مبینہ طور پر آرمی ٹرک سے ہوئے حادثے کا ویڈیو بنانے والے شخص پر پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج

جموں وکشمیر کے باندی پورہ ضلع کے ندیہال گاؤں کا معاملہ۔ الزام ہے کہ گزشتہ14 جولائی کو بشیر احمد بھٹ نام کے نوجوان نے اپنی دکان کے باہرآرمی ٹرک سے ایک بزرگ خاتون کو کچلے جانے کےواقعہ کا ویڈیو بنایا تھا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔ اسی ویڈیو کی وجہ سے بشیر کو حراست میں لےکر اس پر این ایس اے لگایا گیا ہے اور جموں کی جیل میں بھیج دیا گیا ہے۔

جموں وکشمیر کے باندی پورہ ضلع کے ندیہال گاؤں کا معاملہ۔ الزام ہے کہ گزشتہ14 جولائی کو بشیر احمد بھٹ نام کے نوجوان نے اپنی دکان کے باہرآرمی ٹرک سے ایک بزرگ خاتون  کو کچلے جانے کےواقعہ  کا ویڈیو بنایا تھا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔ اسی ویڈیو کی وجہ سے بشیر کو حراست میں لےکر اس پر این ایس اے لگایا گیا ہے اور جموں کی جیل میں بھیج دیا گیا ہے۔

بشیر احمد بھٹ۔ (فوٹوبہ شکریہ، ارجمند شاہین)

بشیر احمد بھٹ۔ (فوٹوبہ شکریہ، ارجمند شاہین)

 جموں وکشمیر کے باندی پورہ  ضلع کے ندیہال علاقے میں مبینہ طور پرآرمی ٹرک سے ایک بزرگ خاتون کو کچلے جانے کےواقعہ  کا ویڈیو بنانے والے کشمیری نوجوان  پر پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس اے)کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

نوجوان کی پہچان 35سالہ بشیر احمد بھٹ کے طورپر ہوئی ہے اور وہ ندیہال میں ایک دکان چلاتے ہیں۔ ان کی فیملی  کا الزام ہے کہ بشیر کے خلاف پی ایس اے کے تحت معاملہ درج کر کےانہیں جموں کی ایک جیل میں اس لیے شفٹ کیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے ایک حادثے کا ویڈیو بنا لیا تھا، جس میں ایک بزرگ خاتون  کو ایک آرمی ٹرک نے کچل دیا تھا اور ان کی موت ہو گئی تھی۔

جانکاری کےمطابق، یہ حادثہ14جولائی2021کو بشیر احمد بھٹ کی دکان کے سامنے اس وقت ہوا تھا، جب آرمی ٹرکوں کا قافلہ ندیہال گاؤں سے گزر رہا تھا۔اس واقعہ کے بعد مبینہ طور پر تشدد بھڑ کانے، نوجوانوں کو اکسانے اور جائےحادثےکے پاس نعرےبازی کرنے کے الزام میں بشیر کو بھی دیگرسات لوگوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

حالانکہ بشیر سمیت سبھی آٹھ لوگوں کو پندرہ دن بعد ضمانت مل گئی تھی، لیکن پولیس نے کچھ قانونی کارروائیاں پوری کرنے کا حوالہ دےکر بشیر کو تھوڑی زیادہ دیر تک حراست میں رکھا لیکن اسی دن ان پر این ایس اے کے تحت معاملہ درج کیا اور اسے جموں کی ایک جیل میں شفٹ کر دیا گیا۔

اہل خانہ نے کہا، نوجوان  نے نعرےبازی نہیں کی

پولیس نے بشیر پر اپنی رپورٹ میں کہا، جائےحادثے پر پہنچ کر پولیس کو پتہ چلا کہ کچھ لوگ پاکستان کی حمایت میں اور ہندوستا ن  کے خلاف نعرےبازی کر رہے تھے۔ پولیس کو اطلاع  ملی تھی، جس سے پتہ چلا کہ بشیر ان ملزمین میں شامل تھا، جنہوں نے نعرےبازی کی تھی۔

حالانکہ بشیر کے اہل خانہ  نے ان ملزمین سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بشیر کو حراست میں لیا گیا، کیونکہ انہوں نے حادثےکا ایک ویڈیو بنایا تھا۔

بشیر کے ایک رشتہ دار نے پہچان اجاگر نہیں کرنے کی شرط پر بتایا،‘اس حادثے کے کچھ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے تھے۔ ان میں ایک ویڈیو بشیر نےشوٹ کیا تھا اور اسے اسی ویڈیو کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔ پولیس اس کی دکان پر آئی اور اسے پکڑکر لے گئی۔ پولیس نے کہا کہ انہیں کچھ چیزوں کی جانچ کرنی ہے، اسے بعد میں رہا کیا جائےگا، لیکن اسے رہا نہیں کیا گیا۔’

بشیر کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں تب تک پی ایس اے کی دفعہ کا نہیں پتہ تھا، جب تک بشیر نے ایک دوسرے شخص کے فون سے کال کر کےنہیں بتایا کہ اسے جموں شفٹ کر دیا گیا ہے اورپی ایس اے لگایا گیا ہے۔

بشیر کی بیوی  شمیمہ نے کہا، ‘تب سے ہمیں اس کے ٹھکانے اورخیروعافیت کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔’

بشیر کے اہل خانہ  کے ممبروں  اور گاؤں والوں  کا کہنا ہے کہ بشیر کا پتھراو اور ایف آئی آر یا پریشانی پیدا کرنے والی امیج  کی کوئی تاریخ  نہیں ہے۔

حقیقت میں پولیس کی14جولائی کی رپورٹ میں ندیہال علاقے کے چوکیدارعلی محمد غنی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بشیر نے علاقے میں امن وامان کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔ حالانکہ غنی نے دی وائر کو بتایا کہ بشیر نے جائےحادثے پر کسی طرح کی ملک مخالف نعرےبازی نہیں کی تھی اور وہ بے قصور ہیں۔

غنی نے کہا،‘انجانے میں اور نتائج سے انجان بشیر نے واقعہ  کا ویڈیو شوٹ کر لیا تھا جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، لیکن جہاں تک مجھے پتہ ہے، انہوں نے وہاں کوئی نعرےبازی نہیں کی تھی۔’

بشیر کی بیوی  شمیمہ نے بتایا،‘بشیر کو ان کے ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔وہ نعرےبازی نہیں کر رہے تھے۔ وہ صرف حادثے کے بارے میں بتا رہے تھے۔انہیں جیل میں ڈال دیا گیا اور انتقام کی وجہ سےپی ایس اے لگا دیا گیا۔ اس طرح کے حادثےکے ہزاروں ویڈیو روزانہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہیں۔ صرف میرے شوہر پر ہی ویڈیو بنانے کے لیے معاملہ درج کیوں کیا گیا۔’

کھانے  کے لیےجدوجہد

بشیر کے جیل میں ہونے کی وجہ سے شمیمہ اور ان کے دو چھوٹے چھوٹے بچہ دو وقت کی روٹی تک کے لیے مشقت کر رہے ہیں۔ بشیر گھر کے واحدکمائی کرنے والے شخص تھے اور انہوں نےدکان کے لیےحال ہی میں بینک اوردوسرےکاروباریوں سے 35 لاکھ روپے کا قرض لیا تھا۔ جب سے انہیں گرفتار کیا گیا ہے، ان کی دکان بند ہے۔

شمیمہ نے کہا،‘مجھے ایک بچہ کو اپنا دودھ پلانا پڑتا ہے، لیکن لیکن کئی بار کھانا نہیں مل پاتا۔ کئی بار پڑوسی اور رشتہ دار تھوڑا بہت کھانا لے آتے ہیں۔ میرا اور میرے بچوں کا دھیان رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ میں اپنے شوہر کے بنا نہیں چلا سکتی۔’

بشیر اور شمیمہ کے چار سال کے بیٹے کو کوئی اندازہ نہیں ہے کہ ان کے والد جیل میں ہیں۔

شمیمہ کہتی ہیں،‘جب وہ بشیر کے بارے میں پوچھتا ہے تو مجھے کہنا پڑتا ہے کہ ان کے والدکسی کام کے لیے جموں گئے ہیں اور اس کے لیے کھلونے لےکر لوٹیں گے۔’

یہاں تک کہ عید(21 جولائی)پر بھی شمیمہ اور ان کےدونوں بچہ بھوکے تھے۔ شمیمہ نے کہا، ‘میرے اور میرے بچوں کے لیے عید کسی جنازے سے کم نہیں تھی۔’

اراگم پولیس تھانے کے ایس ایچ او جاوید احمد کوکا نے اس معاملے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے دی وائر کو بتایا کہ بشیر کو احتیاط کے طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں بس اتنا ہی کہنے کی اجازت ہے۔

وکیل ہبیل اقبال کے مطابق، کشمیر میں کافی لمبے وقت سےپی ایس اے کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سےبے قصور لوگوں کی آوازوں کو دبانے کے لیےپی ایس اے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

انڈین ایکسپریس میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق،جموں وکشمیر کے سرکاری اعدادوشمار سے پتہ چلا ہے کہ 2019 میں699 لوگوں کوپی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ 2020 میں160لوگوں پرپی ایس اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا اور اس سال جولائی کے اواخر تک لگ بھگ 95 لوگوں کوپی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا۔ ان سبھی لوگوں میں284 لوگ ابھی بھی حراست میں ہی ہیں۔

بتا دیں کہ بنیادی طور پرپی ایس اے کے تحت بندیوں کو جموں وکشمیر کے اندر ہی رکھا جاتا ہے لیکن اگست 2018 میں قانون میں ترمیم کے بعد سے اس کے تحت حراست میں لیے گئے لوگوں کو جموں وکشمیر سے باہر بھی شفٹ کیا جا سکتا ہے۔

شمیمہ وکیل کی خدمات  لینے اور جموں جاکر جیل میں بند اپنے شوہر سے ملنے کی مالی حالت میں نہیں ہیں۔

وہ کہتی ہیں،‘میں اس لڑائی کو لڑنے اور جموں جانے کی مالی حالت میں نہیں ہوں۔ میں انتظامیہ سےانسانی بنیادوں پر اپنے شوہر کو رہا کرنے اور انہیں کشمیر میں ہی کسی جیل میں شفٹ کرنے کی درخواست کرتی ہوں تاکہ میں اور میرے بچےکم از کم انہیں دیکھ تو سکیں۔’

(اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں)