جے این یو نے آدی واسی حقوق سے متعلق عمر خالد کی کتاب پر ہونے والے مذاکرے کو رد کیا

07:30 PM Aug 10, 2026 | دی وائر اسٹاف

جے این یو نے قبائلی دن کے موقع پر سابق طالبعلم عمر خالد کی کتاب پر منعقد کیے جانے والے مذاکرہ کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا کہ یونیورسٹی کو پروگرام سے متعلق ’مکمل جانکاری‘ فراہم نہیں کی گئی تھی۔ وہیں، جے این یو طلبہ یونین نے انتظامیہ پر ’دوہرا معیار‘ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ جہاں اسکون کے زیر اہتمام منعقد کیے جانے والے پروگراموں کی میزبانی کرتی ہے، وہیں ’ایک جائز اکیڈمک بحث کے لیے جگہ دینے سے انکار‘ کر رہی ہے۔

عمر خالد کی کتاب پر مذاکرہ منعقد کرنے کے لیے جے این یو طلبہ یونین کی جانب سے تیار کیا گیا دعوت نامہ۔

نئی دہلی:  جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نے قبائلی دن کے موقع پر منعقد ہونے والے ایک مذاکرہ کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ پروگرام سے متعلق ’مکمل جانکاری‘ اس ڈین کو نہیں کی گئی تھی، جنہوں نے طلبہ کو پروگرام کے لیے آڈیٹوریم بک کرنے کی اجازت دی تھی۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’پروگرام کے بارے میں مکمل جانکاری فراہم نہ کیے جانے کے باعث ایس ایس ایس-1 آڈیٹوریم کی بکنگ رد کی جاتی ہے۔‘

اپنی پوسٹ میں جے این یو نے طلبہ کی جانب سے ایس ایس ایس-1 یعنی اسکول آف سوشل سائنسز کے آڈیٹوریم میں پروگرام منعقد کرنے کے لیے جمع کرایا گیا فارم بھی شیئر کیا۔ فارم میں ’مقصد‘ کے خانے میں درخواست گزار نے لکھا تھا، ’قبائلی دن کے لیے کتاب پر مذاکرہ‘۔

فارم سے معلوم ہوتا ہے کہ پروگرام کو قبائلی دن کے بعد پہلے ورکنگ ڈے، 10 اگست کو منعقد کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

یونیورسٹی نے ایکس پر جے این یو طلبہ یونین (جے این یو ایس یو) کی جانب سے بھیجا گیا دعوت نامہ بھی شیئر کیا، جس میں کتاب اور پروگرام میں شرکت کرنے والے مہمانوں کی تفصیلی معلومات دی گئی تھیں۔ اس میں جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد کی کتاب ’فریکچرڈ کمیونٹیز: آدی واسی ہسٹریز اینڈ دی پالیٹکس آف پاور‘کا سرورق بھی شامل تھا۔

قابل ذکر ہے کہ 2026 میں شائع ہونے والی اس کتاب پر گزشتہ چند ہفتے میں بڑے پیمانے پر بحث اور تبصرے ہوئے ہیں۔ خالد نے 2018 میں اسے اپنی پی ایچ ڈی تھیسس کے طور پر اسی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں جمع کرایا تھا، جسے شعبے نے قبول کر لیا تھا۔ بعد میں خالد نے اسے کتاب کی صورت میں شائع کیا۔

دعوت نامے کے مطابق، ایس ایس ایس-1 میں ہونے والی اس نشست میں طلبہ کے علاوہ مؤرخین پربھو مہاپاترا اور اوما چکرورتی، فن کار شدھ ورت سین گپتا، سماجی کارکن ہرش مندر اور اسکالر بانو جیوتسنا لاہڑی بھی شرکت کرنے والے تھے۔

ایکس پر پوسٹ کی گئی دو تصویروں کے ذریعے یونیورسٹی انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ کتاب پر مذاکرہ کے لیے آڈیٹوریم بک کرنے کی درخواست والے فارم میں مصنف کا نام درج نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اگر یونیورسٹی کو معلوم ہوتا کہ بحث خالد کی کتاب پر ہے تو پروگرام کی اجازت نہیں دی جاتی۔

انتظامیہ نے ایکس پوسٹ کے ساتھ ایک پیغام بھی شامل کیا، جس میں لکھا ہے؛ ’جے این یو ایک جمہوری اور ڈی سینٹرلائزڈ ادارہ ہے۔ اجازت ایس ایس ایس کے ڈین نے دی تھی، جنہوں نے پروگرام رد کرنے کی کارروائی بھی کی ہے۔‘ دوسرے لفظوں میں، آڈیٹوریم کے استعمال کی اجازت اسی پروفیسر کی جانب سے واپس لی جا رہی ہے جنہوں نے پہلے اسے منظوری دی تھی۔

وہیں، جے این یو ایس یو نے ایک بیان میں کہا، ’اس پروگرام کے لیے جگہ رد کرکے جے این یو انتظامیہ نے ایک بار پھر اپنے طلبہ مخالف اور دانش ورانہ سوچ مخالف ایجنڈے کو اجاگرکیا ہے، جو اس آزادانہ مباحثے اور ڈسکورس کو فروغ دینے کے بجائے تنقیدی سوچ کو دبانے اور اختلاف رائے کی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کی حفاظت کرنا کسی بھی یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے۔‘

بیان میں انتظامیہ پر ’دوہرا معیار‘ اپنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ جے این یو ایس یو نے کہا کہ انتظامیہ ایک ہندو تنظیم، اسکون، کی جانب سے منعقد کیے جانے والے پروگراموں کی میزبانی کرتی ہے، جبکہ ’ایک جائز اکیڈمک بحث کے لیے جگہ فراہم کرنے سے انکار‘ کر رہی ہے۔

طلبہ یونین نے کہا کہ آڈیٹوریم بک کرنے کے لیے اجازت کا فارم مقررہ قواعد کے مطابق بھرا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا، ’تاہم، یہ بات واضح رہے؛ کمرہ رد کرنے سے بات چیت ردنہیں ہوتی۔‘

غور طلب ہے کہ عمر خالد ستمبر 2020 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ وہ اسی سال فروری-مارچ میں شمال-مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں مبینہ کردار کے الزام میں ’بڑی سازش‘ کے معاملے میں زیر سماعت قیدی ہیں۔