کمبھ کے بجٹ کا صرف 0.1 فیصد بھی خرچ ہوتا تو 100 سے زائد مراٹھی اسکول بچائے جا سکتے تھے: سپریم کورٹ کے جج

سپریم کورٹ کے جج جسٹس پرسنا ورالے نے ناسک ضلع کے شیرپور میں اپنے سابق اسکول کے دورے کے دوران کہا کہ ریاستی حکومت کمبھ میلے پر 32,000 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ اس  کا صرف 0.1 فیصد، یعنی تقریباً 32 کروڑ روپے، تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو 100 - 150 سے زائد مراٹھی میڈیم اسکولوں کو بند ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس پرسنا ورالے نے ناسک ضلع کے شیرپور میں اپنے سابق اسکول کے دورے کے دوران کہا کہ ریاستی حکومت کمبھ میلے پر 32,000 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ اس  کا صرف 0.1 فیصد، یعنی تقریباً 32 کروڑ روپے، تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو 100 – 150 سے زائد مراٹھی میڈیم اسکولوں کو بند ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔

(علامتی تصویر: وکی میڈیا کامنز)

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے جج جسٹس پرسنا ورالے نے سنیچر 22 اگست کو مراٹھی میڈیم اسکولوں کی مسلسل خراب ہوتی صورتحال اور تعلیم کے لیے ضروری بنیادی سہولیات  کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے بروقت امداد اور خاطر خواہ  مالی وسائل دستیاب کرائے جاتے تو کئی اسکولوں کو بند ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ناسک ضلع کے شیرپور میں اپنے سابق اسکول کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر ہونے والے اخراجات کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے میں بھی خاطرخواہ سرمایہ کاری کی جانی چاہیے۔

مراٹھی زبان میں بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کمبھ میلے پر 32,000 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا،’حال ہی میں وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ حکومت کمبھ کے بنیادی ڈھانچے پر 34,000 کروڑ روپے اور ایک کوریڈور منصوبے پر 11,000 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ مجھے اس طرح کے اخراجات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن اگر کمبھ کے تقریباً 32,000 کروڑ روپے کے بجٹ کا صرف 0.1 فیصد، یعنی تقریباً 32 کروڑ روپے، تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو 100 – 150 سے زائد مراٹھی میڈیم اسکولوں کو بند ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔‘

ناسک میں سنگہستھ کمبھ میلہ اس سال اکتوبر میں شروع ہونے والا ہے۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، مہاراشٹر حکومت نے مرکزی حکومت کو بتایا ہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ نے 13 مارچ 2026 کو ہوئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس میں 22,425.39 کروڑ روپے کے جامع کمبھ میلہ ترقیاتی منصوبے کو منظوری دی ہے۔

ورالے نے رہائشی اسکولوں کی خراب حالت پر بھی تشویش  کااظہار کیا اور حال ہی میں ایک آشرم شالا میں اسکول میں طالبات کی موت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا،’میں نے پڑھا کہ ایک آشرم شالا میں فرش پر سو رہی تین طالبات کی سانپ کے کاٹنے سے موت ہو گئی، جبکہ ایک اور طالبہ کا علاج جاری ہے۔ کئی رہائشی اسکولوں کی حالت بہت خراب ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق تعلیم پر ہونے والے اخراجات میں اضافہ نہیں ہو سکا اور اسکولوں کو جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا،’یہ صورتحال اس وقت ہے جب طلبہ کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہر طالبعلم کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، انٹرایکٹو کلاس رومز، ڈیجیٹل اسکرین، کم عمری سے کمپیوٹر تک رسائی اور جدید لیبارٹریوں کی فوری ضرورت ہے۔‘

ورالے نے یہ بھی کہا کہ تعلیم کے لیے بجٹ میں مختص رقم، جو پہلے 8 سے 12 فیصد کے درمیان ہوا کرتی تھی، طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑھنے کے بجائے کم ہو گئی ہے۔