کی کرونالوجی میں یتی کی دھرم سنسد ایک بڑے ہی اہم واقعہ  کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ اس کا اصل پیغام  اس میں شامل ہونے والے سینکڑوں ہندو نوجوانوں کو یہ بتانا تھا کہ ان کے اصل دشمن مسلمان ہیں اور اس دشمن کو مارنا ہے۔

ستیہ سناتن چینل چلانے والے انکر آریہ نے اس پیغام  کے پہلے حصے کو بہت سیدھے طور پر سمجھایا: (8.00 منٹ سے)

‘گرو گووند سنگھ صاحب نے ایک بار یہ بات کہی تھی کہ سوا لاکھ سے ایک لڑاؤں، تب سے ہم ایک ہی بات سوچ رہے ہیں کہ پتہ نہیں یہ سوا لاکھ کون ہوں گے!  لیکن یتی نرسنہانند سرسوتی جی نے واضح لفظوں  میں بتایا کہ وہ سوا لاکھ کون ہیں، وہ سوا لاکھ کون جہادی ہیں، وہ سوا لاکھ کون ودھرمی ہیں۔

ہم ہمیشہ ججے میں ہی رہتے تھے۔ یہاں آکر ہمیں پتہ چلا کہ دھرم کی جئے ہو، ادھرم کا ناش ہو۔ ادھرم کے وشیہ میں کوئی نہیں بتاتا تھا۔ بہت بڑی بڑی دھرم سنسد ہوئیں لیکن کوئی نہیں بتاتا تھا کہ ادھرم ہے کیا!

سوامی جی نے واضح  طور پرکھلےلفظوں  میں بتایا کہ ادھرم کیا ہے۔ یہاں سے بچوں میں سمجھ آئےگی۔ لفظوں  کی جعلسازی جب کھیلی جاتی ہے تب بچوں کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کون سوا لاکھ ہیں جن کو گرو صاحب نے اس وقت  پر ان کے ساتھ لڑنے اور ان کو کاٹنے کی بات کہی تھی۔

پھر یتی نے اپنی قریبی ساتھی یتی ماں چیتنا سرسوتی کو آخری بات کہنے کے لیے مائیک دیا۔ اور انہوں نے جو کہا وہ بہت سارے لفظوں  میں قتل کے لیے ایک کھلا پیغام  تھا: (15:21 سے)

آج یہاں نرسنہانند سرسوتی جی، جو ہم سب کے گرو ہیں، ان کے توسط سے بھی یہی پیغام  ہے کہ اب ہتھیار لے کردشمن  کاقتل کرنے کاوقت آ گیا ہے، کیونکہ نر پشاچوں (شیطان )کا کال آپ تبھی بن سکتے ہیں جب آپ کے پاس ہتھیار ہوں اور آپ کے پاس دھرم کو اختیار کرنے کی اہلیت  ہو۔

تو میری اپیل ہے کہ جن لوگوں تک یہ بات پہنچ رہی ہے وہ اس بات کو دھیان سے سنیں اور سمجھیں کہ آج ان سے وقت کیا مانگ رہا ہے اور ان کو کیا قیمت  چکانی ہے۔

ان دھمکی بھرے پیغامات کےنشر ہونے کے ایک مہینے بعد شمال-مشرقی دہلی کی سڑکوں پر ‘قتل’ہوا۔ اور ان نوجوان شیروں کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ کون ہیں وہ لوگ جن سے جنگ کرنے کو کہا کہا گیا تھا، جنہیں کاٹنے کو کہا گیا تھا، اور جن کی آنکھیں پھوڑ دی جائیں گی۔

مسلمانوں کو جینے کا حق نہیں ہے

مگر نرسنہانند نے 22 فروری 2020 کو ایک آخری قتل عام والا پیغام  دیا، جو مسلم مخالف تشدد شروع ہونے سے ایک دن پہلے تھا – جہاں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان سے ایک دیگرہندوتوادی چینل کے رپورٹر نے پوچھا تھا کہ کیا ان کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ‘جیو اور جینے دو’ ہو سکتا ہے۔ (6:00 ‘سے)

‘اچھے لوگ جئیں اور اچھے لوگوں کو جینے دیں، لیکن جو ہمارے دشمن  ہیں، جو ہمارے دھرم کےدشمن  ہیں، جو ہمیں مٹانا چاہتے ہیں، جب تک ہم انہیں ختم نہیں کریں گے…یہ جو اسلام جیسی گندگی ہے اسے سماج سے مٹائیں گے نہیں تب تک ہم بچیں گے کیسے؟ جیو اور جینے دو صرف مہذب لوگوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ یہ غیرمہذب لٹیروں کے ساتھ نہیں ہو سکتا، یہ دہشت گردوں  کے ساتھ نہیں ہو سکتا یہ جہادیوں کے ساتھ نہیں ہو سکتا!

…لیکن ان لوگوں کو جینے کا کوئی حق نہیں ہے جن کا صرف ایک ہی مقصد ہے ہمارے بچوں کو مارنا ایسے لوگوں کو جینے کا حق نہیں دیا جا سکتا!’

حالانکہ فرقہ وارانہ تشدد کو اکسانا اپنے آپ میں ہی ایک جرم  ہے، یہ دیکھنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی پولیس جانچ کی ضرورت  ہے کہ کیا یتی نرسنہانند سرسوتی نے ہلاکتوں میں کوئی براہ راست رول  نبھایا تھا، جو ان کی اپیل  کے بعد ہوئیں۔

– ہم جانتے ہیں کہ ان کے قریبی ساتھی ، ہندو رکشا دل کے رہنما پنکی چودھری نے جے این یو پر ایک حملے کی ذمہ داری لی تھی۔

– ہم جانتے ہیں کہ یتی کے قریبی اور ہندو فورس کے دیپک سنگھ ہندو نے 23 فروری، 2020 کی صبح شمال-مشرقی دہلی کے موج پور چوک پر بھیڑ جمع کرنے کے لیے فیس بک پر ویڈیو کے ذریعے اپنے حامیوں  کوجمع ہو نے کی اپیل کی تھی۔ اسی دن بی جے پی رہنما کپل مشرا نے اسی جگہ اپنا بدنام زمانہ بیان  دیا تھا۔

– ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کم سے کم ایک دنگائی آر ایس ایس کارکن انکت تیواری، جسے ہم نے اپنی جانچ کے پہلےحصے میں دکھایا تھا – اس نے نرسنہانند کے پروگراموں میں حصہ  لیا تھا۔ وہ 25 دسمبر، 2019 کو جنتر منتر پر ہوئے پروگرام  میں بھی موجود تھا، جس میں یتی نے مسلمانوں کے خلاف تشدد کی  کھلی  اپیل کی تھی۔ انکت تیواری نے اپنے فیس بک پیج پر اسی اسپیچ  کا ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔

ہمارے انکشاف  کے پہلے حصے کے بعد سے تیواری نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ڈی ایکٹی ویٹ کر دیا ہے، لیکن ہم نے اس کے تمام  ویڈیو سیو کر لیے ہیں کہ  اگرپولیس کبھی اس کی جانچ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔

ہم نے اپنی جانچ میں جو کرونالوجی قائم  کی ہے، اس سے یہ صاف  ہوتا ہے کہ اصل  میں دسمبر 2019 کی شروعات سے ہی تشدد کرنے کی سازش ہو رہی تھی، اور یہ کہ اگلے دو مہینوں میں اس کی زمین تیار کی گئی۔ آخر میں فروری کے آخری  ہفتے میں بھیانک تشددبرپا ہوا، جس نے 53 لوگوں کی جان لے لی۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ سازش دہلی پولیس کونظر  نہیں آتی ۔

ہماری سیریز کے تیسرے حصہ میں ہم راگنی تیواری اور ان کے جیسے دیگر ہندوتوادی کارکنوں کے رول  کو دیکھیں گے اور یہ جانیں گے کہ راجدھانی دہلی میں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ پریوار کے بڑے سیاسی ایجنڈہ، فروری 2020 کے دنگے جس کا ایک اہم  حصہ ہیں، میں کیسے فٹ ہوتے ہیں۔

(اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)